کشمیریوں کے حق خودارادیت کیلئے ہر حد تک جائیں گے، آرمی چیف

اگست 06 2019

ای میل

کورکمانڈرز کانفرنس میں کشمیر کی صورتحال کے ایک نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا — فوٹو: آئی ایس پی آر
کورکمانڈرز کانفرنس میں کشمیر کی صورتحال کے ایک نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا — فوٹو: آئی ایس پی آر

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ پاک فوج، حق خودارادیت کے لیے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ہم اس ذمہ داری کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ہرحد تک جائیں گے۔

پاک فوج کے تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی۔

کورکمانڈرز کانفرنس میں کشمیر کی صورتحال کے ایک نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں شرکا نے کشمیر سے متعلق بھارتی اقدامات مسترد کرنے کی حکومتی پالیسی کی مکمل تائید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان، کشمیر پر شرمناک قبضے کو آرٹیکل 370 یا 35 'اے' کے ذریعے قانونی بنانے کی بھارتی کوششوں کبھی تسلیم نہیں کرے گا۔

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ 'پاک فوج، حق خودارادیت کے لیے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ہم اس ذمہ داری کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ہرحد تک جائیں گے۔'

کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا معاملہ

واضح رہے بھارتی حکومت نے گزشتہ روز صدارتی فرمان کے ذریعے آئین میں مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کا اعلان کردیا تھا۔

خصوصی آرٹیکل ختم کرنے کے بعد مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی اکائی کہلائے گا، جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔

مزید پڑھیں: پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بھارتی اقدام مسترد کردیا

بھارتی آئین کی دفعہ 35 'اے' کے تحت وادی سے باہر سے تعلق رکھنے والے بھارتی نہ ہی مقبوضہ کشمیر میں زمین خرید سکتے ہیں اور نہ ہی سرکاری ملازمت حاصل کر سکتے ہیں، یہ دونوں معاملات بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا ہدف تھے۔

اس قانون کے خاتمے کی بھارتی حزب اختلاف اور کشمیر کے حریت رہنماؤں نے شدید مذمت کرتے ہوئے اس دن کو بھارتی جمہوریت کے لیے سیاہ ترین دن قرار دیا تھا۔

دوسری جانب پاکستان نے بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے متعلق اعلانات کی پُرزور مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کیا تھا۔

دفتر خارجہ سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ بھارتی حکومت کا کوئی یک طرفہ اقدام متنازع حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مقبوضہ کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے۔