مریم نواز کے پارٹی عہدےکے خلاف درخواست پر 27 اگست کو فیصلہ سنایا جائے گا

اپ ڈیٹ 01 اگست 2019

ای میل

الیکشن کمیشن میں مریم نواز کی تعیناتی کے خلاف درخواست پی ٹی آئی کے اراکین نے جمع کروائی تھی—فائل فوٹو: اے پی
الیکشن کمیشن میں مریم نواز کی تعیناتی کے خلاف درخواست پی ٹی آئی کے اراکین نے جمع کروائی تھی—فائل فوٹو: اے پی

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کے پارٹی عہدے کے خلاف دائر درخواست پر الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) 27 اگست کو فیصلہ سنائے گا۔

چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا کی سربراہی میں 3 رکنی کمیشن نے درخواست کی سماعت کی۔

یاد رہے کہ الیکشن کمیشن میں مریم نواز کے پارٹی عہدے کے خلاف درخواست پی ٹی آئی کے اراکین قومی اسمبلی فرخ حبیب، ملائیکہ علی بخاری، کنول شوذب اور جویریہ ظفر کی جانب سے جمع کروائی گئی تھی۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں مریم نواز کی بطور نائب صدر تقرر کے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے فیصلے کو آئین و قانون سے متصادم قرار دیا گیا تھا۔

اس سے قبل ہونے والی سماعت میں مریم نواز کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ خان اور مسلم لیگ (ن) کی طرف سے جہانگیر جدون الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہوئے تھے۔

سماعت میں مسلم لیگ (ن) کے وکیل نے ملائیکہ بخاری کی درخواست کو ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف سرکاری افسران کے سیاسی جماعت میں شامل ہونے اور عہدہ لینے پر قدغن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کے پارٹی عہدے سے ملائیکہ بخاری کے حقوق متاثر نہیں ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کو مسلم لیگ (ن) کا نائب صدر بنانا غیر قانونی ہے، حکومت

انہوں نے کہا کہ مریم نواز کو عہدہ پارٹی الیکشن کے نتیجے میں نہیں ملا، الیکشن کمیشن کا کام ملکی انتخابات کرانا ہے پارٹی الیکشن نہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ صرف پارٹی الیکشن چیلنج ہو سکتا ہے، پارٹی کی جانب سے کی جانے والی نامزدگیاں چیلنج نہیں کی جاسکتیں جبکہ مریم نواز کی نامزدگی قانون کے مطابق کی گئی ہے۔

جس پر خیبر پختونخوا کے رکنِ الیکشن کمیشن نے استفسار کیا کہ مریم نواز کی نامزدگی کس قانون کے تحت کی گئی اس کا حوالہ بھی دیں۔

جس پر بیرسٹر جہانگیر جدون نے جواب دیا کہ ان کی نامزدگی پارٹی آئین کے تحت کی گئی ہے جو الیکش کمیشن سے منظور شدہ ہے۔

سماعت میں درخواست گزار ملائیکہ بخاری کے وکیل حسن مان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نااہلی کے بعد نواز شریف کا پارٹی عہدہ سپریم کورٹ میں چیلنج ہوا تھا جس نے الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 203 کے تحت انہیں پارٹی عہدے کے لیے نااہل قرار دے دیا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے پارٹی عہدیدار کے لیے بھی آرٹیکل 62، 63 والی اہلیت مقرر کی ہے تاہم مریم نواز سلیکٹڈ ہیں یا منتخب وہ پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے کیونکہ اس سے فرق نہیں پڑتا۔

مزید پڑھیں: مریم نواز کو مسلم لیگ (ن) کا نائب صدر بنانے کا فیصلہ پی ٹی آئی نے چیلنج کردیا

درخواست کے قابلِ سماعت ہونے کے حوالے سے مریم نواز کے وکیل بیرسٹر ظفر اللہ نے کہا کہ وہ مسلم لیگ (ن) کے وکیل کے دلائل سے اتفاق کرتے ہیں کہ ایسا کوئی قانون نہیں جس کے تحت پارٹی کے نائب صدر کا عہدہ چیلنج ہوسکے۔

ملائیکہ بخاری کے وکیل حسن مان نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے اب تک مریم نواز کی تعیناتی کا نوٹی فکیشن جمع نہیں کروایا اور ٹوئٹر پر ان کی تعیناتی سے آگاہ کیا۔

اس پر چیف الیکشن کمشنر اور وکیل کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا اور چیف الیکشن کمشنر نے پوچھا کہ یہ ٹوئٹر آخر کیا ہوتا ہے؟ـ

وکیل حسن مان نے انہیں بتایا کہ یہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ (سوشل میڈیا) ہے جہاں لوگ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر نے دریافت کیا کہ کیا ٹوئٹر قابل قبول شواہد ہے؟ سوشل میڈیا کی قانونی حیثیت کیا ہے؟ جس کے جواب میں حسن مان نے کہا کہ اب تو سوشل میڈیا پر طلاق بھی ہو جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کے خلاف تحریک انصاف کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

چیف الیکش کمشنر نے کہا کہ واٹس ایپ اور ایس ایم ایس پر شہادت قابل قبول شہادت ہے، تاہم ٹوئٹر کے حوالے سے باضابطہ قانون ہے تو دکھائیں۔

مزید دلائل دیتے ہوئے حسن مان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ سزا معطل ہونے سے جرم ختم نہیں ہوتا، اگر مریم نواز اپیل میں بری ہوئیں تو عہدے پر واپس آ سکتی ہیں۔

حسن مان کا مزید کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) نے اپنے جواب میں کہا کہ ملک میں کوئی سپریم کورٹ نہیں، حدیبیہ کا فیصلے آئے تو سپریم کورٹ اچھی ہے نااہلی کا آئے تو کہتے ہیں سپریم کورٹ کا وجود ہی نہیں۔

جس پر وکیل مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ عدالت نہیں ہو سکتا، عالمی عدالت انصاف اور امریکی سپریم کورٹ میں کوئی بینچ نہیں بنتا اور نہ ہی قانون میں کہیں لکھا ہے کہ سپریم کورٹ بینچ بنا سکتی ہے۔

بعد ازاں مریم نواز کے وکیل بیرسٹر ظفراللہ نے اپنے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ مارشل لا کے دور میں ایبڈو نامی قانون لایا گیا، جس کے تحت 78 بڑے سیاستدانوں سمیت 70 ہزار بنگالیوں کو نااہل قرار دیا گیا۔

مزید پڑھیں: مریم نواز کے نائب صدر بننے کے خلاف درخواست، سماعت 17 جون کو مقرر

ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا مریم نواز پر اطلاق نہیں ہوتا، سپریم کورٹ نے قرار دیا وفاقی حکومت کا مطلب کابینہ ہے وزیراعظم نہیں، لہٰذا اگر ایگزیکٹو کا کام کابینہ کے بجائے کمیٹی نہیں کر سکتی تو عدالتی بینچ کیسے بن سکتے ہیں؟

بیرسٹر ظفراللہ کا مزید کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ کے رولز میں بینچ بنانے کا ذکر موجود ہے لیکن سپریم کورٹ کے رولز میں بینچز تشکیل دینے کا کوئی ذکر نہیں۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا مطلب فل کورٹ ہے کوئی دوسرا بینچ عدالت نہیں ہو سکتا جبکہ الیکشن کمیشن عدالت ہے نا ایگزیکٹو باڈی بلکہ ایک آئینی ادارہ ہے، جو سپریم کورٹ کے کسی فیصلے کا پابند نہیں۔

جس پر رکنِ خیبرپختونخوا ارشاد قیصر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلوں کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں جاتی ہے، کمیشن فیصلے کر سکتا ہے تب ہی اپیل اعلیٰ عدلیہ میں جاتی ہے۔

جس پر وکیل مریم نواز نے کہا کہ آئین میں الیکشن کمیشن کو کہیں عدالت نہیں قرار دیا گیا جبکہ سپریم کورٹ کے فیصلے عدالتوں اور ایگزیکٹو پر لاگو ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:مسلم لیگ (ن) کی تنظیم نو، شاہد خاقان سینئر نائب صدر،مریم نواز نائب صدر مقرر

اس پر چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے تو الیکشن کمیشن کو قانون کالعدم قرار دینے کا اختیار بھی دیا ہے۔

جواباً یرسٹر ظفراللہ کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نااہلی کی درخواست پر سماعت کر سکتا ہے لیکن یہ نہ کہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کا پابند ہے کیوں کہ کمیشن اپنے طور پر قانون کی تشریح کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔

بعد ازاں تینوں وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر الیکشن کمیشن نے مریم نواز کو پارٹی عہدے سے ہٹانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا، جو 27 اگست کو سنایا جائے گا۔