کرنٹ لگنے کے واقعات: کے-الیکٹرک کے خلاف باضابطہ تحقیقات شروع

اپ ڈیٹ 17 اگست 2019

ای میل

شہر قائد میں کرنٹ لگنے کے واقعات میں متعدد افراد جاں بحق ہوئے تھے—فائل فوٹو: رائٹرز
شہر قائد میں کرنٹ لگنے کے واقعات میں متعدد افراد جاں بحق ہوئے تھے—فائل فوٹو: رائٹرز

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کراچی میں مون سون سیزن کے دوران کرنٹ لگنے کے واقعات پر کے الیکٹرک کے خلاف باضابطہ تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کردیا۔

اس حوالے سے جاری بیان میں کہا گیا کہ 'نیپرا کے سینئر افسران کو معاملے کی تحقیقات کے لیے مقرر کیا ہے اور انہیں 15 روز میں اپنی تحقیقات مکمل کرنے کا وقت دیا گیا ہے'۔

خیال رہے کہ ایک ماہ کے دوران کراچی میں بہت زیادہ مون سون کی بارشیں ریکارڈ کی گئی تھیں، جس کے باعث اربن فلڈنگ اور پانی کے جمع ہونے کے باعث شہر کا انفرااسٹرکچر کو بری طرح نقصان پہنچا تھا۔

مزید پڑھیں: 'وہ کھمبا آج بھی اُسی حالت میں ہے، جو میرے بھائی کی موت کا سبب بنا'

اس کے ساتھ ساتھ کرنٹ لگنے کی وجہ سے بہت سے افراد جان سے گئے تھے جبکہ دیگر واقعات بھی رونما ہوگئے اور شہر کا بڑا حصہ طویل دورانیے تک بجلی سے محروم رہا۔

بیان میں کہا گیا کہ 'یہ تمام حقائق نیپرا کے انتظامی قوانین، ضابطے، معیار اور کے الیکٹرک کی جانب سے دیگر قابل عمل دستاویزات کی ممکنہ خلاف ورزی کی نشاندہی کرتے ہیں'۔

لہٰذا ان واقعات کا جائزہ لیتے ہوئے ریگولیٹری باڈی الیکٹرک پاور ایکٹ 1997 کی ریگولیشن آف جنریشن، ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کی شق 27 اے کے تحت کے کے الیکٹرک کے خلاف 'واقعات کے حقائق کی تصدیق' کے لیے ایک باضابہ تحقیقات کا حکم دیتی ہے۔

نیپرا کے مطابق اتھارٹی اس بات کا بھی تعین کرے گی کہ کے الیکٹرک کی جانب سے آیا کوئی ایسی خلاف ورزی یا قانون کی عدم تعمیل کی گئی جو انسانی جانوں کے ضیاع یا بجلی کے منقطع ہونے کا باعث بنی۔

قبل ازیں کے الیکٹرک کی جانب سے جاری ایک بیان میں حالیہ بارشوں کے دوران ہونے والے ناخوشگوار واقعات پر افسوس کرتے ہوئے متاثرہ خاندوں سے ہمدردی کا اظہار کیا گیا تھا۔

ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا تھا کہ کے الیکٹرک نیپرا سمیت دیگر اسٹیک ہولڈرز کے تحقیقاتی عمل میں مکمل تعاون کررہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں موسلادھار بارش، مختلف حادثات میں 11 افراد جاں بحق

تاہم اپنے بیان میں کے الیکٹرک نے کرنٹ لگنے سے ہونے والی اموات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ابتدائی رپورٹس کے مطابق زیادہ تر واقعات یا تو گھروں کے اندر ٹوٹے تاروں اور اندرونی آلات کے ذریعے ہوئے یا کے الیکٹرک کے علاوہ دیگر انفرااسٹکرچر جسے کنڈوں اور لٹتکی لائٹوں کے باعث پیش آئے۔

کمپنی کی جانب سے کہا گیا تھا کہا اس طرح کے کیسز میں جہاں کے الیکٹرک کا انفرااسٹرکچر اور آلات شامل نہ ہوں، اس کی ذمہ دار کے الیکٹرک نہیں ہے۔

واضح رہے کہ شہر قائد میں جولائی کے آخر اور اگست کے شروع میں وقفے وقفے سے تیزبارشیں ہوئی تھیں، جس کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آگئے تھے اور نظام زندگی مفلوج ہوگیا تھا۔

انہیں بارشوں کے دوران کراچی میں مختلف حادثات خاص طور پر کرنٹ لگنے کے واقعات میں 2 بچوں، 3 دوستوں سمیت 27 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔