غلاف کعبہ کی تبدیلی کی تقریب میں 150 سے زائد افراد نے شرکت کی— فوٹو: اے ایف پی

غلاف کعبہ کی تبدیلی کے روح پرور مناظر

سعودی عرب میں ہر سال کی طرح اس سال بھی خانہ کعبہ کو غسل دینے اور غلاف کعبہ کی تبدیلی کی پروقار تقریب منعقد ہوئی۔
اپ ڈیٹ اگست 12, 2019 12:12pm

سعودی عرب میں ہر سال کی طرح اس سال بھی غلاف کعبہ کی پروقار تقریب منعقد ہوئی جس میں حرمین شریفین کے امور کے سربراہ شیخ عبدالرحمٰن سدیس سمیت 100 سے زائد متعلقہ افراد نے شرکت کی۔

ہر سال کی طرح اس سال بھی 9ذی الحج کو خانہ کعبہ کو غسل دینے اور غلاف کعبہ کی تبدیلی کی پروقار تقریب منعقد ہوئی۔

غلاف کعبہ کو اوپر سے نیچے کی طرف پھیلایا جاتا ہے— فوٹو: اےا یف پی
غلاف کعبہ کو اوپر سے نیچے کی طرف پھیلایا جاتا ہے— فوٹو: اےا یف پی

غلاف کعبہ میں مجموعی طورپر 16 مختلف پٹیاں شامل کی جاتی ہیں— فوٹو: اے ایف پی
غلاف کعبہ میں مجموعی طورپر 16 مختلف پٹیاں شامل کی جاتی ہیں— فوٹو: اے ایف پی

غلاف کعبہ کو ’کسوہ‘ کہا جاتا ہے اور اسے ہر سال دو مرتبہ شعبان اور پھر ذی الحج کے مہینے میں تبدیل کیا جاتا ہے۔

خانہ کعبہ کے غلاف کی تبدیلی شیخ عبدالرحمٰن سدیس کی زیر نگرانی جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب کو کی گئی جس میں 150 سے زائد متعلقہ افراد نے حصہ لیا۔

غلاف کعبہ کی تیاری میں 670 کلو گرام خام ریشم استعمال کیا جاتا ہے جس کا اندرونی حصہ سیاہ رنگ میں رنگا جاتا ہے— فوٹو: اےا یف پی
غلاف کعبہ کی تیاری میں 670 کلو گرام خام ریشم استعمال کیا جاتا ہے جس کا اندرونی حصہ سیاہ رنگ میں رنگا جاتا ہے— فوٹو: اےا یف پی

شیخ عبدالرحمٰن سدیس کے سیکریٹری احمد المنصوری نے بتایا کہ نیا غلاف کعبہ چار برابر پٹیوں اور دروازے کے پردے پر مشتمل ہے جبکہ خانہ کعبہ کے چاروں اطراف کی پٹیوں کو الگ الگ تیار کیا گیا ہے۔

غلاف کی تبدیلی کے عمل کے دوران پہلے ایک طرف کا حصہ اتارا جاتا ہے اور اس کی جگہ نیا غلاف چڑھا دیا جاتا ہے اور اس کے بعد بالترتیب دوسرا، تیسرا اور چوتھا حصہ اتار کر اسے چڑھایا جاتاہے۔

خانہ کعبہ کے غلاف کو سب سے پہلے حطیم کے سامنے دیوار سے کھول کر ڈالا جاتا ہے اور اس کے بعد بالترتیب بقیہ دیواروں پر بھی ڈال دیا جاتا ہے—فوٹو: اے ایف پی
خانہ کعبہ کے غلاف کو سب سے پہلے حطیم کے سامنے دیوار سے کھول کر ڈالا جاتا ہے اور اس کے بعد بالترتیب بقیہ دیواروں پر بھی ڈال دیا جاتا ہے—فوٹو: اے ایف پی

خانہ کعبہ کے نئے غلاف پر ’یا اللہ یا اللہ، لا اله الا الله محمد رسول الله، سبحان الله وبحمده، سبحان الله العظيم، اور’ يا ديان يا منان‘ کے الفاظ درج ہیں— فوٹو: اےا یف پی
خانہ کعبہ کے نئے غلاف پر ’یا اللہ یا اللہ، لا اله الا الله محمد رسول الله، سبحان الله وبحمده، سبحان الله العظيم، اور’ يا ديان يا منان‘ کے الفاظ درج ہیں— فوٹو: اےا یف پی

یہاں یہ بات واضح رہے کہ سب سے پہلے حطیم کی طرف سے غلاف کعبہ کو کھول کر نیا غلاف ڈالا جاتا ہے اور پھر اوپر سے نیچے کی طرف پھیلایا جاتا ہے۔

احمد المنصوری نے مزید بتایا کہ غلاف کعبہ کی تیاری میں 670کلو ریشم کا استعمال کیا جاتا ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ 120کلو سنہری اور 100 کلو چاندی کا دھاگہ استعمال کیا جاتا ہے۔

غلاف کعبہ کو ہر سال شعبان اور ذی الحج کے مہینے میں تبدیل کیا جاتا ہے— فوٹو: اے ایف پی
غلاف کعبہ کو ہر سال شعبان اور ذی الحج کے مہینے میں تبدیل کیا جاتا ہے— فوٹو: اے ایف پی

یہ غلاف شاہ عبدالعزیز کارخانے میں 200 ماہرین اور منتظمین کی زیر نگرانی تیار کیا جاتا ہے اور یہ وہی کارخانہ ہے جس میں لمبائی کے اعتبار سے دنیا کی سب سے طویل مشین نصب ہے جس کی لمبائی 16میٹر ہے۔

1962 میں پاکستان کو بھی غلاف کعبہ کی تبدیلی کے عمل کی سعادت حاصل ہوئی تھی— فوٹو: اےایف پی
1962 میں پاکستان کو بھی غلاف کعبہ کی تبدیلی کے عمل کی سعادت حاصل ہوئی تھی— فوٹو: اےایف پی

غلاف کعبہ کو اتارنے کے بعد اس کے ٹکڑے مختلف ممالک کے سربراہان، سفرا اور دیگر معززین کو تحفتاً پیش کیے جاتے ہیں۔