‘امریکا اقتصادی اصلاحات کی کوششوں میں پاکستان سے تعاون جاری رکھے گا‘

اپ ڈیٹ 06 اگست 2019

ای میل

ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ دونوں ممالک کے نجی شعبوں کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے—فوٹو: ریڈیو پاکستان
ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ دونوں ممالک کے نجی شعبوں کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے—فوٹو: ریڈیو پاکستان

امریکا کی جنوبی ایشیا میں نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز نے پاکستان کے مشیر خزانہ کو یقین دلایا ہے کہ امریکا اقتصادی اصلاحات کی کوششوں اور ایسا ماحول قائم کرنے میں پاکستان سے تعاون جاری رکھے گا جس کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان کاروبار کی ترقی کے لیے سہولت فراہم کرنا ہے۔

خیال رہے کہ اسلام آباد میں امریکا کی جنوبی ایشیا میں نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز و دیگر سے ملاقات میں ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے حکومت کی جانب سے اقتصادی اصلاحات سے متعلق اقدامات کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا۔

اس موقع پر وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے امریکی وفد کو یقین دلایا ہے کہ حکومت فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے ایکشن پلان کی تکمیل کے لیے تمام ممکنہ کوشش کررہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان، ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان کی تکمیل کیلئے پرعزم

مشیر برائے خزانہ نے امریکا کے ساتھ دوطرفہ تعاون پر زور دیا اور کہا کہ تجارتی حجم بڑھانے کے لیے دونوں ممالک کے نجی شعبوں کی حوصلہ افزائی ضروری ہے۔

ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان پر عملدرآمد سے متعلق انہوں نے بتایا کہ حکومت ایکشن پلان کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لارہی ہے اور اس ضمن میں بین الااقوامی شراکت داروں کے تعاون سے وفاقی اور صوبائی حکام کی صلاحیت کو بہتر بنایا جارہا ہے۔

مزیدپڑھیں: پاکستان کو 'ایف اے ٹی ایف' بلیک لسٹ میں ڈالنے کی بھارتی سازش ناکام،خطرہ برقرار

انہوں نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی تعاون سے نمٹنے کے لائحہ عمل کو مزید مؤثر بنانے کے لیے پاکستان کے عزم کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس امر کو یقینی بنایا جائے گا کہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے مالی تعاون جیسے مسائل دوبارہ جنم نہ لیں۔

عبدالحفیظ شیخ نے منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات کو پائیدار اور موثر بنانے کے لیے عالمی برادری کی جانب سے مسلسل تعاون پر زور دیا۔

انہوں نے گزشتہ 3 ماہ کی کارکردگی پر امریکی وفد کو بتایا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ میں کمی لانے کے لیے متعدد اقدامات اٹھائے گئے جن کا مقصد محصولات میں اضافہ اور اخراجات میں کمی لانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’ایف اے ٹی ایف تجاویز پر عمل نہ کیا گیا تو معاشی پابندیوں کا سامنا کرنا ہوگا‘

ڈاکٹر حفیظ شیخ نے بتایا کہ سعودی عرب سے موخر ادائیگیوں پر تیل، ایشین ڈیولپمنٹ بینک اور آئی ایم ایف کے پروگرام کے ذریعے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کی کوشش جاری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور فیڈرل بورڈ ریونیو میں وسائل اور افرادی کمی کو دور کیا جارہا ہے۔