شمالی کوریا نے میزائل تجربات پر معافی مانگی لی، ٹرمپ کا دعویٰ

اپ ڈیٹ 10 اگست 2019

ای میل

ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹ میں کم جونگ ان سے جلد ملاقات کا اظہار کیا—فوٹو: اے ایف پی
ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹ میں کم جونگ ان سے جلد ملاقات کا اظہار کیا—فوٹو: اے ایف پی

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کیے گئے ’میزائل تجربات‘ پر معافی مانگی ہے۔

خبرایجنسی اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر نے کہا کہ کم جونگ ان نے امریکا اور جنوبی کوریا کی مشترکہ عسکری مشقیں ختم ہونے کے بعد ’جوہری ہتھیاروں‘ پر مذاکرات شروع کرنے کی خواہش ظاہر کی۔

مزیدپڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کا شمالی کوریا میں ’تاریخی قدم‘

واضح رہے کہ شمالی کوریا نے گزشتہ روز میزائل کا پانچواں کامیاب تجربہ کیا اور محض چند گھنٹے بعد ہی ڈونلڈ ٹرمپ کا کم جونگ ان سے متعلق بیان سامنے آگیا۔

امریکی صدر نے ٹوئٹ میں دعویٰ کیا کہ انہیں شمالی کوریا کے رہنما نے مراسلہ بھیجا ہے جس میں دوطرفہ مذاکرات کے آغاز پر زور دیا گیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ٹوئٹ میں کم جونگ ان سے جلد ملاقات کرنے کا بھی اظہار کیا۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کے رہنما نے واضح طور پر کہا کہ وہ ملاقات کرکے مذاکرات کا عمل جلد ازجلد بحال کرنا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ شمالی کوریا جانے والے پہلے امریکی صدر بن گئے

واضح رہے کہ امریکا اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقیں اگلے ہفتے اختتام پذیر ہورہی ہیں تاہم شمالی کوریا نے مختصر فاصلے تک اپنے ہدف کو نشانہ بنانے والے میزائل کے تجربات کو ’جنگی گیم‘ کے خلاف ایک احتجاج قرار دیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’وہ ایک طویل مراسلہ تھا جس میں عسکری مشقوں کو فصول اور پیسوں کا ضائع قرار دیا گیا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ مراسلے میں شمالی کوریا کے رہنما نے میزائل تجربات پر ’چھوٹی سی معافی‘ بھی مانگی اور میزائل تجربات کا سلسلہ عسکری مشقوں کے اختتام کے ساتھ ہی روک دینے کا عندیہ دیا۔

خیال رہے کہ اگلے صدارتی انتخابات سے قبل امریکی صدر، شمالی کوریا کے ساتھ جوہری معاہدے کو حتمی شکل دینے کے خواہاں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا اور شمالی کوریا کے سربراہان کی تاریخی ملاقات

امریکی صدر نے اس سے قبل شمالی کوریا کے حالیہ میزائل تجربات کو غیر اہم قرار دیا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’میں دوبارہ کہوں گا کہ یہ کوئی جوہری میزائل کے تجربات نہیں تھے بلکہ مختصر فاصلے تک مارنے والے میزائل تھے‘۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ ’تجربات کا حصہ بننے والے میزائل بیلسٹک یا طویل فاصلے تک مارنے والے میزائل بھی نہیں تھے‘۔