اسلام آباد انتظامیہ کی وزارت صحت سے ڈینگی بچاؤ ٹیمیں متحرک کرنے کی درخواست

اپ ڈیٹ 11 اگست 2019

ای میل

حکام کے مطابق گاڑی کے ٹائر کھلی فضا میں رکھنے پر بھی پابندی ہے — فائل فوٹو: ڈان فائل
حکام کے مطابق گاڑی کے ٹائر کھلی فضا میں رکھنے پر بھی پابندی ہے — فائل فوٹو: ڈان فائل

اسلام آباد کی انتظامیہ نے قومی ادارہ صحت (این ایچ ایس) کی وزارت سے ڈینگی بچاؤں ٹیموں کو متحرک رہنے کی ہدایت کرنے کی درخواست کردی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق کیپٹل انتظامیہ نے این ایچ ایس سے شہر میں بڑھتے ہوئے ڈینگی خطرے کے پیش نظر ضروری اقدامات کرنے کی بھی درخواست کی۔

کیپٹل انتظامیہ کے حکام کے مطابق ایک روز قبل اجلاس طلب کیا گیا تھا جس میں تمام متعلقہ محکموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران این ایچ ایس نمائندوں سے درخواست کی گئی کہ وہ اپنی ٹیموں کو متحرک کریں اور انہیں راوت سمیت تمام متعلقہ علاقوں میں بھیجیں۔

مزید پڑھیں: ملک میں شعبہ صحت کا قابلِ اعتماد ڈیٹا موجود نہیں، قومی ادارہ صحت

کیپٹل انتظامیہ کے حکام نے بتایا کہ این ایچ ایس کی ٹیمیں اس وقت ترنول اور بھارا کاہو کے مقام پر کام کر رہی ہیں، تاہم وہاں کوئی خطرات نہ ہونے کی وجہ سے ان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اسلام آباد کے سرحدی حصوں پر توجہ دیں۔

خیال رہے کہ راوت ہی این ایچ ایس نمائندوں کی توجہ کا مرکز ہے تاہم اس کے علاوہ کسی اور علاقے سے ڈینگی کے کیس رپورٹ نہیں ہوئے۔

حکام کا کہنا تھا کہ قومی ادارہ صحت کے حکام عام لوگوں میں ڈینگی بچاؤ آگاہی پیدا کرتے ہیں، وہ انہیں بتاتے ہیں کہ پانی کو کھلا نہ چھوڑیں، ڈینگی لاروا کو ختم کرنے کے لیے علاقے میں اسپرے کروائیں اور اس کی افزائش کا پتہ لگانے کے لیے کوڑا کرکٹ کا لیباٹری ٹیسٹ بھی کروائیں۔

علاوہ ازیں کیپٹل انتظامیہ نے محکمہ فشریز سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ ایسی مچھلیوں کی موجودگی بھی یقینی بنائیں جو ڈینگی لاروا کو کھا جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ڈینگی مچھر کے وار سے کیسے بچنا ہے؟

ان مچھلیوں کی قیمتیں 2 روپے سے 5 روپے تک ہوتی ہیں جبکہ ایک محدود حد تک پانی کی صفائی کے لیے 5 مچھلیاں کافی ہیں۔

حکام نے بتایا کہ انتظامیہ نے گاڑی کے غیر استعمال شدہ ٹائر کھلی فضا میں رکھنے، کھلی جگہ پر پانی یا کوڑا کرکٹ پھینکنے پر پابندی عائد کردی ہے جبکہ سیوریج لیکیج کا دھیان رکھنے کی بھی ہدایت کردی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ اسسٹنٹ کمشنرز اور مجسٹریٹ کو ہدایت کی گئی کہ وہ ان پابندیوں کو یقینی بنانے کے لیے اپنے اپنے متعلقہ علاقوں کا دورہ کریں اور روزانہ کی بنیاد پر اس کی رپورٹ بھی پیش کریں۔