مقبوضہ کشمیر کے سیاسی رہنما شاہ فیصل نئی دہلی ایئرپورٹ پر گرفتار

اپ ڈیٹ 15 اگست 2019

ای میل

بھارتی حکام یہ بتانے سے قاصرہیں کہ شاہ فیصل کو کس الزام میں گرفتار کیا گیا—فوٹو: رائٹرز
بھارتی حکام یہ بتانے سے قاصرہیں کہ شاہ فیصل کو کس الزام میں گرفتار کیا گیا—فوٹو: رائٹرز

بھارت میں حکام نے مقبوضہ کشمیر کے سیاسی رہنما شاہ فیصل کو نئی دہلی ایئرپورٹ پر گرفتار کرکے انہیں واپس وادی میں بھیج دیا۔

شاہ فیصل سابق بیوروکریٹ ہیں جنہیں 2009 میں مقبولیت حاصل ہوئی تھی، وہ سول سروس کا امتحان پاس کرنے والے پہلے کشمیری تھے۔

انہوں نے رواں سال جنوری میں سرکاری ملازمت چھوڑ کر جموں و کشمیر پیپلز موومنٹ کے نام سے اپنی سیاسی جماعت بنائی۔

بی بی سی پر شائع رپورٹ کے مطابق انہیں نئی دہلی ایئرپورٹ پر حراست میں لیا گیا۔

مزیدپڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے باوجود بھارت مخالف مظاہرے

خیال رہے کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد شاہ فیصل کو گرفتار یا نظر بند نہیں کیا گیا تھا۔

دوسری جانب یوم آزادی کے موقع پر وزیراعظم پاکستان عمران خان نے آزاد کشمیر کی دستور ساز اسمبلی سے خطاب کے دوران خبردار کیا کہ کشمیر کے معاملے پر جنگ ہوئی تو عالمی طاقتیں ذمہ دار ہوں گی جو اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کرانے میں ناکام ہیں۔

پریس ٹرسٹ انڈیا کے مطابق بھارتی حکام نے بتایا کہ شاہ فیصل کو بدھ کے روز ایئرپورٹ پر اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ترکی جارہے تھے۔

تاہم بھارتی حکام یہ بتانے سے قاصرہیں کہ انہیں کس الزام میں گرفتار کیا گیا۔

اس حوالے سے بھارتی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ شاہ فیصل کو نظربند کردیا گیا ہے تاہم اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر: بھارت کی ‘دہشت گردی’ کی وارننگ پر سیاحوں کی واپسی

بی بی سی نے کہا کہ وہ شاہ فیصل کی نظر بندی سے متعلق متضاد خبروں کی تصدیق نہیں کرسکے۔

اس سے قبل شاہ فیصل نے بی بی سی کے پروگرام ہارڈ ٹاک میں اپنی عدم گرفتاری پر تعجب کا اظہار کیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’مجھے اپنے آپ سے شرم آرہی کہ میں اس وقت آزاد ہوں جبکہ کشمیری رہنماؤں کی ساری قیادت جیل میں ہے’۔

سابق بیورو کریٹ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ’دن دھاڑے آئین کا قتل‘ کردیا۔

دوسری جانب اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے جنرل سیکریٹری نے مقبوضہ کشمیر میں مذہبی آزادی پر قدغن پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی عمل کو ’عالمی انسانی حقوق کے قوانین کی سخت خلاف ورزی‘ قرار دے دیا۔

مزیدپڑھیں: 'بھارت، کشمیر میں انسانی تاریخ کی بدترین نسل کشی کا آغاز کرنے والا ہے'

علاوہ ازیں مقبوضہ کشمیر کے گورنر ستیا پال ملک نے بھارت کے یوم آزادی (15 اگست) کے بعد وادی میں نافذ کرفیو میں نرمی کا دعویٰ کیا ہے۔

ستیا پال ملک نے ٹائمز آف انڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ کرفیو میں نرمی کے باوجود مواصلات (فون لائنز اور انٹرنیٹ) کا نظام معطل رہے گا۔

خیال رہے کہ 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے سے قبل بھارتی حکام نے موبائل اور انٹرنیٹ سروسز معطل کرکے کرفیو نافذ کردیا تھا۔