شمالی کوریا کا حالیہ ہفتوں میں میزائل کا پانچواں تجربہ

10 اگست 2019

ای میل

شمالی کوریا نے میزائل کا پانچواں تجربہ بطور احتجاج کیا ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی
شمالی کوریا نے میزائل کا پانچواں تجربہ بطور احتجاج کیا ہے— فائل فوٹو: اے ایف پی

شمالی کوریا نے حالیہ ہفتوں میں میزائل کا پانچواں تجربہ کرتے ہوئے کم فاصلےپر ہدف کو نشانہ بنانے والے دو بیلسٹک میزائل سمندر میں فائر کیے ہیں۔

یہ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران شمالی کوریا کی جانب سے میزائل کا پانچواں تجربہ ہے جس کے ذریعے انہوں نے امریکا سے جوہری مذاکرات کے سست عمل اور امریکا اور جنوبی کوریا کی افواج کی مشترکہ فوجی مشقوں پر احتجاج کیا ہے۔

مزید پڑھیں: شمالی کوریا کا 2 ہفتے میں چوتھا میزائل تجربہ

شمالی کوریا کی جانب سے یہ اقدام ایک ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب چند گھنٹے قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہیں شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کی جانب سے ایک ’خوبصورت‘ تین صفحے کا خط ملا ہے اور وہ جوہری عمل میں آنے والے تعطل کے خاتمے کے لیے مزید بات چیت کریں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ شمالی کوریا کی جانب سے چھوٹی رینج کے ہتھیاروں کے تجربے سے خطے میں اپنے اتحادیوں کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات سے پریشان نہیں ہیں کیونکہ پیانگ یانگ نے جوہری ہتھیاروں کو روکنے کے عزم کے وعدے انحراف نہیں کیا۔

جنوبی کوریا کے جوائنٹس چیف آف اسٹاف کا کہنا ہے کہ یہ بیلسٹک میزائل شمالی کوریا کے مشرقی ساحل سے فائر کیے گئے اور جزیرہ نما کوریا اور جاپان کے درمیان سمندر میں گرنے سے قبل 48کلومیٹر کی بلندی اور 400کلومیٹر طویل سفر طے کیا۔

ہفتے کو میزائل لانچ کیے جانے کے چند گھنٹوں بعد شمالی کوریا کی سینٹرل نیوز ایجنسی کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ امریکا کے تیار کردہ ایف-35 طیارے جنوبی کوریا کو دیے جانے سے دونوں کوریا کے درمیان اعتماد کی فضا متاثر اور خطے میں جنگ کے خطرات میں اضافہ ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں: ’شمالی کوریا کے لیڈر کا مقتول بھائی سی آئی اے کا مخبر تھا’

بیان میں کہا گیا کہ ایک جنوبی کوریا اپنے ہی جیسی قوم سے الگ اور نسل پرستانہ رویہ روا رکھے گی تو اسے تباہی کے سوا کچھ نہ ملے گا اور طاقت کی ایک نئی جنگ کا آغاز ہو گا۔

ابھی تک شمالی کوریا کی جانب سے میزائل لانچ کرنے پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا البتہ جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہو گا اور شمالی کوریا سے مطالبہ کیا کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان گزشتہ سال ہونے والے معاہدے کی پاسداری کرے۔