فرانس: صارف نے سینڈوچ دیر سے لانے پر ویٹر کو گولی ماردی

اپ ڈیٹ 18 اگست 2019

ای میل

پولیس کے مطابق ملزم فائرنگ کے بعد فرار ہوگیا جس کی تلاش جاری ہے—فوٹو: اے ایف پی
پولیس کے مطابق ملزم فائرنگ کے بعد فرار ہوگیا جس کی تلاش جاری ہے—فوٹو: اے ایف پی

فرانس کے دارالحکومت پیرس کے ایک ریسٹورنٹ میں صارف نے سینڈوچ دیر سے لانے پر ویٹر کو فائرنگ کرکے قتل کردیا۔

دی گارجین میں شائع رپورٹ کے مطابق پیرس کے مضافات میں قائم ایک ریسٹورنٹ میں صارف نے سینڈوچ کا آرڈر دیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق سینڈوچ کی تیاری میں تاخیر پر صارف غصے میں آگیا اور اس نے اپنی شاٹ گن سے 28 سالہ ویٹر پر گولی چلا دی۔

مزیدپڑھیں: فرانس میں مسجد پر فائرنگ، 2 افراد زخمی

عینی شاہدین نے پولیس کو بتایا کہ شاٹ گن کی گولی ویٹر کے کندھے پر لگی تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاسکا اور ہسپتال منتقل کرنے سے قبل ہی دم توڑ گیا۔

وہاں موجود دیگر صارفین نے پولیس کو بتایا کہ حملہ آور کو غصہ تھا کہ سینڈوچ کی تیاری میں تاخیر کیوں کی جارہی ہے۔

پولیس کے مطابق ملزم فائرنگ کے بعد فرار ہوگیا جس کی تلاش جاری ہے۔

پولیس نے ’قتل‘ کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: فرانس میں دہشت گرد حملے کے بعد قومی پرچم سرنگوں

واقعے کے بعد مقامی شہریوں کی بڑی تعداد ریسٹورنٹ پہنچ گئی، ایک 29 سالہ خاتون کا کہنا تھا کہ ’واقعہ بہت افسوس ناک ہے، یہ انتہائی پرسکون ریسٹورنٹ تھا جہاں کسی کو کوئی مسئلہ نہیں تھا اور چند ماہ قبل ہی یہ ریسٹورنٹ کھلا تھا‘۔

دوسری جانب مقامی افراد نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ ’علاقے میں منشیات فروشوں اور عوامی مقامات پر شراب نوشی جیسے جرائم کی شرح غیرمعمولی ہے‘۔

واضح رہے گزشتہ چند برسوں سے فرانس میں شہریوں پر مسلح افراد کے حملوں کے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں۔

2017 میں پیرس کے لوور میوزیم میں خنجر لہراتے ایک حملہ آور نے سیکیورٹی پر مامور اہلکار پر حملہ کرکے میوزیم میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی تاہم بروقت کارروائی کرتے ہوئے اسے زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: پیرس: سیاسی رسالے کے دفتر پر حملہ، 12 ہلاک

2016 جولائی میں بھی فرانس کے جنوبی شہر نیس میں ایک ڈرائیور نے قومی دن کی تقریبات میں شریک افراد کو ٹرک کے نیچے کچل دیا تھا، جس کے نتیجے میں 84 افراد ہلاک جبکہ 200 سے زائد شدید زخمی ہوگئے تھے۔

ان حملوں اور واقعات کے باعث لوور کے مشہور اور سب سے بڑے عجائب گھر کا رخ کرنے والے سیاحوں کی تعداد میں بھی مسلسل کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔