چاڈ: نسلی فسادات کے باعث مشرقی صوبوں میں ایمرجنسی نافذ

اپ ڈیٹ 18 اگست 2019

ای میل

صدر کا کہنا تھا کہ ہمیں ان تمام شہریوں سے اسلحہ واپس لینے کی ضرورت ہے جن کے ہاتھوں میں ہتھیار موجود ہیں — فائل فوٹو/ رائٹرز
صدر کا کہنا تھا کہ ہمیں ان تمام شہریوں سے اسلحہ واپس لینے کی ضرورت ہے جن کے ہاتھوں میں ہتھیار موجود ہیں — فائل فوٹو/ رائٹرز

افریقی ملک چاڈ کے صدر ادریس دیبی نے دو مشرقی صوبوں میں نسلی فسادات کے نتیجے میں درجنوں افراد کی ہلاکت کے بعد ایمرجنسی نافذ کر دی۔

خبر ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق صدارتی دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ سیلا اور اوادائی کے علاقوں میں آئندہ 3 ماہ تک ایمرجنسی نافذ رہے گی۔

خیال رہے کہ سیلا اور اوادائی کے علاقوں میں 9 اگست سے چرواہوں اور کسانوں کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں 50 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

مزید پڑھیں: چاڈ میں برقع پہننے پر پابندی عائد

صدر ادریس دیبی نے سیلا کے دورے کے دوران کہا کہ 'اب سے ہم ملٹری فورسز تعینات کریں گے جو علاقے میں موجود افراد کی حفاظت کو یقینی بنائیں گی'۔

انہوں نے کہا کہ 'ہمیں ان تمام شہریوں سے اسلحہ واپس لینے کی ضرورت ہے جن کے ہاتھوں میں ہتھیار موجود ہیں'۔

خیال رہے کہ چاڈ کا مشرقی علاقہ خانہ بدوش چرواہوں اور کسانوں کے درمیان جھڑپوں کا شکار رہا ہے، خانہ بدوش چرواہوں کی اکثریت کا تعلق زغاوہ قبیلے سے ہے جبکہ کسان اوادائی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔

خشک سالی اور آبادی میں اضافے کی وجہ سے اس تنازع میں اضافہ ہوا ہے جبکہ تنازعات کے شکار پڑوسی ممالک سے ہتھیاروں کی آمدو رفت نے اس مسئلے کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔

صدر ادریس دیبی نے ملک کی اس صورت حال کو پڑوسی ممالک سے جوڑتے ہوئے سوڈان میں جاری کشیدگی کو چاڈ میں تصادم کی بنیادی وجہ قرار دیا۔

رواں ماہ کے آغاز میں صدر ادریس دیبی نے تشدد اور جھڑپوں کو قومی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہم ہولناک واقعات کا سامنا کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نائیجیریا: بوکو حرام کے حملے میں 25 فوجی ہلاک

انہوں نے کہا تھا کہ 'مسلح افراد پولیس پر فائرنگ سے بھی نہیں ہچکچاتے، ہمیں ایسے افراد کے خلاف جنگ کا آغاز کرنا چاہیے جن کے پاس ہتھیار ہیں اور وہ لوگوں کو قتل کر رہے ہیں'۔

خیال رہے کہ رواں برس کے اواخر میں چاڈ میں انتخابات کے انعقاد کے بھی امکانات ہیں۔

یاد رہے کہ 2015 سے اب تک انتخابات کئی مرتبہ ملتوی ہوئے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ 1990 میں اقتدار سنبھالنے والے ادریس دیبی ملک کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں۔