کیک پر ’ہم جنس پرستی‘ کی حمایت میں جملہ نہ لکھنے پر معاملہ عدالت پہنچ گیا

اپ ڈیٹ 16 اگست 2019

ای میل

بیکری نے ہم جنس پرستوں کی شادی کی حمایت میں جملہ لکھنے سے انکار کردیا تھا—فوٹو: بشکریہ دی گارجین
بیکری نے ہم جنس پرستوں کی شادی کی حمایت میں جملہ لکھنے سے انکار کردیا تھا—فوٹو: بشکریہ دی گارجین

شمالی آئرلینڈ میں ایک بیکری کی جانب سے ہم جنس پرستوں کی شادی کی حمایت میں کیک کے اوپر ’تعریفی جملہ‘ لکھنے سے انکار پر معاملہ انسانی حقوق کی یورپی عدالت میں پہنچ گیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق آئرلینڈ کے دارالحکومت بیل فاسٹ میں مئی 2014 کو گیرتھ لی نامی شخص نے اشرز نامی بیکری کو 36 پاؤنڈ کے ایک کیک کا آرڈر دیا، جس پر ہم جنس پرستوں کی شادی کی حمایت میں ایک جملہ لکھنے کا بھی کہا گیا۔

مزید پڑھیں: برطانیہ: مسلمان بچوں کو ہم جنس پرستی کی تعلیم دینے پر احتجاج

تاہم بیکری نے کیک کا آرڈر منسوخ کرتے ہوئے صارف کے مطالبے کو ’بنیادی نظریات کے منافی‘ قرار دیا تھا۔

اس انکار کے بعد گیرتھ لی نامی شخص نے بیکری کے خلاف برطانیہ کی سپریم کورٹ میں امتیازی سلوک کا مقدمہ دائر کیا تھا۔

ہم جنس پرستوں کے سماجی رکن گیرتھ لی نے ’جنس اور سیاسی نظریات‘ کی بنیاد پر امتیازی سلوک اپنانے پر بیکری کو عدالت میں لا کھڑا کیا تھا۔

تاہم سپریم کورٹ نے گزشتہ برس بیکری کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے ریمارکس دیئے تھے کہ بیکری کا رویہ امتیازی نہیں تھا۔

ہم جنس پرستوں کے سماجی رکن— فوٹو: دی گارجین
ہم جنس پرستوں کے سماجی رکن— فوٹو: دی گارجین

بعد ازاں مذکورہ معاملے میں حالیہ پیش رفت یہ سامنے آئی کہ گیرتھ لی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ’برطانیہ کی سپریم کورٹ انسانی حقوق کے یورپین کنونشن کے تحت ان کے دلائل کو ضروری اہمیت دینے میں ناکام رہی۔'

دوسری جانب بیکری مالکان نے موقف اختیار کیا کہ ان کا اعتراض کیک کے اوپر لکھے جانے والے ’پیغام‘ پر تھا، صارف پر نہیں۔

ادھر گیرتھ لی کے وکیل نے کہا کہ ’یورپی عدالت میں مقدمہ بیکری پر نہیں بلکہ برطانیہ کے خلاف ہوگا‘۔

بیکری کے مالکان جنہوں نے کیک پر ہم جنس پرست شادی کی حمایت میں جملہ لکھنے سے انکار کیا— فوٹو: دی گارجین
بیکری کے مالکان جنہوں نے کیک پر ہم جنس پرست شادی کی حمایت میں جملہ لکھنے سے انکار کیا— فوٹو: دی گارجین

انہوں نے کہا کہ ’اپنے موکل کو انصاف دلانے کے لیے آخری قانونی کوشش یورپ میں انسانی حقوق کی سب بڑی عدالت میں کریں گے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ برطانوی سپریم کورٹ کے فیصلے نے شمالی آئرلینڈ میں ہم سب کے لیے قانونی پیچیدگیاں پیدا کر دی ہیں اور اب انسانی حقوق کی یورپی عدالت میں مذکورہ مسئلہ اٹھائیں گے‘۔