بےنامی جائیداد و اکاؤنٹس کےخلاف کارروائی کیلئے ایف بی آر میں نیا شعبہ قائم

اپ ڈیٹ 01 اگست 2019

ای میل

ایف بی آر کے مطابق نیا شعبہ انسداد بے نامی زونز کے لیے لاجسٹک اور مالیاتی مدد فراہم کرے گا — فائل فوٹو: اے ایف پی
ایف بی آر کے مطابق نیا شعبہ انسداد بے نامی زونز کے لیے لاجسٹک اور مالیاتی مدد فراہم کرے گا — فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے بے نامی جائیداد اور اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی کے لیے ادارے میں ایک علیحدہ شعبہ قائم کردیا۔

ایف بی آر کی جانب سے دفتری سطح پر ’ڈائریکٹریٹ جنرل انسداد بے نامی کارروائی (ڈی جی-اے بی آئی)‘ کے قیام کے لیے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا جس میں اس شعبے کے کام اور اس کی ذمہ داریوں کی وضاحت کی گئی۔

ڈائریکٹریٹ جنرل آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن (ڈی جی-آئی آئی) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) عاصم احمد کو نئے شعبے کا اضافی چارج سونپ دیا گیا ہے۔

ملک میں بے نامی جائیداد اور اکاؤنٹس کے خلاف اقدامات کے لیے حکومت نے بے نامی لین دین ایکٹ 2017 کو لاگو کیا تھا، جو اس وقت غیر فعال ہے۔

مزید پڑھیں: بے نامی اکاؤنٹس کی نشاندہی کیلئے بینکوں سے تعاون کی درخواست

واضح رہے کہ ملک میں بڑھتے ہوئے بے نامی اکاؤنٹس اور ان کی لین دین کی وجہ سے ایف بی آر کے اس نئے شعبے کے قیام کی ضرورت کو محسوس کیا گیا۔

بے نامی اکاؤنٹس اور جائیداد کی وجہ سے اصل مالک کے بارے میں علم نہیں ہو پاتا جس کی وجہ سے انسداد بدعنوانی کے تمام ادارے ملزمان کو پکڑنے سے قاصر رہتے ہیں۔

ایف بی آر کے لیے یہ شعبہ 2 اہم کام کرے گا جن میں ایک آزادانہ طور پر تحقیقات جبکہ دوسرا کسی بھی طرح کی انتظامی مدد شامل ہوگی۔

انسداد بے نامی ایکٹ کے تحت تفصیلی معلومات، اختیارات اور ذمہ داریوں کا بھی تعین کیا جاچکا ہے جبکہ اسلام آباد، کراچی اور لاہور میں حکام کے دائرہ اختیار اور ان کے تقرر سے متعلق تعین بھی کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر کا بےنامی اکاؤنٹس رکھنے والوں کےخلاف کارروائی کا فیصلہ

ایف بی آر کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق شکایات درج کرنے اور ان پر کارروائی کا آغاز کرنے والا ایک 18 گریڈ کا افسر ہوگا، اس کی منظوری کرنے والا گریڈ 20 کا افسر ہوگا جو بے نامی زون کے مالیاتی اور انتظامی امور کا سربراہ بھی ہوگا۔

اس کے علاوہ گریڈ 21 یا 22 کے افسر کے پاس افسران کی جانب سے دائر کیے گئے ریفرنسز پر فیصلہ سازی کا اختیار ہوگا۔

ایف بی آر کے مطابق انسداد بے نامی قانون کے موثر انداز میں نفاذ اور اس میں حکام کی کارروائیوں کو یقینی بنانے کے لیے ڈی جی-اے بی آئی کے دفتر کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے۔

ڈی جی-اے بی آئی، انسداد بے نامی زون کی مدد کرے گا جبکہ وہ زون اور ایف بی آر کے درمیان ایک پل کا کام کرے گا۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ دفتر انسداد بے نامی زونز کے لیے لاجسٹک اور مالیاتی مدد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی صلاحیت کو بڑھانے میں بھی تعاون کرے گا جبکہ بے نامی معاملات کے خلاف کارروائی کرنے والی تفتیش کار ایجنسیز کے لیے ایف بی آر میں رابطہ مرکز کا کردار بھی ادا کرے گا۔


یہ خبر یکم اگست 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی