بجلی کے 32 لاکھ صارفین کا انکم اور سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ نہ ہونے کا انکشاف

اپ ڈیٹ 31 جولائ 2019

ای میل

ملک میں محض 26 ہزار 512 صنعتی صارفین نے ایس ٹی آر این حاصل کیا ہوا ہے—تصویر شٹر اسٹاک
ملک میں محض 26 ہزار 512 صنعتی صارفین نے ایس ٹی آر این حاصل کیا ہوا ہے—تصویر شٹر اسٹاک

اسلام آباد: ریکارڈ مالیاتی خسارے اور حکومتی آمدنی میں کمی کے باوجود سلیز ٹیکس اور انکم ٹیکس ریکارڈ میں بجلی کے 32 لاکھ 60 ہزار صارفین کے نام موجود ہی نہیں ہیں۔

ٹیکس قوانین پر عملدرآمد کی سنگین ابتر صورتحال ملک کے مالی خسارے کی بنیادی وجہ ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین شبر زیدی اس سلسلے میں پہلے ہی خبردار کرچکے ہیں کہ جولائی کے بعد ایف بی آر ٹیکس نادہندگان کے خلاف سخت ایکشن لے گا جس میں بجلی کی فراہمی بھی منقطع کی جاسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پراپرٹی ٹیکس میں اضافہ، زیادہ سے زیادہ 35 فیصد عائد ہوگا، ایف بی آر

ایف بی آر پہلے ہی صنعتی اور کمرشل صارفین کو ٹیکس قوانین کے تحت جرمانوں اور دیگر کارروائیوں سے بچنے کے لیے اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم سے فائدہ اٹھانے کی درخواست کرچکا ہے۔

دوسری ٹیکس بیس بڑھانے کے سلسلے میں ایف بی آر وزارت توانائی کو ایسے صارفین کی معلومات فراہم کرنے کی درخواست کرچکی ہے جن کا اب تک ٹیکس ڈپارٹمنٹ میں اندراج نہیں ہے۔

اس کے جواب میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے جون تک انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس میں اندراج نہ رکھنے والے صارفین کی ایک فہرست تیار کی جو ایف بی آر کو فراہم بھی کی جاچکی ہے۔

مزید پڑھیں: بجلی صارفین سے 9 قسم کے ٹیکس وصولی کا انکشاف

تاہم اس فہرست میں کراچی الیکٹرک کے صارفین کی معلومات شامل نہیں ہیں۔

اس حوالے سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 2 لاکھ 67 ہزار 426 غیر رجسٹرڈ صنعتی صارفین ہیں جو نہ تو ٹیکس رول میں موجود ہیں نہ ہی انہوں نے نیشنل ٹیکس نمبر (این ٹی این) حاصل کیا اور نہ ہی سلیز ٹیکس رجسٹریشن نمبر (ایس ٹی آر این) حاصل کیا ہے۔

اس وقت ملک میں محض 26 ہزار 512 صنعتی صارفین نے ایس ٹی آر این حاصل کیا ہوا ہے جبکہ انکم ٹیکس میں صنعتوں کا اندراج انتہائی حوصلہ شکن ہے اور صرف 25 ہزار 871 صنعتی صارفین نے این ٹی این حاصل کیا ہے۔

اس کے علاوہ ملک میں کمرشل سطح پر توانائی حاصل کرنے والے 25 لاکھ 20 ہزار صارفین غیر رجسٹرڈ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: 30 ڈالر مالیت کے موبائل پر بھی ٹیکس، فنانس ایکٹ کی تفصیلات جاری

سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی دفعہ 14 کے تحت پاکستان میں قابلِ ٹیکس فراہمی سے منسلک ہر شخص رجسٹرڈ ہونے اور ایس ٹی آر این حاصل کرنے کا مجاز ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ملک کے مجموعی کمرشل صارفین کے محض 1.45 فیصد یعنی 36 ہزار 732 صارفین نے اب تک ایس ٹی آر این حاصل کیا ہے۔

اس ضمن میں عہدیدار نے بتایا کہ ’ہم چھوٹے کاروباروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے 2 نئی اسکیمز متعارف کروارہے ہیں جس کے لیے ایک سو دو روز میں فکسڈ ٹیکس کا اعلان کیا جائیگا‘۔

مزید پڑھیں: ایف بی آر نے آن لائن ٹیکس پروفائل نظام متعارف کروادیا

دوسری جانب انکم ٹیکس کے حوالے سے بھی کمرشل صارفین کی تعداد بہت کم ہے اور ملک میں موجود کمرشل صارفین کی مجموعی تعداد میں سے صرف 1.47 فیصد یعنی 37 ہزار 146 صارفین نے این ٹی این حاصل کررکھا ہے۔

جہاں تک کمرشل صارفین کے انکم ٹیکس کا تعلق ہے تو صرف وہ صارفین انکم ٹیکس دینے یا اس میں رجسٹرڈ ہونے کے قابل ہیں کو سالانہ 10 لاکھ روپے یا اس سے زائد بجلی کے بل کی مد میں ادا کرتے ہیں۔