شانگلہ: غیرت کے نام پر خاتون سمیت 2 افراد قتل

اپ ڈیٹ 04 اگست 2019

ای میل

ملزمان کو شبہہ تھا کہ تاج الدین اور خاتون کے مابین ’ناجائز تعلقات‘ تھے—فائل فوٹو: اے ایف پی
ملزمان کو شبہہ تھا کہ تاج الدین اور خاتون کے مابین ’ناجائز تعلقات‘ تھے—فائل فوٹو: اے ایف پی

خیبرپختونخوا کے ضلع شانگلہ کی تحصیل مارتونگ میں پولیس نے غیرت کے نام پر خاتون سمیت 2 افراد کے قتل کے الزام میں دو بھائیوں کو گرفتار کرلیا۔

مارتونگ پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او محمد افضل خان نے ڈان کو بتایا کہ ملزمان شاہ جہاں اور محمد عالم نے اپنی بھابھی اور ایک شخص کو ناجائز تعلقات کے شبہہ میں قتل کیا، اس کے ساتھ ہی پولیس نے دونوں کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے آلہ قتل برآمد کرلیا۔

مزید پڑھیں: ’ہیر مان جا‘ غیرت کے نام پر قتل کے واقعات سے بڑھ کر رومانوی اور مصالحہ فلم

ایس ایچ او محمد افضل خان نے ڈان کو تفصیلات بتائیں کہ انہیں اطلاع ملی تھی کہ ماندوریا نامی علاقے میں ایک عورت اور مرد کو قتل کردیا گیا۔

ایس ایچ او نے بتایا کہ وہ وقوعہ پر پہنچے اور دونوں کی لاشیں مارتونگ ہیلتھ کیئر سینٹر منتقل کیں۔

محمد افضل خان نے عینی شاہد ’ضیاالدین‘ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ضیا الدین اور ان کا کزن تاج الدین تعزیت کے بعد موٹر سائیکل پر گھر آرہے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ’جب دونوں مارتونگ پہنچے تو پہلے سے موجود شاہ جہاں اور اس کے بھائی محمد عالم نے فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں تاج الدین کو گولیاں لگیں اور اس نے دم توڑ دیا‘۔

مزیدپڑھیں: ماڈل قندیل بلوچ 'غیرت کے نام' پر قتل

عینی شاہد ضیاالدین کے مطابق بعدازاں دونوں مسلح افراد نے اپنے بھائی اشرف علی کی اہلیہ کو فائرنگ کرکے قتل کردیا۔

ضیا الدین کے مطابق ملزمان کو شبہہ تھا کہ تاج الدین اور ان کی بھابھی کے مابین ’ناجائز تعلقات‘ تھے۔

ایس ایچ او افضل نے بتایا کہ ملزمان شاہ جہاں اور محمد عالم کے خلاف 302 کا مقدمہ درج کرکے دونوں ملزمان کو واردات کے اگلے ہی روز گرفتار کرلیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ 2016 میں سنی اتحاد کونسل کے 40 مفتیان کرام اپنے اجتماعی فتویٰ میں غیرت کے نام پر خواتین کے قتل کو غیر اسلامی فعل اور بد ترین گناہ کبیرہ قرار دیا تھا۔

فتویٰ میں کہا گیا تھا کہ اسلام نے بالغ عورتوں کو خود اپنی مرضی سے پسند کی شادی کرنے کا حق دیا ہے جیسا کہ سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 232 میں اس کا حکم بیان ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’’اے عورت کے خاندان والو ، عورتوں کو اپنے خاوندوں سے نکاح کرنے سے منع نہ کرو جبکہ وہ دونوں شادی کرنے پر راضی ہیں‘‘ اسلام غیرت کے نام پر قتل جیسے قبیح فعل کی ہرگز ہرگز اجازت نہیں دیتا۔

اس سے قبل 20 مئی 2018 چکوال میں 4 بھائیوں نے مبینہ طور پر غیرت کے نام پر اپنی 50 سالہ والدہ کو قتل کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: غیرت کے نام پر قتل، انسداد عصمت دری بل اتفاق رائے سے منظور

خیال رہے کہ سال 2017 میں غیرت کے نام پر اور گھریلو تنازعات میں صوبہ پنجاب کے ضلع گجرات میں 41 خواتین کو قتل کیا گیا تھا جبکہ سال 2016 میں یہ تعداد 35 تھی جبکہ 2013 میں یہ تعداد 51 اور 2014 میں 36 تھی۔

سال 2016 میں ہی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے غیرت کے نام پر قتل اور انسداد عصمت دری کے 2 بِلوں کی اتفاق رائے سے منظوری دے دی تھی۔

مزیدپڑھیں: مقتول افضل کوہستانی کے بھائی 'غیرت کے نام پر قتل' کے مقدمے میں نامزد

اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے غیرت کے نام پر قتل کے خلاف بل منظور ہونے پر پارلیمنٹ اور قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے بل پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’میں غیرت کے نام پر قتل کے خلاف بل منظور ہونے پر پارلیمنٹ، این جی اوز، سول سوسائٹی، میڈیا اور ان تمام افراد کو مبارکباد پیش کرتا ہوں جنہوں نے اس حوالے سے قانون سازی کے لیے ہماری حمایت کی'۔

واضح رہے کہ ماڈل قندیل بلوچ کو ان کے بھائی وسیم نے غیرت کے نام پر قتل کردیا تھا جس کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما نے دونوں بل قومی اسمبلی میں پیش کیے تھے۔