ہانگ کانگ: ہزاروں مظاہرین کا ایئرپورٹ پر احتجاج، تمام پروازیں منسوخ

12 اگست 2019

ای میل

مظاہرین نے پولیس کے خلاف پلے کارڈ اٹھائے رکھے تھے—فوٹو: رائٹرز
مظاہرین نے پولیس کے خلاف پلے کارڈ اٹھائے رکھے تھے—فوٹو: رائٹرز

ہانگ کانگ میں پولیس تشدد کے خلاف احتجاج کرنے والے ہزاروں مظاہرین کی ایئرپورٹ کی طرف پیش قدمی کے بعد پیر کو وہاں آنے اور جانے والی تمام پروازیں منسوخ کردی گئیں۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے مصروف ترین مرکز میں سے ایک پر شٹ ڈاؤن کی صورتحال اس وقت دیکھنےمیں آئی جب چینی حکومت کا غصہ بڑھ رہا ہے اور اس نے کچھ پرتشدد مظاہروں کی مذمت کرتے ہوئے اسے 'دہشت گردی' قرار دیا ہے۔

اس صورتحال نے 10 ہفتوں سے جاری بحران کو مزید ڈرامائی صورتحال کے تحت بڑھا دیا ہے۔

خیال رہے کہ چین کی جانب سے مجرمان کی حوالگی کی اجازت دینے سے متعلق بل سامنے آنے کے بعد شروع ہونے والا یہ احتجاج مسلسل 10 ہفتوں سے جاری ہے۔

مزید پڑھیں: ہانگ کانگ میں ہنگامہ آرائی اور مظاہرے

یہ احتجاج 1997 سے ہانگ کانگ پر حکمرانی کرنے والے چین کے لیے بہت بڑا چیلنج بن گیا ہے۔

انتظامیہ کے مطابق 5 ہزار سے زائد مظاہرین نے پیر کو ہانگ کانگ ایئرپورٹ کا رخ کیا، جنہوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے، جس پر درج نعروں میں ریلیوں پر پولیس تشدد کی مذمت کی گئی تھی۔

اگرچہ گزشتہ 3 روز میں دیگر ریلیاں بھی منعقد ہوئیں لیکن ایئرپورٹ انتظامیہ کا کہنا تھا کہ پیر کا احتجاج افراتفری کا باعث بنا۔

ایک بیان میں انتظامیہ نے کہا کہ 'ہانگ کانگ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر عوامی احتجاج کے باعث ایئرپورٹ آپریشنز کے امور بری طرف متاثر ہوئے'۔

صورتحال کے پیش نظر 'چیک ان کا عمل مکمل کرنے والی روانگی کی پروازیں اور ہانگ کانگ کے لیے پہلے سے پرواز بھرنے والی پروازوں کے علاوہ دن بھر کے لیے تمام پروازوں کو منسوخ کردیا گیا'۔

انتظامیہ نے خبردار کیا کہ ایئرپورٹ کو آنے والے روٹ پر 'بہت بھیڑ' ہے اور کار پارکنگ کی جگہ مکمل بھر چکی ہے، لہٰذا عوام کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ایئرپورٹ نہیں آئیں'۔

تاہم ایئرپورٹ پر احتجاج کرنے والے ہزاروں مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر 'ہانگ کانگ محفوظ نہیں' اور 'پولیس شرم کرو' درج تھا۔

مظاہرین کی جانب سے الزامات لگائے گئے کہ پولیس ان کے مظاہروں کو روکنے کے لیے پرتشدد حربوں کا تیزی سے استعمال کر رہی ہے۔

قبل ازیں ہفتے کے اختتام پر سب وے اسٹیشن پر مظاہرین پر پولیس نے آنسو گیس کے شیل فائر کردیے تھے، جس پر مظاہرین نے ردعمل دیتے ہوئے پولیس پر پتھراؤ اور پانی پھینکا تھا۔

اس حوالے سے حکومتی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ان تصادم میں 45 افراد زخمی ہوئے، جس میں سے 2 کی حالت تشویش ناک ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ہانگ کانگ میں مظاہرین کا پارلیمنٹ پر قبضہ

زخمی ہونے والوں میں ایک خاتون بھی شامل ہیں، جنہیں مبینہ طور پر بین بیگ راؤنڈ لگنے سے چہرے پر شدید زخم آئے جبکہ یہ افواہیں بھی گردش کرنے لگی کہ وہ اپنی بینائی سے محروم ہوگئیں ہیں۔

ادھر بیجنگ انتظامیہ نے ان پرتشدد مظاہروں پر سخت تنقید کرتے ہوئے پولیس افسران پر پیٹرول بم پھینکنے والوں کو 'دہشت گردی' سے تشبیہ دی۔

ہانگ کانگ اور اسٹیٹ کونسل کے مکاؤ امور دفتر کے ترجمان یانگ گوانگ کا کہنا تھا کہ ' ہانگ کانگ کے بنیاد پرست مظاہرین مسلسل پولیس افسران پر حملے کے لیے انتہائی خطرناک آلات استعمال کر رہے ہیں، جو پہلے ہی ایک سنگین پرتشدد جرم ہے اور یہ دہشت گردی کے ابھرنے کی پہلی نشانی کو ظاہر کر رہا ہے'۔