رانا ثنا اللہ کے داماد 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

11 اگست 2019

ای میل

پولیس نے رانا ثنا اللہ کے داماد کی 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی — فائل فوٹو ڈان نیوز
پولیس نے رانا ثنا اللہ کے داماد کی 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی — فائل فوٹو ڈان نیوز

جوڈیشل مجسٹریٹ نے قتل کے الزام میں گرفتار رانا ثنا اللہ کے داماد رانا شہریار کو 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کے لیے رانا شہریار کو جوڈیشل مجسٹریٹ ظفر اقبال کے روبرو پیش کیا تھا۔

رانا ثنا اللہ کے داماد کو پولیس نے ہتھکڑیاں لگا کر جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا، اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

مزید پڑھیں: 'عمران خان، رانا ثنا اللہ کی جان سے کھیل رہے ہیں'

ذرائع کا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے رانا شہریار کا 14 روزہ ریمانڈ حاصل کرنے کی درخواست کی گئی تھی لیکن جوڈیشل مجسٹریٹ نے صرف 7 روزہ ریمانڈ منظور کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر اور سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثنااللہ کے داماد رانا شہریار پر 2016 میں مبینہ طور پر آصف بٹ نامی شخص کو قتل کرنے کا الزام ہے۔

یاد رہے کہ پولیس نے رانا شہریار کو اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ اپنے سسر رانا ثنا اللہ سے ملاقات کے لیے جیل آئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: رانا ثنا اللہ کی گرفتاری کے پیچھے جعلی اعظم ہیں، مریم نواز

رانا شہریار کو فیصل آباد پولیس نے احاطہ عدالت سے گرفتار کیا جس کے مطابق لیگی رہنما کے داماد کے خلاف فیصل آباد میں قتل کا مقدمہ درج ہے۔

یاد رہے کہ یکم جولائی کو مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنااللہ کو اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے پنجاب کے علاقے سکھیکی کے نزدیک اسلام آباد-لاہور موٹر وے سے گرفتار کیا تھا۔

اے این ایف حکام کے مطابق گرفتاری کے وقت رانا ثنا اللہ کی گاڑی سے منشیات بھی برآمد ہوئی تھی۔

تاہم اس گرفتاری پر مسلم لیگ (ن) کا سخت ردعمل سامنے آیا تھا اور اس کے پیچھے وزیر اعظم عمران خان کے ہونے کا الزام لگایا تھا۔