’بارش کے بعد کی صورتحال پر قابو پانا انسانی اختیار سے باہر تھا‘

اپ ڈیٹ 01 اگست 2019

ای میل

نیپرا نے کے الیکٹرک کو بجلی کی طویل بندش اور کرنٹ لگنے کے باعث انسانی جانوں کے ضیاع پر نوٹس بھیجا تھا — فوٹو: وکی میڈیا کامنز
نیپرا نے کے الیکٹرک کو بجلی کی طویل بندش اور کرنٹ لگنے کے باعث انسانی جانوں کے ضیاع پر نوٹس بھیجا تھا — فوٹو: وکی میڈیا کامنز

اسلام آباد: حالیہ بارشوں کے سبب کراچی میں قیمتی انسانی جانوں اور املاک کے نقصانات پر کے الیکٹرک نے اسے انسانی استعداد سے ماورا قرار دے دیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے کراچی سے تعلق رکھنے والی کمپنی کو شہر میں بجلی کے طویل بریک ڈاؤن اور کرنٹ لگنے کے باعث انسانی جانوں کے ضیاع پر نوٹس جاری کیا گیا تو اس کی جانب سے یہ جواب سامنے آیا۔

ایک روز قبل ریگولیٹر نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا تھا کہ کے ای کے شکایتی مراکز صارفین کی ٹیلی فون کالز کا جواب نہیں دے رہے تھے اور ساتھ ہی متوقع بارش کے تحت پیشگی اقدامات کی ناکامی کے حوالے سے رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کی۔

یہ بھی پڑھیں: بارش کے کئی گھنٹے بعد بھی کراچی میں اندھیرے

جس کے جواب میں 'کے ای' نے 29 جولائی 2019 اور اس کے بعد کے عرصے کو نیپرا پرفارمنس اسٹینڈرڈ (تقسیم کار اصول و ضوابط) 2005 کے تحت فعل خداوندی قرار دیتے ہوئے ریگولیٹر کو آگاہ کیا۔

کے الیکٹرک کا کہنا تھا کہ مسلسل بارش کے باعث بجلی کے بریک ڈاؤن ہوئے تاہم 1800 میں سے 1700 فیڈرز بحال کر دیے گئے جبکہ دیگر کی بحالی کا کام جاری ہے۔

یاد رہے کہ مذکورہ اصول کے تحت کارکردگی کے جس معیار کی ضمانت دی گئی ہو انسانی استعداد سے باہر کی صورتحال میں اس پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں جرمانہ عائد نہیں کیا جاسکتا۔

مزید پڑھیں: سندھ میں بارش، کراچی میں بجلی کا نظام درہم برہم، 16 افراد جاں بحق

کے الیکٹرک نے نیپرا کو اپنے جواب میں بتایا کہ 29 جولائی سے کراچی کو مسلسل بارش کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے سیلابی صورتحال اور شہر کے مختلف مقامات پر پانی جمع ہوگیا اور مختلف اوقات میں ہونے والی بارش مجموعی طور پر 120 ملی میٹر سے زائد تک ریکارڈ کی گئی۔

موسم کی صورتحال کے پیشِ نظر پیشگی اقدامات کے حوالے سے کے الیکٹرک کا کہنا تھا کہ اس نے مینٹیننس عملے کے ساتھ اضافی تکنیکی عملہ مقرر کر رکھا تھا تاکہ شکایت کی صورت میں بروقت جواب اور فوری حل کو یقینی بنایا جائے۔

کے الیکٹرک نے کہا کہ ٹیمیں شہری انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں تھیں تاکہ ٹھہرے ہوئے پانی کی نکاسی یقینی بنا کر بحالی کا کام شروع کیا جاسکے لیکن کچھ علاقوں میں اب بھی پانی جمع ہے جہاں حفاظتی نقطہ نظر سے بحالی کا کام صورتحال بہتر ہونے تک شروع نہیں کیا جاسکتا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی:بارش رک گئی لیکن مشکلات برقرار، کئی علاقوں میں تاحال بجلی معطل

اس ضمن میں جب کے الیکٹرک کے ترجمان سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اگر امر ربی یا کسی ایسی صورتحال جو انسانی استعداد سے باہر ہو، کے باعث کمپنی بجلی کا بحران ختم نہیں کر سکے تو وہ نیپرا کی کارکردگی کے اصولوں سے مخصوص مدت کے لیے استثنیٰ طلب کر سکتی ہے۔