ایف بی آر کا ایک لاکھ نان فائلرز کو نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 28 جولائ 2019

ای میل

شبر زیدی سینئر چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ اور ماہر ٹیکس امور ہیں — فائل فوٹو: اسکرین گریب / یوٹیوب
شبر زیدی سینئر چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ اور ماہر ٹیکس امور ہیں — فائل فوٹو: اسکرین گریب / یوٹیوب

اسلام آباد: مالی سال 2018 کے ٹیکس ریٹرنز جمع کروانے کے لیے ایک ہفتے سے بھی کم وقت باقی ہے اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اُن ایک لاکھ نان فائلرز کو نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے جو 5 ہزار مربع گز سے زائد کے مکان یا ایک ہزار سی سی سے زائد انجن کی حامل گاڑیوں کے مالکان ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایف بی آر کے چیئرمین شبر زیدی نے بتایا کہ 'ہم ان تمام افراد کو نوٹس جاری کریں گے جنہیں انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت ٹیکس ریٹرنز جمع کروانے چاہیئں'۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ٹیکس ریٹرنز کے لیے متعدد مرتبہ حتمی تاریخ میں اضافہ کیا ہے اور آخری مرتبہ ریٹرنز جمع کروانے کے لیے 2 اگست کی تاریخ دی گئی جبکہ اس کے علاوہ اثاثے ظاہر کرنے کے لیے بھی متعدد مرتبہ حتمی تاریخ میں اضافہ کیا گیا۔

مزید پڑھیں: ایف بی آر نے ری فنڈ دعووں کے طریقہ کار آسان بنانے کے لیے نئے قوانین تیار کرلیے

انہوں نے کہا کہ 'ہم نے ان نان فائلرز کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے'۔

اس وقت تک 21 لاکھ افراد نے اپنے ٹیکس ریٹرنز جمع کروائے ہیں، جو ایف بی آر کی تاریخ میں سب سے زیادہ تعداد ہے جبکہ ایف بی آر کا ادارہ مذکورہ تعداد کو رواں سال 2019 میں 40 لاکھ تک بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ایف بی آر کی جانب سے پہلے ہی سے 80 لاکھ سے ایک کروڑ افراد کے اعداد وشمار جمع کیے جاچکے ہیں جن کے پاس 5 ہزار مربع گز سے زائد کا مکان یا ایک ہزار سی سی سے زائد انجن کی حامل گاڑی اور ملک کے مختلف علاقوں میں بینک اکاؤنٹس موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر کی موٹر سائیکل،آٹو رکشہ پر ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی خبروں کی تردید

مذکورہ اعدادوشمار مختلف مراحل میں مذکورہ افراد کو نوٹسز جاری کرنے کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔

چیئرمین ایف بی آر کا مزید کہنا تھا کہ حکومت مناسب سطح تک انکم ٹیکس ریٹرنز میں اضافہ کرنا چاہتی ہے اور تمام ریجنل ٹیکس افسران (آر ٹی اوز) کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان افراد کو نوٹس جاری کریں جن کے نام پر انڈسٹریل یا کمرشل یوٹیلیٹی بل جاری کیے جاتے ہیں۔

مختلف یوٹیلیٹیز ترسیل کرنے والی مختلف کمپنیوں سے پہلے ہی درخواست کی جاچکی ہے کہ وہ ایسے افراد کی نشاندہی کریں اور اس کے ساتھ ہی صارفین سے یہ درخواست بھی کی گئی ہے کہ وہ اصل صارف کے نام پر بل کو تبدیل کروائیں، یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ متعدد بلز ایک ہی صارف کے نام پر جاری ہوتے ہیں۔