تکنیکی مسائل کے باعث اقتصادی زونز پر کام کے آغاز میں تاخیر

14 اگست 2019

ای میل

سی ڈی اے کے مطابق اسلام آباد میں اقتصادی زون کی تعمیر کے لیے سرکاری جگہ دستیاب نہیں — فائل فوٹو: اے پی
سی ڈی اے کے مطابق اسلام آباد میں اقتصادی زون کی تعمیر کے لیے سرکاری جگہ دستیاب نہیں — فائل فوٹو: اے پی

اسلام آباد: پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت بنائے جانے والے خصوصی اقتصادی زون پر تکنیکی وجوہات کی وجہ سے اب تک کام شروع نہیں کیا جاسکا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں سی پیک کے تحت 9 اقتصادی وفاقی دارالحکومت، تمام صوبوں سمیت گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر میں بھی بنائے جائیں گے۔

مسلم لیگ (ن) کی رکن اسمبلی مہناز اکبر عزیز کی جانب سے قومی اسمبلی میں پوچھے گئے سوال پر دی گئی معلومات کے مطابق ان اقتصادی زونز کے لیے زمین حاصل کرنے کا کام مکمل کیا جارہا ہے۔

مزید پڑھیں: سی پیک پر خصوصی اقتصادی زون، چینی ماہرین کی آمد متوقع

نوشہرہ (خیبرپختونخوا) میں رکشاکئی اقتصادی زون، دھابیجی (سندھ) میں چائینا اسپیشل اقتصادی زون، بوستان انڈسٹریل زون (بلوچستان)، فیصل آباد (پنجاب) میں علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی، اسلام آباد میں آئی سی ٹی انڈسٹریل زون، کراچی (سندھ) میں پاکستان اسٹیل ملز کی زمین پر پورٹ قاسم کے قریب انڈسٹریل پارک، میرپور (آزاد جموں و کشمیر) میں خصوصی اقتصادی زون، مہمند (خیبرپختونخوا) مہمند ماربل سٹی، گلگت بلتستان میں موقپونداس کے نام سے خصوصی اقتصادی زون قائم کیے جائیں گے۔

ڈان کو حاصل ہونے والی دستاویزات کے مطابق ان خصوصی اقتصادی زون کی تشخیص اور حساب کتاب کا کام ہی مکمل نہیں کیا جاسکا ہے۔

خیبرپختونخوا اکنامک زون ڈویلپمنٹ کمپنی (کے پی ای زی ڈی ایم سی) اور چین کی چائینا روڈ اینڈ برج کاپوریشن (سی آر بی سی) کے درمیان رکشاکئی اقتصادی زون کی تعمیر کے لیے نومبر 2018 میں معاہدہ ہوا تھا تاہم حکومت کو امید ہے کہ اس کے آف سائٹ انفرا اسٹرکچر سہولیات کا کام رواں برس 31 اکتوبر سے شروع کردیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور چین آزادانہ تجارتی معاہدے کے نئے دور میں داخل

جہاں تک بنیادی سہولیات کی فراہمی کا تعلق ہے، اس ضمن میں پی سی-ون کی پیشکش جمع کروادی جائے گی، جس کے بعد پاور ڈویژن اس پیشکش کا جائزہ لے گا اور اس کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت فنڈنگ کا سلسلہ شروع کرے گا۔

دستاویزات کے مطابق وزیر پیٹرولیم ڈویژن اس زون میں گیس کی فراہمی کے لیے ضروری اقدامات کر رہی ہے جبکہ صوبائی حکومت پانی کی مناسب فراہمی کو یقینی بنائے گی۔

دوسری جانب سندھ بورڈ آف ریونیو (ایس بی آر) کی جانب سے سندھ میں دھابیجی کے قریب ایک ہزار 5 سو 30 ایکڑ زمین مختص کرلی گئی ہے جس کی جائزہ رپورٹ اپریل 2018 میں ہی مکمل کرلی گئی تھی۔

اس کے ساتھ ساتھ اس زون کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے کراچی الیکٹرک، سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ (کے ڈبلیو ایس بی) نے تخمینہ رپورٹ کی بنیاد پر پیشکش متعلقہ ڈویژنز کو پیش کی تھی۔

مزید پڑھیں: چینی نائب صدر کی پنجاب حکومت کو معاشی تعاون کی پیشکش

اسی طرح بلوچستان انڈسٹریز ڈپارٹمنٹ نے بھی بوستان اقتصادی زون کی اپنی جائزہ رپورٹ تیار کرکے پیش کی۔

فیصل آباد میں علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی (ایم 3) کا سنگ بنیاد رواں ماہ کے اختتام تک رکھے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے حکومت نے دعویٰ کیا کہ زمین حاصل کرنے کا 80 فیصد کام مکمل کیا جاچکا ہے تاہم باقی زمین حاصل کرنے کے لیے کام جاری ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں سرکاری زمین کی عدم دستیابی کی وجہ سے خصوصی اقتصادی زون کی تعمیر تاخیر کا شکار ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی سی پیک کے تحت اقتصادی منصوبے تیز کرنے کی ہدایت

دستاویزات کے مطابق نیشنل انڈسٹریل پارک منیجمنٹ کمپنی (این آئی پی) اور بورڈ آف انوسٹمنٹ (بی او آئی) کی اسلام آباد کے سیکٹر 17 میں زمین کے حصول کے لیے کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) سے بات چیت جاری تھی۔

تاہم سی ڈی اے کی جانب سے تحریری طور پر بتایا گیا کہ دارالحکومت میں سرکاری جگہ دستیاب نہیں ہے۔

اسٹیل ملز پاکستان (کراچی) میں انڈسٹریل پارک کے لیے زمین سے متعلق دستاویزات میں بتایا گیا کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز نے زمین دینے سے متعلق منظوری دے دی تھی تاہم اب بھی مسئلہ این آئی پی انتظامیہ اور پی ایس ایم کے درمیان زیر غور ہے۔