جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خلاف صدارتی ریفرنس چیلنج کردیا

اپ ڈیٹ 07 اگست 2019

ای میل

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے دائر درخواست 300 سے زائد صفحات پر مشتمل ہے — فوٹو: عدالت عظمیٰ ویب سائٹ
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے دائر درخواست 300 سے زائد صفحات پر مشتمل ہے — فوٹو: عدالت عظمیٰ ویب سائٹ

سپریم کورٹ کے جج قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خلاف صدارتی ریفرنس کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کر دیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے دائر درخواست 300 سے زائد صفحات پر مشتمل ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خلاف ریفرنس ذاتی طور پر چیلنج کیا جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ میرے خلاف ریفرنس بدنیتی پر مبنی ہے، لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ میری درخواست پر فیصلہ آنے تک سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی روکی جائے۔

واضح رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو 2 ریفرنسز میں شوکاز نوٹس جاری کر رکھے ہیں۔

پہلا نوٹس برطانیہ میں اہلیہ اور بچوں کے نام پر موجود جائیداد ظاہر نہ کرنے کے صدارتی ریفرنس پر جاری کیا گیا۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس کے آغا کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا تھا۔

مزید پڑھیں: جسٹس قاضی فائز کی چیف جسٹس سے اپنے خلاف ثبوت فراہم کرنے کی درخواست

ریفرنس میں دونوں جج صاحبان پر اثاثوں کے حوالے سے مبینہ الزمات عائد کرتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل سے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی استدعا کی گئی تھی۔

جسٹس قاجی فائز عیسیٰ کو جاری کیا گیا دوسرا شو کاز نوٹس صدر مملکت عارف علوی کو لکھے گئے خطوط پر لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل کی جانب سے دائر ریفرنس پر جاری کیا گیا۔

ریفرنس دائر کرنے کی خبر کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر ڈاکٹر عارف علوی کو دو خطوط لکھے تھے، پہلے خط میں انہوں نے کہا تھا کہ ذرائع ابلاغ میں آنے والی مختلف خبریں ان کی کردارکشی کا باعث بن رہی ہیں جس سے منصفانہ ٹرائل میں ان کے قانونی حق کو خطرات کا سامنا ہے۔

مستقبل میں چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے پر فائز ہونے والے متوقع ججوں میں سے ایک جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر مملکت سے یہ درخواست بھی کی تھی کہ اگر ان کے خلاف ریفرنس دائر کیا جاچکا ہے تو اس کی نقل فراہم کردی جائے کیونکہ مخصوص افواہوں کے باعث متوقع قانونی عمل اور منصفانہ ٹرائل میں ان کا قانونی حق متاثر اور عدلیہ کے ادارے کا تشخص مجروح ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سینئر ججز کے خلاف ریفرنسز کی سماعت 14 جون کو مقرر

صدر مملکت کو اپنے دوسرے خط میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا تھا کہ انہوں نے لندن میں موجود جائیدادوں سے متعلق کچھ نہیں چھپایا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 8 صفحات پر مشتمل خط میں اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدر مملکت اپنے اختیارات کے تحت اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ آئین کی پیروی کی جائے۔

لندن میں 3 جائیدادیں رکھنے کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے لکھا تھا کہ وہ خود پر اور اپنے خاندان کے خلاف تحقیقات کے طریقے پر صبر کرلیں لیکن کیا یہ معاملہ عدلیہ کی آزادی سلب کرنے کا مرتکب نہیں ہورہا۔

خط میں انہوں نے کہا کہ جج ایسا کچھ ہونے کی اجازت نہیں دیتے اور اپنے آئینی حلف کے مطابق وہ آئین کی حفاظت اور اس کا دفاع کرتے۔