امریکا کی باوقار شکست اور ہم

ای میل

امریکا میں سِٹ ڈاؤن کامیڈی کا تصور ابھی تک قائم و دائم ہے، جس کا ثبوت صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 22 جولائی کو ہمارے وزیراعظم عمران خان کے ساتھ اوول آفس میں استقبالی ملاقات کے دوران خوب انداز میں دیا۔

صدر ٹرمپ اپنے اسٹاف کی تیار کردہ اسکرپٹ پڑھ کر آئے تھے۔ انہوں نے اسکرپٹ کی شہہ سرخیاں اور پنچ لائنز تو رٹ لی تھیں لیکن اس کے بیچ کا مواد ذہن نشیں نہ کرپائے۔ مثلاً، امدادی رقم کے لیے 1.3 ارب ڈالر کے ہندسے اچانک ہی ان کے ذہن میں امڈ آئے۔ لیکن اس کا ذکر کرتے ہوئے وہ یہ بھول بیٹھے کہ یہ رقم امداد نہیں بلکہ کولیشن سپورٹ فنڈز کی صورت میں افغانستان میں جاری آپریشن اینڈیورنگ فریڈم میں ہمارے کردار کے باعث ملنے والی رقم تھی۔

انہوں نے یہ ضرور یاد رکھا کہ عمران خان ایک ’مقبول لیڈر‘ ہونے کے ساتھ ساتھ ’ایتھلیٹ‘ بھی ہیں۔ بعدازاں جب سے وہ صدر بنے ہیں تب سے پاک امریکا تعلقات کے اتار چڑھاو پر اپنی طرف سے باتیں بولتے ہی چلے گئے۔

عمران خان کو اس وقت بے حد بیزاری سے گزرنا پڑا ہوگا جب ان کے میزبان نے وہاں موجود لوگوں کو پہلے سے دیے گئے پاک امریکا تعلقات سے غیر متعلقہ سوالات کے ایک کے بعد ایک جواب دیتے ہوئے دن کے نہایت اہم لمحات برباد کردیے بلکہ ان سوالوں کے موضوعات 4 نافرمان کانگریس خواتین ارکان، ایران کے ساتھ تناؤ کی صورتحال، پورٹو ریکو کو دی جانے والی 92 ارب ڈالر کی امریکی امداد اور اسے کھا جانے والے کرپٹ سیاستدانوں کے گرد گھومتے رہے۔

ایک بار پھر ان کے ذہن کی کھڑکی میں 1.3 ارب ڈالر کی چڑیا آ بیٹھی اور وہ فوراً ہی پورٹو ریکو کو دی جانے والی امداد کا موازنہ پاکستان کو دیے جانے والے 1.3 ارب ڈالر (’پی نٹس‘، (انتہائی قلیل رقم)، یاد ہے صدر ضیاء نے ایک بار امریکی امداد کو پی نٹس کہا تھا۔) سے کر بیٹھے۔ ان کے اس موازنے سے عمران خان کو پاکستان میں کرپشن کے خاتمے اور اپنی اپنی مدت میں اسی اوول آفس میں گرم جوش استقبالیے کا شرف حاصل کرنے والے پاکستانی سیاستدانوں سے لوٹے ہوئے پیسے واپس لینے کے حوالے سے اپنی کوششوں پر مفصل انداز میں گفتگو کرنے کا اچھا موقع ثابت ہوسکتا تھا۔

ان 2 آدمیوں کے درمیان گرم جوشی سے بھرپور ہم آہنگی تو سبھی نے دیکھی ہوگی، ایک طرف مشکل میں گھرا لیکن پھر بھی فری ورلڈ کے طاقتور اور خوداعتمادی سے بھرپور رہنما بیٹھا تھا تو دوسری طرف چوتھی دنیا کے غریب لیکن ایٹمی طاقت سے لیس ملک کا خوش اخلاق رہنما براجمان تھا۔ دونوں ہی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ یا دفترِ خارجہ کی تیار کردہ بریفنگ دستاویزات کے بغیر اپنی اپنی کرشماتی شخصیت کے بل بوتے پر تنِ تنہا ملاقات میں محو پرواز نظر آئے۔

ملاقات میں اچانک صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ انہیں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے چند ہفتے قبل پوچھا تھا کہ وہ جموں و کشمیر کے مسئلہ پر ’ثالث یا سہولت کار‘ میں سے کس حیثیت میں اپنا کردار کرنا چاہیں گے۔ اس انکشاف پر عمران خان نے اگلے ہی لمحہ میں کہا کہ اگر ٹرمپ اس مسئلے کو حل کروانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو ایک ارب سے زائد ہندوستانی اور پاکستانی ان کے نہایت احسان مند ہوں گے۔ البتہ ٹرمپ نہ تو 1972ء کے شملہ معاہدے اور نہ ہی 1999ء کے لاہور اعلامیے سے زیادہ آشنا نظر آئے۔

ممکن ہے کہ بات اتنی سادہ نہ ہو جتنی کہ ہم سمجھ رہے ہیں، بہرحال صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم عمران خان کی ایک دوسرے کے لیے کشادہ دلی انتہا پر تھی۔ جو کسر رہ گئی تھی وہ میلینا ٹرمپ صاحبہ کی دنیا میں (شاید کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈیو کے علاوہ) سب سے زیادہ خوبرو وزیراعظم کے ساتھ تصاویر کھنچوانے کے سلسلے میں ہونے والی آمد پر پوری ہوگئی۔

کیا یہ کشادہ دلی عمران خان کے لیے ڈھیروں یادگار لمحات کا باعث بنے گی؟ کیا عمران خان اپنے نہایت دوستانہ رویہ روا رکھنے والے امریکی صدر سے متعدد مطالبات کی تکمیل کے ساتھ پاکستان لوٹیں گے؟

واشنگٹن کا دورہ کرنے والے عمران خان کے ہمراہ وفد میں خاکی رنگ کی آمیزش سے تو سبھی واقف ہیں۔ پینٹاگون نے اپنے فوجی ہم منصب سے اپنے طور پر گفتگو کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ قوی امکان ہیں کہ ان کے ایجنڈا کی ترجیح افغانستان سے اتحادی فوجوں کا دھیرے دھیرے اور محفوظ انخلا ہی رہا ہوگا۔ امریکا کو امید ہے کہ یہ ان کی باوقار شکست ثابت ہوگی۔ جب ویتنام، لاؤس، کمبوڈیا اور حال ہی میں مشرق وسطیٰ میں اپنی مہمات ختم کیں تب بھی یہی سوچا گیا تھا۔

مؤرخین تاریخ لکھتے وقت یہ تجزیہ ضرور کریں گے کہ آخر کیوں امریکا کو زبردست فوجی قوت اور تباہ کن گولہ بارود (یاد کیجیے کس طرح ٹرمپ نے عمران خان کو اتراتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں چاہوں تو ایک ہفتے میں افغانستان کا خاتمہ کرسکتا ہوں‘) دستیاب ہونے کے باوجود 1945ء سے اب تک کے ہر تنازع کو زخمی حالت میں چھوڑ کر جانا کیوں پڑا۔ وہ زمانہ گیا کہ جب ایک امریکی (ایلن ڈیولس) ایران میں وزیر اعظم مصدق کے خلاف بغاوت پیدا کرکے رضا شاہ پہلوی کو امریکی کٹھ پتلی کے طور پر تخت پر براجمان کروانے میں کامیاب ہوجاتا تھا۔

موجودہ وقت کی بات کریں تو صدر ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا کے موجودہ رہنما نکولس مادورو کی جگہ باغی رہنما جوآن گوائیڈو کے حق میں حمایت بالکل بے اثر نظر آتی ہے۔ اس کے علاوہ تذبذب کے شکار ٹرمپ نے اپنی تمام تر محبتوں کا قبلہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کو بنایا ہوا ہے۔

9/11 سے لے کر اب تک پاکستان امداد اور فوجی ادائیگیوں کی صورت میں 30 ارب ڈالر سے زائد رقم وصول کرچکا ہے۔ (امریکا میں مقیم پاکستانی ہر سال اوسطاً محض 25 لاکھ ڈالر پاکستان بھیجتے ہیں۔) ایک بار جب امریکا اور اس کے اتحادیوں کی افغانستان میں مہم ختم ہوجائے گی تو پھر امریکا کے ساتھ ہمارے تعلقات کی کیا قدر و قیمت رہ جائے گی؟ امریکا سعودی ایران کے درمیان کشیدگی میں ہم کس کا ساتھ دیں گے؟

ویسے آج کل تاریخ کی مثالوں کا جائزہ لینے کا زیادہ رواج نہیں ہے لیکن دسمبر 1949ء میں چیئرمین ماؤژی تنگ اور کامریڈ اسٹالن کے درمیان ہونے والی گفتگو میں سیکھنے کے لیے بہت کچھ مل جاتا ہے۔ ماؤ نے اسٹالن سے پوچھا کہ عالمی امن کب تک برقرار رکھا جاسکتا ہے؟ اسٹالن نے دُور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ، چین کو ’کسی قسم کا فوری خطرہ لاحق نہیں ہے۔ جاپان کو اپنے پیروں پر کھڑے ہونے میں ابھی وقت ہے اس لیے وہ جنگ کرنے کی حالت میں نہیں ہے۔ امریکا جنگ جنگ چلاتا رہتا ہے لیکن اسے جتنا ڈر جنگ سے لگتا اتنا کسی چیز سے نہیں لگتا۔‘

تو کیا اب ہم ایک پُُرامن نسل کے حقدار نہیں ہیں؟

یہ مضمون 25 جولائی 2019ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔