شاہ محمود قریشی کا مودی کو مقبوضہ کشمیر میں عوامی ریفرنڈم کا چیلنج

اپ ڈیٹ 18 اگست 2019

ای میل

وزیرخارجہ ملتان میں میڈیا سے بات کررہے تھے — فوٹو:ڈان نیوز
وزیرخارجہ ملتان میں میڈیا سے بات کررہے تھے — فوٹو:ڈان نیوز

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے فیصلے پر چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اپنے اس فیصلے کی مقبولیت جاننا چاہتے ہیں تو سری نگر میں عوامی ریفرنڈم کروا لیں۔

ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ‘اگر ہندوستان سمجھتا ہے کہ انہوں نے یہ فیصلہ مقامی افراد کی فلاح و بہبود کے لیے کیا ہے تو میں چیلنج کرتا ہوں کہ مودی، آپ کرفیو اٹھائیں اور پورے کشمیر کی قیادت ماضی میں آپ کے ساتھ مل کر حکومت بنانے والی جماعتوں محبوبہ مفتی، عمر عبداللہ اور حریت قیادت میر واعظ، سید علی گیلانی، یاسین ملک اور لون صاحب کو بلائیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘سری نگر میں جس جگہ آپ مناسب سمجھتے ہیں وہاں کھلا میدان لگائیں، لوگوں کی راہ میں رکاوٹ نہ ڈالیں اور مقبوضہ کشمیر میں ایک ریفرنڈم کروا لو پھر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا’۔

بھارتی وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آپ نے اقوام متحدہ کے وعدے تو پورے نہیں کیے۔

یہ بھی پڑھیں:مقبوضہ کشمیر میں 4 ہزار شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے، بھارتی مجسٹریٹ

وزیر خارجہ نے کہا کہ ‘اب بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھنا شروع ہوگئیں ہیں اور بھارت کی مرکزی جماعت کانگریس کی تمام قیادت نے ان فیصلوں کو مسترد کردیا ہے، اجمیر شریف کے سجادہ نشین کا بیان ہے کہ وہ آج خود کو بھی غیر محفوظ سمجھتے ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘پوری دنیا میں یوم سیاہ بڑے جوش و جذبے سے منایا گیا اور پاکستانی قوم کو میں مبارک باد دیتا ہوں کہ میرے بعد بھارتی وزیر خارجہ چین گئے اور انہوں نے میرے نکتے کے برعکس دلائل دیے’۔

بھارتی وزیر خارجہ کے دورہ چین کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ‘بھارتی وزیر خارجہ دو نکات لے کر گئے تھے اور کہا کہ وزیر خارجہ پاکستان کس چیز پر اعتراض کررہے ہیں کیونکہ یہ ہمارا آئین ہے اور ہماری شقیں ہیں، جن میں ہم نے ترمیم کی ہے تو پاکستان کیوں سیخ پا ہورہا ہے’۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارتی وزیر خارجہ نے چین میں دلیل دی کہ ‘ہم نے جو اقدامات کیے ہیں وہ مقبوضہ کشمیر کی فلاح و بہبود کے لیے کیا ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘میں نے سلامتی کونسل کو خط میں لکھا کہ ہم اس کے برعکس سوچ رکھتے ہیں، کشمیر ایک متنازع علاقہ تھا اور ہے، کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر تھا اور ہے، اس کو عالمی مسئلہ قرار دیا گیا اس پر 11 قرار دادیں منظور ہوئیں اس پر عمل درآمد آپ کی ذمہ داری ہے’۔

'مودی سرکار نے نہرو اور گاندھی کا ہندوستان دفن کردیا'

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 'مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ بند ہے، موبائل سروس بند ہے، بچھڑے ہوئے خاندانوں کو پتہ نہیں کہ ان کے جو بچے باہر ہیں، ان کو والدین کی اور گھر میں موجود والدین کو اپنے بچوں کی کیفیت کے بارے میں معلوم نہیں اور لوگ اپنے گھروں میں سہمے ہوئے ہیں'۔

مزید پڑھیں:سری نگر میں نقل و حرکت پر دوبارہ پابندی عائد، جھڑپوں میں 24 افراد زخمی

ان کا کہنا تھا کہ ‘آپ کہتے ہیں کہ آپ کی ریاست سیکولر ہے، سیکولر ریاست کے دن آپ نے قربانی کی اجازت نہیں دی، قربانی ایک مذہبی فریضہ ہے اور عید کی نماز کی اجازت نہیں دی تو یہ کس قسم کا سیکولر چہرہ دکھا رہے ہیں’۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ‘درحقیقت 5 تاریخ کو ان اقدامات کے بعد نہرو اور گاندھی کا ہندوستان مودی سرکار نے دفن کردیا اور آج ہندو توا کے فلسفے کی پاسداری کرنے والے اور اس فلسفے کے علم بردار نریندر مودی، امیت شاہ اور اجیت دوول غالب ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ ‘اس نے پورے ہندوستان میں موجود اقلیتوں کو عدم تحفظ کا شکار کردیا ہے’۔

سلامتی کونسل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘پاکستان اپنا مقدمہ لے کر گیا اور 1965 سے 54 سال کے بعد سلامتی کونسل نے آپ کو سنا اس سے پہلے قرار دادیں آئیں، ایٹمی دھماکوں کے بعد ایک سرسری ذکر ہوا لیکن کشمیر کا مسئلہ زیر بحث نہیں آیا، ایٹمی پھیلاؤ پر ایک جامع قرار داد آئی تھی جس میں ایک حوالہ ضرور تھا لیکن کشمیر پر بحث نہیں ہوئی تھی لیکن بھارتی رکاوٹوں کے باوجود اب ایسا ہوا ہے’۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ‘اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ ہم اس کو متنازع سمجھتے ہیں اور اس کا حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں میں اور یو این چارٹر اور عالمی قانون کے مطابق ہونا چاہیے یہ پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی ہے’۔

یہ بھی پڑھیں: ’انتہا پسند مودی کے ہاتھوں میں جوہری ہتھیار ہیں، جن کی سیکیورٹی پر غور ہونا چاہیے‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے مذاکرات سے کبھی انکار کیا ہی نہیں تھا، اس تنازع کے تین فریق پاکستان، ہندوستان اور کشمیری ہیں، آج دو فریق آپ کے فیصلوں سے لاتعلق ہیں اور تیسرا فریق کشمیر پابند سلاسل ہیں اور آپ کس ماحول میں بات کرنے کی توقع کررہے ہیں۔

قبل ازیں وزارت خارجہ سے جاری ایک بیان میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ 'بھارتی وزیر خارجہ کا بیان ہماری نظر سے گزرا ہے، یہ بیان اس بدترین صورت حال کی عکاسی کرتا ہے جس میں بھارت گھر چکا ہے اور اپنے یک طرفہ اقدامات سے پورے خطے کے امن و امان کو خطرات سے دوچار کرنا چاہتا ہے'۔

انہوں نے کہا تھا کہ 'بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں اور کشمیر کے مکینوں کا گزشتہ دو ہفتوں سے جاری بلا جواز محاصرہ بھی انتہائی قابل مذمت ہے اور عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق، اس محاصرے کی مزید طوالت بہت بڑا انسانی المیہ ہو گا'۔