بندرگاہوں پر اشیا کا غلط ریکارڈ، چین کا ایف بی آر کی مدد کا اعلان

30 جولائ 2019

ای میل

اشیا کی غلط ظاہر کیے گئے ریکارڈ 3 طرح کے ہوتے ہیں جن میں اشیا کی قیمت، تعداد اور وزن شامل ہے۔ —
اشیا کی غلط ظاہر کیے گئے ریکارڈ 3 طرح کے ہوتے ہیں جن میں اشیا کی قیمت، تعداد اور وزن شامل ہے۔ —

اسلام آباد: پاکستان اور چین نے ملک میں بندرگاہوں پر اشیا کا غلط ریکارڈ پیش کیے جانے پر قابو پانے کے لیے معاہدہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب حکومت محکمہ کسٹمز میں کرپشن پر قابو پانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وفاقی بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) کے چیئرمین شبر زیدی کا کہنا تھا کہ 'ہم نے پاکستانی سفیر برائے چین نغمانہ ہاشمی کو مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کا اختیار دے دیا ہے'۔

مزید پڑھیں: ایف بی آر نے ری فنڈ دعووں کے طریقہ کار آسان بنانے کے لیے نئے قوانین تیار کرلیے

مفاہمتی یادداشت کا ڈرافٹ چین کی ریاستی انتظامیہ برائے ٹیکسز نے تیار کیا جس کے تحت اسلام آباد اور بیجنگ دونوں کے ٹیکس اتھارٹی اپنا ڈیٹا کا تبادلہ کریں گی جس سے وہ ایک دوسرے کی حکمت عملی سے سیکھ سکیں گی۔

غلط ریکارڈ ظاہر کرنے پر قابو پانے میں چین بہت آگے نکل چکا ہے، اندازوں کے مطابق ایک وقت میں چینی بندر گاہوں پر غلط ریکارڈ 7 سے 8 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ گئے تھے تاہم اب یہ تعداد بہت کم ہوگئی ہے۔

اشیا کے غلط ظاہر کیے گئے ریکارڈ 3 طرح کے ہوتے ہیں جن میں اشیا کی قیمت، تعداد اور وزن شامل ہے اور اس کے ذریعے غلط استثنیٰ بھی حاصل کیا جاتا ہے۔

ایف بی آر کے چیئرمین نے ڈان کو بتایا کہ پیش کیے گئے معاہدے کے تحت چین پاکستان کے لیے اپنی بر آمدات کی معلومات موقع پر ہی فراہم کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر کا ایک لاکھ نان فائلرز کو نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ

شبر زیدی کا کہنا تھا کہ 'حکومت سے حکومت کے درمیان اس تعاون سے غلط ظاہر کیے گئے ریکارڈ پر کنٹرول پانے میں مدد ملے گی'۔

سینیئر کسٹمز آفیسر نے ڈان کو بتایا کہ مارکیٹوں میں غلط ریکارڈ ظاہر کیے گئے در آمد شدہ اشیا کی بھرمار ہے، محکمہ کسٹمز کی اندرونی سطح پر نظر ثانی سے معلوم ہوا کہ زیادہ تر چین سے درآمد شدہ اشیا کی قیمت بڑے فرق سے غلط ظاہر کی جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'کسٹمز افسران کی اجازت کے بغیر اشیا کی مارکیٹوں تک پہنچنا ناممکن ہے'۔

شبر زیدی کا کہنا تھا کہ 'ہم اس دیمک کا خاتمہ خودکار نظام لاکر کریں گے، یہ غیر قانونی اشیا ملک بھر میں ہر مارکیٹ میں فروخت ہوتی ہیں'۔

چیئر مین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ 'چین پاکستان کو سہ ماہی بنیاد پر فری ٹریڈ معاہدے کے اندر آنے والے بہت کم مصنوعات پر ڈیٹا فراہم کر رہا ہے، ہمیں غلط ظاہر کیے گئے ریکارڈ کا موقع پر ہی ڈیٹا کی ضرورت ہے'۔

ایف بی آر نے غلط ریکارڈ کے خلاف کارروائی کا آغاز ویب سائٹ پر بنے ون کسٹمز سسٹمز گلو کا جائزہ لینے کے بعد کیا تھا۔

ڈیٹا کے مطابق 69 ہزار اشیا کے ریکارڈ میں سے 62 فیصد میں کی ظاہر کی گئی قیمت اور اندازاً قیمت میں فرق نظر آیا۔

دوسری جانب 21 فیصد تک غلط ریکارڈ وزن اور تعداد میں فراہم کی گئی تھی۔