سعودی عرب کے تیل کے پلانٹ پر حوثی باغیوں کا ڈرون حملہ

اپ ڈیٹ 17 اگست 2019

ای میل

حوثی باغیوں نے اس سے قبل بھی تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا—فوٹو:اے ایف پی
حوثی باغیوں نے اس سے قبل بھی تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا—فوٹو:اے ایف پی

یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں قائم شیبہ آئل فیلڈ پر ڈرون حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

خبر ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق حوثی باغیوں کے ترجمان کا کہنا تھا کہ شیبہ آئل فیلڈ پر 10 ڈرون حملے کیے گئے جو سعودی سرزمین پر سب سے بڑا حملہ تھا۔

سعودی عرب کے وزیر توانائی خالد الفالح نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نقصان پہنچانے کے لیے یہ کارروائی بزدلانہ فعل ہے۔

سعودی آئل کمپنی آرامکو نے بیان میں کہا کہ ‘حملے کے نتیجے میں گیس پلانٹ پر معمولی آگ لگی تھی جس پر قابو پالیا گیا اور پیداوار پر کوئی اثر نہیں پڑا’۔

مزید پڑھیں:سعودی تیل کمپنی آرامکو پر ڈرون حملہ

ادھر حوثی باغیوں کے سربراہ عبدالمالک الحوثی کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات کی سرحد کے قریب سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر کارروائی خود متحدہ عرب امارات کے لیے بھی ایک تنبیہ ہے۔

یاد رہے کہ 10 مئی 2019 کو بھی حوثی باغیوں نے سعودی عرب کی ریاستی تیل کمپنی آرامکو کی تنصیبات پر ڈرون سمیت متعدد حملے کیے تھے جس کے بعد چند گھنٹوں کے لیے تیل کی پیداوار کو روک دیا گیا تھا۔

سعودی پریس ایجنسی نے وزیر توانائی خالد الفالح کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا تھا کہ ’بحیرہ احمر پر قائم یانبو بندرگاہ کے قریب پائپ لائن کو تیل فراہم کرنے والے پیٹرولیم پمپنگ اسٹیشن پر ڈرون سے حملے کیے گئے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ پائپ لائن کے ساتھ پمپنگ اسٹیشن پر حملے کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی جس کے بعد آرامکو نے عارضی طور پر نقصان کا جائزہ لینے کے لیے پمپنگ روک دی تھی۔

سعودی عرب کے سیکیورٹی ادارے کا کہنا تھا کہ دارالحکومت ریاض کے خطے میں تیل کی 2 انفراسٹرکچر سائٹ پر بیک وقت حملہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:دفتر خارجہ کی سعودی عرب میں تیل تنصیبات پر حملوں کی مذمت

بیان میں کہا گیا تھا کہ ’ریاض کے علاقے الدودامی اور افیف میں پیٹرولیم اسٹیشنز کو محدود پیمانے پر نشانہ بنایا گیا‘۔

باغیوں کی سرکاری عمارتوں سے واپسی

دوسری جانب یمن میں باغیوں نے عدن میں سعودی سربراہی میں لڑنے والی اتحادی حکومت کی متعدد عمارتوں سے دست برداری کا اعلان کردیا لیکن ایک فوجی کیمپ پر قبضہ کرلیا، جس سے انہیں مشرقی بندرگاہ کا کنٹرول بھی حاصل ہوگا۔

حوثی باغیوں کے سربراہ عبدالمالک الحوثی کا کہنا تھا کہ عدن کے واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی اتحادی بحران کا شکار ہیں اور صدر ہادی بے اختیار ہوگئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:فورسز میں کمی کے فیصلے کے باوجود امارات کا یمن نہ چھوڑنے کا اعلان

باغیوں کے ٹی وی چینل المسیرہ نے ان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘جنہوں نے حملہ آوروں سے تعاون کیا ان کے پاس کوئی اختیار یا آزادی نہیں بلکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی تابعداری کے سوا کچھ نہیں’۔

رپورٹ کے مطابق حوثی باغیوں نے ایران میں اپنا سفیر بھی مقرر کردیا ہے۔

یمنی حکومت کے وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ فورسز کی جنوبی علاقے میں واقع ہسپتال اور کیبنیٹ سیکریٹریٹ سے واپسی کی گئی ہے اور وزارت داخلہ اور عدن کی ریفائنری بھی دی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات نے یمن میں اپنی فوجیوں کی تعداد کم کردی تھی اور تنازع کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی تجویز دی تھی جبکہ صدر ہادی اور ان کی حکومت کا موقف ہے کہ جب تک باغی ہتھیار نہیں ڈالتے اس وقت تک مذاکرات نہیں ہوں گے۔