پی ٹی آئی حکومت کا ایک سال، میڈیا کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں، فردوس عاشق اعوان

اپ ڈیٹ 18 اگست 2019

ای میل

عمران خان پورے پاکستان کے جذبات و احساسات کی عکاسی کرتے ہوئے مظلوم کشمیریوں کی جنگ لڑ رہے ہیں، معاون خصوصی برائے اطلاعات — فوٹو: ڈان نیوز
عمران خان پورے پاکستان کے جذبات و احساسات کی عکاسی کرتے ہوئے مظلوم کشمیریوں کی جنگ لڑ رہے ہیں، معاون خصوصی برائے اطلاعات — فوٹو: ڈان نیوز

وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کا ایک سال مکمل ہونے پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ حکومت میڈیا کی آزادی پر یقین رکھتی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو اقتدار میں ایک سال مکمل ہونے پر وزیر اعظم سیکریٹریٹ میں منعقد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کو جس انداز میں موجودہ حکومت نے اجاگر کیا اس کی مثال آپ کو ماضی میں نہیں ملتی۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے خطاب کو مسئلہ کشمیر کی موجودہ صورت حال کے باعث منسوخ کردیا گیا ہے جس میں انہوں نے حکومت کی ایک سال کی کارکردگی سے آگاہ کرنا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ اس حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور پورے پاکستان کے جذبات و احساسات کی عکاسی کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان مظلوم کشمیریوں کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

'حکومت آزادی اظہار پر یقین رکھتی ہے'

انہوں نے کہا کہ میڈیا اس معاشرے کی آنکھیں اور کان ہے، حکومت سے جہاں غلطیاں ہوتی ہیں اس کی میڈیا نشاندہی کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'وزیر اعظم میڈیا کے حق کو چھیننے، اسے دیوار سے لگانے کی بات نہیں کرتے اور اس ہی وجہ سے ہم میڈیا کی آزادی کے حق میں ہیں'۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی نمائندے، وزرا اور تمام کابینہ میڈیا ہی کے ذریعے عوام کو جوابدہ ہے'۔

'پاکستان کی ترقی کی بنیاد ڈال دی'

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ '22 سال انتھک محنت اور جدو جہد سے عمران خان کو تاریخی انتخابی اور عوامی کامیابی ملی، اس حکومت نے ایک سال میں محنت دیانت داری، اور درست سمت میں پالیسیز کا آغاز کیا اور ایسے بیج بوئے جن کا ثمر عوام کی ترقی و خوشحالی کی صورت میں سامنے آئے گا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'حکومت نے ایسی بنیادیں ڈالی ہیں کہ جس سے ہمیں پوری امید ہے کہ پاکستان کی بہتر معاشی پالیسی، قومی حقوق کا تحفظ اور گڈ گورننس کی عمارت تعمیر ہوگی'۔

انہوں نے کہا کہ 'عمران خان نے ایک سال میں ایسے پاکستان کی تشکیل دی جو حکمرانوں کا مفاد نہیں بلکہ کمزور پسے ہوئے مستحق نادار اور عام پاکستانی شہری کے حقوق کا نگہبان ہے'۔

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ 'عمران خان نے قائد اعظم کا سپاہی بن کر ایسے پاکستان کو بنانے کی جدو جہد کا آغاز کیا جس کی بنیاد ریاست مدینہ پر ہو، جہاں قانون کی بالادستی ہو، جہاں یکساں انصاف ہو، جہاں مساوات کا نظام ہو، جہاں کرپشن سے پاک معاشرہ ہو، جہاں برابر حقوق اور مواقع ہوں، میرٹ ہو، اور ان سب کے لیے ہر سرکاری ادارے میں اصلاحات لائی گئی ہیں'۔

'وزارتیں میڈیا کو کارکردگی بتائیں گی'

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے تقریب مین اعلان کیا کہ 'اگلا ایک ہفتے تک روزانہ وزارتیں میڈیا کے آگے پیش ہوں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میڈیا نمائندے وزیروں کو بلا کر ان سے بات چیت کریں اور ان کے ایک سال کی کارکردگی کے حوالے سے سوالات کریں'۔

گردشی قرضے

ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور عوام پر گردشی قرضے کی صورت میں بوجھ کو ختم کرنے کے لیے جو اقدامات کیے گئے ہیں اس سے بہتری آئی ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ 'آئندہ سالوں میں یہ شعبہ بھی وزیر اعظم اور عوام کے سوچ کی عکاسی کرے گا'۔

نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں گھروں کی کمی کو پورا کرنے اور بے گھر افراد کو بنیادی سہولت دینے کے لیے حکومت نے نئے پاکستان ہاؤسنگ اسکیم متعارف کرائی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس ہاؤسنگ اسکیم کے تحت کم آمدنی والے افراد انتہائی تھوڑی قیمت ادا کرکے اپنا بنیادہ حق حاصل کرسکیں گے۔

احساس پروگرام

معاون خصوصی برائے اطلاعات نے بتایا کہ احساس پروگرام وزیر اعظم عمران خان کے دل کے قریب تر پروگرام ہے اور ان کے مطابق معاشرے میں اس وقت تک تبدیلی نہیں آسکتی جب تک وہاں رہنے والوں میں احساس کی جھلک نظر نہ آئے۔

انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کے لیے حکومت نے بجٹ میں 152 ارب روپے رکھا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'عام شہری کی بنیادی ضروریات کے تمام شعبوں میں گزشتہ سال شروع کیے گئے پروگرام کو احساس پروگرام سے جوڑ دیا ہے جس میں انصاف صحت کارڈ، راشن کارڈ، سستے اور بغیر سود کے قرضے، انٹرن شپ پروگرام، خواتین کو با اختیار بنانے کا پروگرام وغیرہ شامل ہے۔

سیاحتی پالیسی

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان کا دنیا بھر میں ایک منفی چہرہ دکھایا جاتا تھا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'وزیر اعظم پاکستان نے دنیا کی سوچ بدلنے کے لیے نئی سیاحتی پالیسی تشکیل دینے کی ہدایت کی جس پر عمل کرتے ہوئے 175 ممالک کو آن لائن ویزا پالیسی دی گئی تاکہ پاکستان کا مثبت چہرہ دنیا کے سامنے پیش کیا جاسکے'۔

منی لانڈرنگ، اسمگلنگ

ان کا کہنا تھا کہ 'منی لانڈرنگ اور اسمگلنگ کے خلاف حکومت نے ایسے اقدامات کیے ہیں جس کے ثمرات آنے والے وقت میں پاکستان کو نظر آئیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ 'ہم نے اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے سرحد پر سیکیورٹی اقدامات بھی کیے ہیں'۔

'اداروں کو منافع بخش بنایا'

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ 'پاکستان پوسٹل اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی ہماری کامیابی کی داستان ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'حکومت کی پالیسیز کی وجہ سے پاکسان پوسٹل سروس خسارے سے نکل کر منافع کی جانب بڑھا ہے'۔

روڈ سیفٹی پروگرام

انہوں نے کہا کہ 'مواصلاتی نظام کے لیے بھی تحریک انصاف کی حکومت پالیسیاں لائی ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'حکومت نے ملک میں سفر کرنے والوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے روڈ سیفٹی پروگرام متعارف کرایا'۔

ایف بی آر میں اصلاحات

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ 'حکومت نے ایف بی آر میں ریفارمز کے ایجنڈے کو ایک تحریک کی شکل دے دی ہے اور عام پاکستانی کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت ایف بی آر کو مستحکم اور بااختیار بنائے گی۔

کامیاب نوجوان پروگرام

انہوں نے کہا کہ 'ملک کی 60 فیصد آبادی نوجوانوں کی ہے اور اس ملک کی کامیابی ان ہی نوجوانوں کی کامیابی پر منحصر ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'حکومت نوجوانوں کے لیے کامیاب نوجوان پروگرام کا انعقاد کیا گیا'۔

وزارت خارجہ کی کامیاب سفارتکاری

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ وزارت خارجہ کی کامیاب سفارتکاری کی وجہ سے 5 دہائیوں میں پہلی مرتبہ مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کا اجلاس بلایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ کی کامیابی ہے کہ بھارت جس اجلاس کو ہمیشہ ویٹو کرواکے ہونے سے روکتا تھا تاہم موجودہ حکومت کی سفارتکاری سے اس اجلاس کا انعقاد ممکن ہوا۔

مدرسہ ریفارمز

انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت کی جانب سے تشکیل دیے گئے نیشنل ایکشن پلان میں مدرسوں کے حوالے سے ریفارمز شامل تھا تاہم ایسا کرنے کی کسی حکومت نے جرات و بہادری نہیں دکھائی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومتیں ڈرتی تھیں موجودہ حکومت نے مدرسہ ریفارمز لاکر وہ کر دکھایا۔

وزارت اطلاعات کی کارکرگی

وزارت اطلاعات و نشریات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) میں دور حاضر کی ضرورت کے تحت سوشل میڈیا ونگ قائم کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میڈیا کو درپیش چیلنج کے پیش نظر عبوری ویج بورڈ ایوارڈ لائے اور جلد ہی مستقل ویج بورڈ ایوارڈ بھی لائیں گے'۔

انہوں نے کہا کہ 'وزیر اعظم نے پی ٹی وی کو خودمختار بنایا جس سے یہ ادارہ خسارے سے نکل کر منافع بخش ادارے میں تبدیل ہوگیا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسوسی ایٹڈ پریس پاکستان (اے پی پی) میں وی این ایس (ویڈیو نیوز سروس) کو دنیا بھر میں دیگر نیوز ایجنسی کی طرح مضبوط بنارہے ہیں تاکہ پاکستان کا اصل چہرہ دنیا کو دکھایا جاسکے۔

ریڈیو پاکستان کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس ادارے کو دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق با اختیار اور پاکستانیوں کی آواز بنارہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'پی آئی ڈی نے نئی اشتہاری پالیسی لانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت آن لائن اشتہارات کا نظام متعارف کرائیں گے'۔

'پاکستان کو مدینہ جیسی فلاحی ریاست بنائیں گے'

قبل ازیں وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور نعیم الحق کا کہنا ہے کہ عمران خان پاکستان کو مدینہ جیسی فلاحی ریاست بنائیں گے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نعیم الحق کا کہنا تھا کہ 'ہماری حکومت نے جو بجٹ پیش کیا، پاکستان کی تاریخ میں اس سے بہتر فلاحی بجٹ سامنے نہیں آیا'۔

— فوٹو: ڈان نیوز
— فوٹو: ڈان نیوز

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا عزم ہے کہ 5 سال میں ایک کروڑ صحت کارد جاری کردیں اور کم آمدنی والے لوگوں کو گھر فراہم کردیں گے۔

انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کے تحت 114 اسکیمیں شروع کی ہیں جس کے تحت یتیم اور بیوہ بغیر کچھ دکھائے 5 سے 10 لاکھ روپے کا قرض حاصل کرسکیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'عمران خان پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے کا عزم پورا کریں گے اور اس کے لیے جو ہم اسکیمیں لارہے ہیں، پاکستان کی تاریخ میں اس سے بہتر فلاحی پروگرامز سامنے نہیں آئے'۔

مقبوضہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'کشمیر کے معاملے پر جنگ ہوئی تو نہ ہندوستان رہے گا نہ پاکستان رہے گا عمران خان نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے کئی مرتبہ رابطہ کیا مگر بھارت بات کرنے سے گریز کر رہا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ڈونلڈ ٹرمپ سے بات میں انہیں بتایا کہ ہم ایک سال بات چیت کی کوششیں کر رہے ہیں مگر مثبت جواب نہیں آتا تو انہوں نے حیرت کا اظہار کیا'۔

انہوں نے کہا کہ 'آر ایس ایس کا فلسفہ ہے کہ ہندوستان میں صرف ہندوؤں کی حکومت ہو اور اس فلسفے پر نریندر مودی عمل پیرا ہے تاہم ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک کشمیر کو آزادی نہ مل جائے اور انہیں اپنی قسمت کے فیصلے کا حق نہ مل جائے'۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ 'حکومت میں آئے تو معلوم ہوا کہ ہر ادارے کا دیوالہ نکل چکا ہے اور نقصان اربوں تک پہنچ چکا ہے، حکومت کا خزانہ خالی تھا اور ان نقصان کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی تھی تاہم ہم نے معیشت کو درست سمت میں لانے کے لیے اقدامات کیے'۔

انہوں نے میڈیا سے درخواست کی کہ 'میڈیا سوال اٹھائے مگر ہمارا موقف بھی اس میں بیان کرے تاکہ قوم کے سامنے پوری تصویر سامنے آسکے'۔

انہوں نے آخر میں امید ظاہر کی کہ 'وزیر اعظم کی محنت کے ثمرات بہت جلد قوم کے سامنے آئیں گے'۔