وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی ممکنہ گرفتاری، حکومتِ سندھ بحران کا شکار

اپ ڈیٹ 11 اگست 2019

ای میل

نیب وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کے خلاف جعلی اکاونٹس اور منی لانڈرنگ کے حوالے سے تحقیقات کررہا ہے — فائل فوٹو/ ڈان نیوز
نیب وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کے خلاف جعلی اکاونٹس اور منی لانڈرنگ کے حوالے سے تحقیقات کررہا ہے — فائل فوٹو/ ڈان نیوز

کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی اعلیٰ قیادت کے جیل منتقل ہونے اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی ممکنہ گرفتاری کے پیش نظر پارٹی نے سندھ کی صوبائی حکومت کو بچانے کے لیے کوششیں تیز کردی ہیں۔

خیال رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سید مراد علی شاہ کے خلاف جعلی اکاونٹ کیس اور مبینہ منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کررہی ہے جس کے باعث انہیں گرفتار کیا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ اس ساری صورت حال میں پی پی پی کوشش کررہی ہے کہ ایسے قانون سازوں کو وزیر نہ بنایا جائے جن کے حوالے سے ناگواری (وہ کسی کیس میں نامزد ہیں) ظاہر کی جارہی ہے اور اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے سندھ کی صوبائی کابینہ میں حالیہ تبدیلی کی گئی ہے، اس کے علاوہ وہ 'مقتدر حلقوں' سے بھی رابطے میں ہیں تاکہ انہیں یہ بتایا جائے کہ وہ کسی سے بھی محاذ آرائی نہیں چاہتے۔

مزید پرھیں: بلاول، مراد علی شاہ کے نام 'ای سی ایل' سے نکال دیئے جائیں، سپریم کورٹ

پی پی پی نے مقتدر حلقوں کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی آئی ٹی) کی حکومت اور نیب کی مخالفت کرنے کا ہرگز یہ مقصد نہیں کہ ان کی مخالفت کی جارہی ہے۔

ڈان اخبار کو ذرائع نے بتایا کہ پارٹی کو فوری طور پر شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور، دونوں کو جعلی اکاونٹ کیس میں نیب نے گرفتار کیا تھا، کے حوالے سے کسی قسم کے ریلیف کی توقع نہیں لیکن اس وقت پارٹی کی پوری توجہ حکومت سندھ کو درپیش چلینجز پر لگی ہوئی ہیں، جہاں وہ گزشتہ 11 سال سے اقتدار میں ہے۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ ‘کچھ حلقے مراد علی شاہ سے خوش نہیں، پی پی پی کو انہیں تبدیل کرنے کے متعدد مواقع میسر آئے لیکن پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو ان کے ساتھ کھڑے تھے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘یوں معلوم ہورہا ہے کہ سندھ حکومت کو بچانے کے لیے پارٹی کی قیادت مراد علی شاہ کی قربانی دینے کو بھی تیار ہوگئی ہے لیکن بظاہر اس میں اسٹیبلشمنٹ کی دلچسپی نہیں’۔

وزیراعلیٰ کے خلاف نیب تحقیقات

ذرائع کے مطابق پی پی پی کو نیب کی جانب سے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کے خلاف فوری کارروائی کا خطرہ ہے، اس ہی وجہ سے گزشتہ ہفتے وزیر بلدیات سعید غنی نے کہا تھا کہ وزیراعلیٰ سندھ کے خلاف کسی بھی کارروائی کو تعصب اور وفاقی حکومت کی جانب سے مخصوص افراد کے خلاف کارروائی کی مہم کا حصہ تصور کیا جائے گا۔

اسی حوالے سے حیدرآباد میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے سعید غنی نے بتایا تھا کہ پارٹی نے تاحال متبادل وزیراعلیٰ کے نام کے بارے میں نہیں سوچا ہے اور نہ ہی اس پر بات چیت ہوئی ہے لیکن دوسری جانب ذرائع نے بتایا کہ پارٹی نے مراد علی شاہ کی ممکنہ گرفتاری کی صورت میں سکھر سے منتخب ہونے والے وزیر کے نام کو ممکنہ طور پر نئے وزیراعلیٰ کے لیے حتمی شکل دے دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نیب کی وزیراعلیٰ سندھ سے ٹھٹہ، دادو شوگر ملز کی نیلامی پر تفتیش

واضح رہے مراد علی شاہ کی ممکنہ گرفتاری یا مستعفی ہونے کی صورت میں صوبائی اسمبلی میں موجود اپوزیشن کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ آئینی طریقے سے پی پی پی کی حکومت کو ختم کرکے اپنا وزیراعلیٰ منتخب کرسکیں، جن کے پاس 168 کے ایوان میں سے ایک تہائی اراکین کی اکثریت حاصل ہے۔

یاد رہے کہ سندھ اسمبلی میں پی پی پی کی صوبائی حکومت کے اراکین کی تعداد 99 جبکہ اپوزیشن میں پی ٹی آئی کے نمائندوں کی تعداد 30، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے 21، گرینڈ ڈیموگریٹک الائنس 14، تحریک لبیک پاکستان اور متحدہ مجلس عمل کا ایک ایک رکن شامل ہے۔

ان اعدادوشمار سے واضح ہوتا ہے کہ اگر اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد بھی ہوجاتا ہے تب بھی انہیں حکومت کی تشکیل میں 16 اراکین کی کمی کا سامنا ہے۔

تاہم اپوزیشن رہنما نے ڈان سے بات چیت کرتے ہوئے کسی 'معجزے' کے ہونے پر زور دیا، جیسا کہ سینیٹ کے چیئرمین صادق سجرانی کے خلاف پیش کی گئی اپوزیشن کی عدم اعتماد کی تحریک میں ہوا تھا۔