بھارتی حکومت کا سیاحوں کیلئے انتباہ،مقبوضہ کشمیر میں خوف کی لہر دوڑ گئی

اپ ڈیٹ 03 اگست 2019

ای میل

بھارتی حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر میں ایک ہفتہ قبل 10 ہزار اضافی فوجی بھیجے گئے ہیں — فوٹو: اے ایف پی
بھارتی حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ بھارت کے زیرِ تسلط کشمیر میں ایک ہفتہ قبل 10 ہزار اضافی فوجی بھیجے گئے ہیں — فوٹو: اے ایف پی

سری نگر: بھارتی حکام نے ’دہشت گردی کے خطرے‘ کے پیشِ نظر سیاحوں کو مقبوضہ کشمیر سے واپس جانے کی ہدایت کردی جبکہ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ ہمالیہ خطے میں 25 ہزار مزید بھارتی فوجیوں کو بھیجا جاچکا ہے۔

ڈان اخبار میں شائع ہونے والی فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے زیِر تسلط کشمیر میں اشیائے خورو نوش اور ایندھن ذخیرہ کرنے کی ہدایات اور اضافی نفری کے ساتھ سیکیورٹی کے دیگر اقدامات نے متنازع علاقے میں خوف کی لہر دوڑا دی ہے۔

جس کے بعد پیٹرول اسٹیشنز کے باہر گاڑیوں کی طویل قطاریں، خوراک کی دکانوں پر گاہکوں کا رش اور ہنگامی انتظامات کے لیے رقوم نکلوانے کی غرض سے بینکوں میں شہریوں کا ہجوم نظر آیا۔

یہ بھی پڑھیں: بی جے پی کا مقبوضہ کشمیر میں ہندووں کی آباد کاری کا منصوبہ

جموں و کشمیر کی ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ ہندو یاتریوں کے خلاف ’دہشت گردی کے خطرے کی خفیہ اطلاعات‘ موجودہ سیکیورٹی کی صورتحال کا سبب ہے، یاتریوں اور سیاح کو فوری طور پر یہاں سے نکل جانا چاہیے۔

ادھر بھارتی حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ اس کے زیرِ تسلط کشمیر میں ایک ہفتہ قبل 10 ہزار اضافی فوجی بھیجے جاچکے ہیں جبکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق وادی میں مزید 25 ہزار فوجیوں کی تعیناتی کا حکم دیا گیا ہے۔

تاہم کشمیر پولیس کے سربراہ دل باغ سنگھ نے اس تعداد کو مبالغہ آمیز قرار دیا۔

بغاوت کا خدشہ

مقبوضہ کشمیر میں تقریباً روزانہ بھارتی افواج اور حریت پسندوں جبکہ سرحد پار پاکستانی افواج کے ساتھ جھڑپیں جاری ہیں جس سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

پولیس نے حال ہی میں ایک جھڑپ میں شہید ہونے والے 2 حریت پسندوں پر بھارتی افواج کے خلاف حملے کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کیا۔

مزید پڑھیں: مسئلہ کشمیر کے حل تک ایٹمی جنگ خارج ازامکان نہیں، امریکی اخبار

مقامی افراد اور کشمیری سیاستدانوں کو خوف ہے کہ سیکیورٹی میں اضافہ اصل میں بھارت کی ہندو قوم پرست جماعت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور کشمیریوں کے املاک کے حقوق ختم کرنے کا پیش خیمہ ہے۔

دوسری جانب مقبوضہ کشمیر کے سیاستدانوں نے خبردار کیا ہے کہ اس علاقے میں آئین میں دیئے گئے حقوق منسوخ کیے جانے کی صورت میں بے امنی پھیلنے کا خدشہ ہے۔

عوام کو مزید تشویش میں مبتلا کرنے کے لیے پولیس نے ہر مسجد اور اس کے امام کی تفصیلات جمع کرنا شروع کردی ہیں، جس کا حکم نامہ رواں ہفتے سوشل میڈیا پر لیک ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر کی مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پھر پیشکش،بھارت کی ہٹ دھرمی برقرار

اس ضمن میں ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی بنیاد پر بتایا کہ افسران کو ’ہدایت‘ کی گئی ہے کہ اپنے اہلِ خانہ کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیں اور خوراک ذخیرہ کرلیں۔

علاوہ ازیں پیٹرول اسٹیشنز کے متعدد مالکان کا کہنا ہے کہ حکام نے انہیں گاڑیوں کا ایندھن پوری گنجائش تک جمع رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

پولیس عہدیدار کا کہنا تھا کہ ’یہ مسلسل تبدیل ہونے والے سیکیورٹی پلان کا حصہ ہے تاکہ عوام کی جانب سے ممکنہ بغاوت کو روکا جاسکے‘۔

مذکورہ صورتحال کے حوالے سے ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ وادی میں ہر چیز معمول کے مطابق ہے تاہم کشمیر یونیورسٹی میں سیاست کے پروفیسر اور سیاسی تبصرہ نگار نور احمد بابا کا کہنا تھا کہ ’کشمیریوں میں پائی جانے والی بے چینی حقیقی ہے کیونکہ اس حکومت نے اپنے عزائم آشکار کر دیئے ہیں‘۔

مزید پڑھیں: مسئلہ کشمیر کے حل پر مودی سرکار کا حریت رہنماؤں کو مایوس کن جواب

واضح رہے کہ بھارتی آئین کی دفعہ 35 'اے' کے تحت وادی سے باہر سے تعلق رکھنے والے بھارتی نہ ہی مقبوضہ کشمیر میں زمین خرید سکتے ہیں اور نہ ہی سرکاری ملازمت حاصل کر سکتے ہیں، یہ دونوں معاملات بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا ہدف تھے۔

آئین کی اس دفعہ کو ہندو توا تنظیموں اور مودی کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہوا ہے، تاہم عدالتی فیصلہ آنے سے قبل ہی کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے وعدے کیے جاچکے ہیں۔