ایم کیو ایم اور تحریک انصاف میں مذاکرات کا اگلا دور 30 جولائی کو ہو گا

23 جولائ 2019

ای میل

تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین اور ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں— اسکرین شاٹ: ڈان نیوز
تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین اور ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں— اسکرین شاٹ: ڈان نیوز

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے قومی اسمبلی میں اپنی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیو ایم پاکستان) کے رہنماؤں سے ملاقات کی جس میں دونوں جماعتوں کے درمیان اہم سیاسی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران جہانگیر ترین نے دونوں سیاسی جماعتوں کے درمیان ہونے والے اختلافات پر بات چیت کی اور اس دوران ملکی سیاسی صورتحال پر بھی گفتگو کی گئی۔

کراچی میں ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے سینئر رہنما نے کہا کہ دونوں فریقین بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے پر آمادہ ہو گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں بات چیت کا اگلا دور 30جولائی کو اسلام آباد میں منعقد ہو گا اور اس دوران اختلافات کا سبب بننے والے تمام تر نکات پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔

جہانگیر ترین نے کہاکہ ہم نے تمام اتحادی جماعتوں سے گفتگو کے لیے ایک کمیٹی قائم کردی ہے جبکہ خالد مقبول صدیقی سے بھی کہا ہے کہ وہ پی ٹی آئی سے رابطے کے لیے اپنی جماعت کے اندر بھی ایک کمیٹی بنا لیں۔

کراچی کو درپیش مسائل کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم پہلے سال کے دوران سابقہ حکومتوں کے پیدا کردہ مسائل سے نمٹنے میں مصروف تھے اور اب ہم کراچی پر توجہ دیں گے۔

جہانگیر ترین نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت شہر قائد کے حوالے سے ایم کیو اہم پاکستان کی تمام جائز خواہشات پوری کرے گی، میری کراچی کے اراکین اسمبلی سے دو گھنٹے طویل ملاقات ہوئی جس میں صرف کراچی کے مسائل پر گفتگو ہوئی۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال 25جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں ایم کیو ایم پاکستان نے 6 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی اور اور اس نے مرکز میں حکومت کے قیام میں تحریک انصاف کی حمایت کرتے ہوئے حکمران جماعت کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

مرکز میں حکومت کے قیام میں حمایت کرنے پر تحریک انصاف نے کراچی کے لیے خصوصی وفاقی پیکج کا وعدہ کیا تھا جس میں شہر قائد کے باسیوں کے لیے پانی کی فراہمی پر خصوصی طور پر زور دیا گیا تھا۔

اس کے ساتھ ساتھ حکمران جماعت نے سندھ پولیس میں اصلاحات، حیدرآباد میں یونیورسٹی کے قیام اور ایم کیو ایم کی شناخت تصور کیے جانے والے حلقوں میں آڈٹ کا بھی وعدہ کیا تھا۔

تاہم دونوں جماعتوں کے درمیان یہ اتحاد اس وقت کھٹائی میں پڑتا نظر آیا جب گزشتہ ماہ تک ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما حکومت کے خلاف سخت لب و لہجے میں گفتگو کرتے نظر آئے جس کے بعد حکومت نے ایم کیو ایم کو وفاق میں ایک اور وزارت دے دی تھی۔