جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا انحصار اب حالات پر ہوگا، بھارت

اپ ڈیٹ 16 اگست 2019

ای میل

بھارت نے 1998 میں جوہری طاقت بننے کا اعلان کیا تھا — فائل فوٹو/ اے ایف ہی
بھارت نے 1998 میں جوہری طاقت بننے کا اعلان کیا تھا — فائل فوٹو/ اے ایف ہی

بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے جوہری ہتھیار استعمال نہ کرنے کی پالیسی میں تبدیلی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مستقبل میں اس کا انحصار حالات پر ہوگا۔

برطانوی خبررساں ادارے ’ رائٹرز ‘ کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے مغربی علاقے میں جوہری دھماکوں کے مقام پوکھران کے دورے کے موقع پر بھارتی وزیر دفاع نے بھارت کو جوہری طاقت بنانے پر سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کو خراج تحسین پیش کیا۔

بعدازاں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ’ پوکھران کے مقام پر بھارت کو جوہری طاقت بنانے کے لیے ہم نے اٹل جی (بھارت کے سابق وزیراعظم) کے پختہ عزم کو دیکھا تھا اور ہم اب تک جوہری ہتھیار پہلے استعمال نہ کرنے کی پالیسی پر سختی سے عمل کررہے ہیں‘۔

بھارت کے وزیر دفاع نے کہا کہ ’مستقبل میں کیا ہوتا ہے اس کا انحصار حالات پر ہے‘۔

مزید پڑھیں: ’کشمیری جانوروں کی طرح پنجرے میں قید اور اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں‘

دوسری جانب راج ناتھ سنگھ کے بیان سے متعلق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیر دفاع کے بیان نے قومی سلامتی کے معاملے میں غیریقینی کی صورتحال پیدا کردی ہے۔

واضح رہے کہ بھارت نے 1998 میں جوہری طاقت بننے کا اعلان کیا تھا اور اس کے مختصر وقفے کے بعد پاکستان نے بھارتی ایٹمی دھماکوں کے جواب میں جوہری طاقت کا مظاہرہ کیا تھا۔

اس وقت سے جوہری ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں حریف ممالک جوہری ہتھیار اور میزائل تیار کررہے ہیں۔

ایٹمی تجربے کے وقت بھارت نے کہا تھا کہ اسے چین کے جوہری ہتھیاروں کا مقابلہ کرنے کی ضرورت تھی لیکن اسے طویل عرصے سے پاکستان کی ایٹمی صلاحیتوں سے متعلق تشویش ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی، صدارتی فرمان جاری

بھارت کے سیاسی تجزیہ کار اور ماہرِ دفاع شیکھر گُپتا نے کہا کہ بھارتی حکومت جوہری ہتھیار پہلے استعمال نہ کرنے کے معاملے پر وسیع النظر دکھائی دے رہی اور یہ تبصرے پاکستان سے متعلق بھی ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا کہ ’ راج ناتھ سنگھ سوچ سمجھ کر بات کرتے ہیں، وہ پالیسی سے منتقلی کی بات نہیں کررہے لیکن جوہری ہتھیار سے متعلق این ایف یو (نو فرسٹ یوز) پالیسی پر کشادہ ذہن سے سوچ رہے ہیں‘۔

ادھر امریکا میں ایم آئی ٹی میں جوہری امور کے ماہر وپن نارنگ کا کہنا تھا کہ راج ناتھ سنگھ کا بیان اس بات کا عندیہ تھا کہ جوہری ہتھیار پہلے استعمال نہ کرنے کی پالیسی مستقبل میں تبدیل ہوسکتی ہے۔

وپن نارنگ نے ٹوئٹ میں کہا کہ ’ کوئی غلطی نہ کرے، یہ بھارت کے وزیر دفاع کی جانب سے اعلیٰ سطح بیان دیا گیا ہے کہ بھارت جوہری ہتھیار پہلے استعمال نہ کرنے کی پالیسی پر ہمیشہ عمل نہیں کرے گا‘۔

خیال رہے کہ بھارت کی جانب سے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے سے متعلق صدارتی فرمان جاری کرنے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔