حکومت کا ٹریژری بلز اور انویسٹمنٹ بانڈز سے 67 کھرب روپے اکٹھے کرنے کا منصوبہ

اپ ڈیٹ 06 اگست 2019

ای میل

اسٹیٹ بینک نے ٹریژری بلز اور پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کی نیلامی کا کلینڈر جاری کردیا —فائل فوٹو/اے پی پی
اسٹیٹ بینک نے ٹریژری بلز اور پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کی نیلامی کا کلینڈر جاری کردیا —فائل فوٹو/اے پی پی

وفاقی حکومت، پاکستان انویسٹمنٹ بونڈز کے ذریعے 300 ارب روپے اکٹھا کرنے کے علاوہ آئندہ 3 ماہ کے عرصے میں ٹریژری بلز کی نیلامی کے ذریعے 64 کھرب روپے حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے ٹریژری بلز اور پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (پی آئی بی) کی نیلامی کا کلینڈر جاری کرتے ہوئے 64 کھرب روپے اکٹھے کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا گیا جس میں ٹریژری بلز کی پختگی کی رقم 63 کھرب 69 ارب روپے ہوگی۔

واضح رہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے سمجھوتے کے بعد مرکزی بینک نے حکومت کو رقوم کی فراہمی کا سلسلہ روک دیا، جس کے باعث حکومت بجٹ سپورٹ اور دیگر اخراجات کے لیے بڑی حد تک بینکوں پر انحصار کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: قرضوں پر سود کی ادائیگی ملکی آمدن کے 41 فیصد تک پہنچ گئی

31 جولائی کو ہونے والی ٹریژری بل کی آخری نیلامی سے حکومت 8 کھرب 86 ارب 80 کروڑ روپے اکٹھا کیے تھے جس میں سے زیادہ تر رقوم 3 ماہ کی مختصر مدت کے ٹریژری بلز سے حاصل کی گئیں تھیں لیکن اکٹھا کی جانے والی رقم، 15 کھرب روپے کے ہدف سے کہیں کم تھی کیوں کہ بینک 6 ماہ اور 12 ماہ کی مدت سے گریزاں تھے۔

اسٹیٹ بینک نے پاکستان انویسٹمنٹ بونڈ کی نیلامی کا کلینڈر بھی جاری کیا جس کے مطابق اس طریقے سے 300 ارب روپے اکٹھا کرنے کے لیے نیلامی اگست سے اکتوبر کے عرصے کے دوران ہوگی۔

تاہم یہ رقم بونڈز کی پختگی کی رقم سے کہیں زیادہ ہے جو 92 ارب 29 کروڑ 20 لاکھ روپے ہے جبکہ حکومت اضافی 2 کھرب 7 ارب 70 کروڑ روپے لیکویڈٹی کی ضرورت کے پیشِ نظر پاکستان انویسمنٹ بونڈز سے اکٹھے کرے گی۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: ڈیم فنڈ سے نیشنل بینک میں سرمایہ کاری کا فیصلہ

مالیاتی حلقوں کا خیال ہے کہ حکومت کے پاس پورے مالی سال کے دوران بینکوں سے قرض لینا جاری رکھنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہوگا۔

خیال رہے کہ اسٹیٹ بینک سالوں سے حکومت کی مالیات کا سب سے بڑا ذریعہ تھا جسے ہر سال بھاری اخراجات اور ریونیو کی کمی کے باعث مالی خسارے کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

اسی طرح گزشتہ مالی سال کے دوران حکومت نے اسٹیٹ بینک سے 27 کھرب روپے ادھار لیے، جس سے افراطِ زر پر دباؤ پڑا۔

یہ بھی پڑھیں: مالی سال 20-2019 کیلئے 70 کھرب 36 ارب روپے کا بجٹ پیش

اگر حکومت کمرشل بینکوں سے بھاری رقوم ادھار لینا جاری رکھے گی تو بالآخر اس شعبے کی لیکویڈٹی سُکڑ جائے گی جس سے نجی شعبے کی قرض لینے کی صلاحیت محدود ہوجائے گی۔


یہ خبر 6 اگست 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔