سابق چیف جسٹس نے دہری شہریت سے متعلق خبروں کی تردید کردی

اپ ڈیٹ 18 اگست 2019

ای میل

سابق چیف جسٹس نے کہا کہ ڈیم کا مرحلہ وار کام ہورہا ہے اور تعمیر پر پیش رفت ہو رہی ہے — فائل فوٹو: ڈان نیوز
سابق چیف جسٹس نے کہا کہ ڈیم کا مرحلہ وار کام ہورہا ہے اور تعمیر پر پیش رفت ہو رہی ہے — فائل فوٹو: ڈان نیوز

سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بیرون ملک شہریت کے حصول کے حوالے سے خبروں کی سختی سے تردید کردی۔

لاہور میں سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سابق گورنر پنجاب خواجہ طارق رحیم، جوڈیشل ایکٹوازم پینل کے سربراہ اظہر صدیق اور عبداللہ ملک سے ملاقات کے دوران دہری شہریت سے متعلق متضاد خبروں کو بے بنیاد قرار دے دیا۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی شہریت لینے کا سوچ بھی نہیں سکتا، میرا جینا اور مرنا پاکستان کے لیے ہے۔

مزید پڑھیں: ’ڈیمز کی تعمیر کیلئے جمع ہونے والے فنڈز کسی کو کھانے نہیں دیں گے‘

علاوہ ازیں میاں ثاقب نثار نے ڈیم کی تعمیر سے متعلق کہا کہ مہمند ڈیم کے کام پر مطمئن ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈیم پر مرحلہ وار کام ہورہا ہے اور تعمیر پر پیش رفت بھی ہو رہی۔

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ مہمند ڈیم کے کام کی پیش رفت سے متعلق حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے۔

میاں ثاقب نثار نے نومبر میں بھاشا ڈیم کی تعمیر کا کام شروع ہوجانے کا دعویٰ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: ڈیم فنڈ کی مہم میں میڈیا کا بہت بڑا کردار ہے، چیف جسٹس

انہوں نے بتایا کہ ڈیم کی تعمیر کے لیے عوام کا پیسہ سپریم کورٹ کے اکاونٹ میں محفوظ ہے جس کی نگرانی سپریم کورٹ کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ جب میاں ثاقب نثار سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تھے تب انہوں نے دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کی فوری تعمیر کا حکم دیتے ہوئے چیئرمین واپڈا کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی تھی اور ’دیامیر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم فنڈ-2018‘ کے نام سے فنڈز اکھٹے کرنے کے لیے بینک اکاؤنٹ کھولا گیا تھا۔

سابق چیف جسٹس نے اندرون ملک و بیرونی ممالک میں مقیم پاکستانیوں سے ڈیم کی تعمیر کے لیے عطیات دینے کی اپیل کی تھی اور اپنی جانب سے 10 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا تھا۔

مزیدپڑھیں: ججز، سرکاری افسران کی دوہری شہریت کیس کا فیصلہ محفوظ

جبکہ مذکورہ فنڈ کی دیکھ بھال اور استعمال سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں قائم ایک کمیٹی کے ذمہ تھی۔

سپریم کورٹ نے جن دو ڈیموں کو فوری بنانے کا حکم دیا تھا ان کی تفصیل

دیا مر بھاشا ڈیم: یہ کے پی کے اور گلگت بلتستان کے درمیان واقع ہے، جس میں گلگت بلتستان کا علاقہ بھاشا اور کے پی کے کوہستان کا علاقہ دیامر شامل ہے، اس ڈیم سے 4 ہزار 500 میگا واٹ بجلی بنائی جاسکے گی جبکہ یہ 6.4 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مہمند ڈیم: یہ ڈیم دریائے سوات پر مندا کے علاقے میں بنایا جائے گا، اس کے لیے اس کو مندا ڈیم بھی کہہ سکتے ہیں، اس ڈیم سے 800 میگا واٹ بجلی بنائی جاسکے گی جبکہ یہ 0.676 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔