’قوم تیار رہے، بھارت کسی بھی وقت جارحیت کر سکتا ہے‘

اپ ڈیٹ 17 اگست 2019

ای میل

شاہ محمود قریشی کے مطابق ہم نے آج بھی یکجہتی کا پیغام دیا ہے — فوٹو: اے پی
شاہ محمود قریشی کے مطابق ہم نے آج بھی یکجہتی کا پیغام دیا ہے — فوٹو: اے پی

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کسی بھی وقت پاکستان کے خلاف جارحیت کرسکتا ہے جس کے بارے میں بین الاقوامی برادری کو آگاہ کر رہے ہیں جبکہ پاکستانی قوم بھارتی جارحیت سے نمٹنے کے لیے مکمل تیار ہے۔

خصوصی کمیٹی برائے کشمیر کے پہلے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ’آج اجلاس میں گزشتہ روز کے ایک بہت بڑے ایونٹ کا ذکر ہوا جس سے بھارت چونک گیا ہے۔‘

وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے جس طرح مظفر آباد اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں یکجہتی کا پیغام دیا تھا، آج بھی اسی طرح یکجہتی کا پیغام گیا ہے جس میں تمام اراکین کا کردار سامنے آیا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے سلامتی کونسل کے اجلاس کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ 5 دہائیوں بعد مسئلہ کشمیر کو دنیا کے سب سے بڑے فورم پر اٹھایا گیا اور اس دوران اقوام متحدہ کی قراردادوں کی اہمیت اور سیکریٹری جنرل کے قیام کا تذکرہ ہوا جو بہت ہی حوصلہ افزا نشست تھی۔

مزید پڑھیں: اُمہ کے محافظوں کے بھارت میں مفادات ہیں، شاہ محمود قریشی

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت کی بھرپور کوشش کے بعد سلامتی کونسل کا اجلاس منعقد ہونا پاکستان کی کامیابی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سلامتی کونسل میں پاکستان نے ایک بہت بڑا معرکہ سر کیا ہے جس سے بھارت چونک گیا ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنی حکمت عملی ترتیب دینی ہے، کشمیر کی لڑائی ایک طویل لڑائی ہوگی جو ہمیں دنیا کے ہر محاذ پر لڑنی ہوگی۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے شاہ محمود نے کہا کہ کشمیر کی لڑائی ایک عمل ہے جس کے دوران گزشتہ روز سلامتی کونسل کا اجلاس ایک ایونٹ تھا، تاہم پورے عمل کے لیے ہمیں تیاری کرنی ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کا یوم آزادی: مقبوضہ کشمیر، پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم سیاہ

ان کا کہنا تھا کہ اجلاس کے دوران ہماری قانونی اور سفارتی حکمت عملی مرتب کرنے پر بات چیت ہوئی ہے جس میں تمام اراکین نے مفید مشورے دیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ’بین الاقوامی توجہ ہٹانے کے لیے بھارت ایک جھوٹا آپریشن کرے، تاہم ہم بین الاقوامی برادری کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں کہ ہم ان کے ارادوں سے واقف ہیں اور ان کی نیت پر شک ہے، تاہم ایسے میں پاکستان کے ادارے اور قوم تیار ہے۔

صحافی کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگر پاکستان کی دیگر عالمی طاقتوں سے روابط نہیں ہوتے تو اجلاس منعقد نہیں ہوتا۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے اجلاس منعقد نہ ہونے کے لیے سر توڑ کوششیں کیں اور کیا کیا کہا ہے وہ اس وقت بتانے کا وقت نہیں ہے۔

مزید دیکھیں: یوم آزادی پاکستان، کشمیر بنے گا پاکستان

عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں جانے سے متعلق انہوں نے کہا کہ وزارت قانون اور اٹارنی جنرل کی بات ہوئی ہے وہاں جانے کے محرکات پر گفتگو ہوگی، ابھی یہ پہلا اجلاس ہے چیزوں کو میز پر لایا جارہا ہے۔

مختلف سفارتخانوں میں کشمیر ڈیسک کے قیام کا فیصلہ

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ دنیا میں کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے اہم دارالحکومتوں کی نشاندہی کی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں پاکستان کے مختلف سفارتخانوں میں کشمیر ڈیسک کا قیام عمل میں لایا جائے گا جبکہ ان میں کشمیر سے متعلق ایک ترجمان بھی رکھا جائے گا۔

علاوہ ازیں اجلاس کے دوران وزارت خارجہ میں کشمیر سیل کے قیام کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے جس سے متعلق وزیر خارجہ نے بتایا کہ یہ سیل کشمیر کے امور پر کڑی نظر رکھے گا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’ہماری نظر پوری صورتحال پر ہے اور اس معاملے میں ہماری ملاقات ہوتی رہے گی۔‘

’بھارت ڈوول ڈاکٹرائن پر عمل پیرا ہے‘

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج ہم اس بات پر متفق ہیں کہ ہندوستان سے آوازیں آرہی ہیں کہ مودی نے نہرو کے بھارت کو دفن کردیا اور آج جو بھارت کا چہرہ دنیا دیکھ رہی ہے یہ نہرو کا نہیں بلکہ مودی کا بھارت ہے اور دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ بھارت کی حکمت عملی ڈوول ڈاکٹرائن پر عمل پیرا ہے جس کے تین نمایاں کردار ہیں جن میں وزیراعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت دوبارہ بحال کرنے کے لیے اب بھارت میں بھی آوازیں بلند ہورہی ہیں جس کے حوالے سے پٹیشن دائر کی جارہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا انحصار اب حالات پر ہوگا، بھارت

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب دماغ میں خرابی پیدا ہوتی ہے تو ایسا ہی اقدام اٹھایا جاتا ہے جو 5 اگست کو اٹھایا گیا اور جب کوئی سٹھیا جاتا ہے تو ایسا بیان دیا جاتا ہے جو بھارتی وزیر داخلہ نے دیا ہے۔

انہوں نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت، پاکستان کے خلاف مس ایڈونچر کر سکتا ہے تاہم قوم تیار رہے، ہم بھارت کو منہ توڑ جواب دیں گے۔

’بین الاقوامی میڈیا پاکستان کے ساتھ ہے‘

شاہ محمود قریشی نے یہ بھی کہا کہ کشمیر کے معاملے پر بین الاقوامی میڈیا نے پاکستان کا ساتھ دیا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بین الاقوامی میڈیا نے اس مرتبہ حق و سچ کا ساتھ دیا اور کھل کر پاکستان کی حمایت کی ہے۔

قوم کی مدد سے بھارت کو منہ توڑ جواب دیں گے، ترجمان پاک فوج

پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے کسی بھی طرح کا مس ایڈونچر کرنے کی کوشش کی تو قوم کی مدد سے پاک فوج منہ توڑ جواب دے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت کشمیر میں جو صورتحال ہے اس کا براہ راست تعلق پاکستان کی سیکیورٹی سے بھی ہے اور اس حوالے سے بھارتی عسکری قیادت کے بیان بھی سامنے ہے، وہاں ہر گھر کے دروازے پر فوج کھڑی ہے اور انسانی حقوق کی پامالی جاری ہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بھارت کی جانب سے الزام عائد کیا جارہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں عسکری کارروائیاں پاکستان کی مدد سے کی جارہی ہیں، تاہم خدشات ہیں کہ بھارت پلوامہ جیسی کارروائی کرسکتا ہے جس کو بنیاد بنا کر وہ پاکستان کے خلاف مس ایڈونچر کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ وادی میں 9 لاکھ فوجی تعینات ہیں، ایسے میں اگر کوئی عسکری کارروائی ہوتی ہے تو وہ بھارتی سیکیورٹی فورسز کی ناکامی ہوگی۔

مزید پڑھیں: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے صدر آزاد کشمیر مسعود خان کی ملاقات

ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بھارت مظالم اب دنیا کی نظر میں آچکے ہیں، ایسے میں اگر پاکستان کی سرزمین سے اگر پلوامہ جیسی کارروائی ہوتی ہے تو یہ پاکستان اور کشمیر کے ساتھ غداری ہوگی۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان ایسے حملوں کا متحمل نہیں ہوسکتا، تاہم پاکستان ایسے پراپیگنڈے کو مسترد کرتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کی جانب سے عسکری کارروائیاں کی جارہی ہیں۔

صحافی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ریاست کا موقف رہا ہے کہ کشمیر تنازع نیوکلیئر فلیش پوائنٹ ہے، کیونکہ اس میں شامل 2 ممالک ایٹمی قوت کے حامل ہیں جہاں روایتی جنگ کی گنجائش نہیں ہے تاہم جس جانب بھارت جارہا ہے دنیا کو اسے دیکھنے کی ضرورت ہے۔

پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ آج کل کسی زمین کے ٹکڑے کا نہیں بلکہ انسانی حقوق کا معاملہ ہے، کیونکہ جب تک دنیا کو معلوم ہوگا کہ دو ایٹمی ممالک کے درمیان کیا ہورہا ہے تو ایسا نہ ہو کہ دیر ہوجائے۔

یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں خون خرابے کا خدشہ ہے، وزیر خارجہ

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج اس وقت اپنی مغربی سرحد پر امن کی تکمیل کے لیے پرعزم ہے اور وہاں ہماری توجہ مرکوز ہے، آپ کو اعتماد ہونا چاہیے کہ ہمارا ہمیشہ خطرہ مشرقی سرحد سے ہوتا ہے اور یہیں دیکھا ہے اور اگر یہاں کوئی مرحلہ آیا تو ہم یہاں بھی موجود ہوں گے اور چپے چپے کی حفاظت کریں گے۔

جب ان سے سوال کیا گیا کہ پاکستان کتنی دیر میں بھارت کے کتنے شہر ایٹمی حملے کے جواب میں تباہ کر سکتا ہے تو اس پر پاک فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ سنجیدہ ترین نوعیت کا ہے، اس پر بھارت نے جو بات کی ہے وہ ان کا اپنا موقف ہے، لیکن ایسے موضوع پر بات کرنا قبل از وقت ہوگا۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ قومی کو اپنی مسلح افواج کی صلاحیتوں پر بھروسہ ہونا چاہیے۔

مزید پڑھیں: مسئلہ کشمیر سمیت دیگر معاملات پر اپوزیشن نے 'اے پی سی' طلب کرلی

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مشرقی سرحد سے نمٹنے کے لیے مسلح افواج کے پاس صلاحیت موجود ہے جس کا نمونہ قوم نے 27 فروری کو دیکھا، تاہم اگر وہ ہمیں پھر بھی آزمانا چاہتے ہیں تو انہیں خوش آمدید کہتے ہیں۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر پاکستانیوں نے بھارتی پراپیگنڈے کو آؤٹ پلے کیا جس پر میں پاکستانی سوشل میڈیا صارفین کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

خصوصی کمیٹی برائے کشمیر کا اجلاس

وزارت خزانہ میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت خصوصی کمیٹی برائے کشمیر کا اجلاس منعقد ہوا۔

وزیر اعظم کی ہدایت پر بنائی گئی خصوصی کمیٹی برائے کشمیر کا پہلا اجلاس منعقد ہوا جس میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارتی اشتعال انگیزی سمیت مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس میں صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان، وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم، وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے برائے امور خارجہ کے چیئرمین مشاہد حسین سید، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کے چیئرمین سید فخر امام، گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین، ممبران خصوصی کمیٹی، اٹارنی جنرل آف پاکستان اور دیگر سول و عسکری قیادت شریک ہوئی۔

مزید پڑھیں: ’بھارت کے ساتھ تجارت کی معطلی کا اطلاق طے شدہ شپمنٹس پر نہیں ہوگا‘

اجلاس میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے یکطرفہ غیر قانونی اقدام اور خطے میں امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزیوں پر بھی بات چیت کی گئی۔

اجلاس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے سیکورٹی کونسل کے گزشتہ روز ہونے والے اجلاس اور اس کے ثمرات کے حوالے سے بھی تفصیلی مشاورت کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 'سلامتی کونسل کے اراکین نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا'

واضح رہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی تشویشناک صورتحال کے پیش نظر وزیر اعظم عمران خان کی صدارت میں منعقد ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں اس خصوصی کمیٹی کی تشکیل عمل میں لائی گئی تھی۔

بھارتی اقدامات کے بعد سلامتی کونسل کا اجلاس

یاد رہے کہ بھارت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کردی تھی اور اس غیر آئینی اقدام سے ایک روز قبل ہی وادی میں کرفیو نافذ کردیا تھا جبکہ اس دوران تمام مواصلاتی رابطے بھی منقطع کردیے تھے۔

پاکستان کی جانب سے اس غیر قانونی اقدام پر شدید مذمت اور احتجاج کیا جارہا ہے جبکہ عالمی برادری کو کشمیریوں پر ہونے والے مظالم سے آگاہ کرنے کے لیے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی متحرک نظر آرہے ہیں۔

اسی سلسلے میں پاکستان نے اقوام متحدہ سے خط لکھ کر مطالبہ کیا تھا کہ کشمیر کی صورتحال پر اجلاس طلب کیا جائے ، چنانچہ پاکستانی خط پر سلامتی کونسل کا اجلاس منعقد ہوا، اس بند کمرہ اجلاس میں اراکین نے مسئلہ کشمیر پر بات چیت کی۔

مزید پڑھیں: اقوام متحدہ میں 50 برس بعد کشمیریوں کی آواز سنی گئی، ملیحہ لودھی

اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے سلامتی کونسل کے اجلاس کو بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کو گھروں میں نظر بند کیا جاسکتا ہے، ان کی آوازوں کو اپنے گھر اور سرزمین میں نہیں سنا گیا ہو لیکن آج ان کی آواز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں سنی گئی۔

سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں ملیحہ لودھی نے کہا کہ پاکستان سلامتی کونسل کے اجلاس کا خیر مقدم کرتا ہے، جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسئلے پر توجہ مرکوز کی گئی۔

سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے ژینگ جون نے کہا تھا کہ سلامتی کونسل کے اجلاس نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کردیا۔