انسانی حقوق کا عالمی دن: ممتا بینرجی کا کشمیریوں کے حقوق پر اظہارِ تشویش

اپ ڈیٹ 19 اگست 2019

ای میل

انسانی حقوق کا معاملہ میرے دل کے انتہائی نزدیک ہے — فائل فوٹو: ٹوئٹر
انسانی حقوق کا معاملہ میرے دل کے انتہائی نزدیک ہے — فائل فوٹو: ٹوئٹر

بھارت کی ریاست مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ اور آل انڈیا ترینیمول کانگریس کی سربراہ ممتا بینرجی نے انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر کشمیر میں جاری انسانیت سوز مظالم پر تشویش کا اظہار کردیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں ممتا بینرجی نے کہا کہ ’آج انسانی حقوق کا عالمی دن ہے اور کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں‘۔

اپنے پیغام میں مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ نے کشمیر میں انسانی حقوق اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے دعا بھی کی۔

اپنے ایک اور ٹوئٹ میں ممتا بینرجی نے کہا کہ انسانی حقوق کا معاملہ میرے دل کے انتہائی نزدیک ہے۔

انہوں نے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 1995 میں قید خانے میں ہلاکتوں کے خلاف 21 روز سڑک پر احتجاج میں گزارے تھے۔

خیال رہے کہ بھارت پر حکمرانی کرنے والی ہندو انتہا پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے 5 اگست کو آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ کردیا تھا۔

مذکورہ آرٹیکل کی منسوخی سے مقبوضہ جموں اور کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہوگئی تھی جس کے ساتھ اس خطے کی حیثیت بھی دیگر بھارتی ریاستوں کی طرح ہوگئی۔

آئین میں مذکورہ تبدیلی سے قبل دہلی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں سیکیورٹی اہلکاروں کی نفری کو بڑھاتے ہوئے 9 لاکھ تک پہنچا دیا تھا۔

بعدازاں مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ کردیا گیا تھا اور کسی بھی طرح کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کردی گئی تھی جو عید الاضحیٰ کے موقع پر بھی برقرار رہی، تاہم اس میں چند مقامات پر جزوی نرمی بھی دیکھنے میں آئی۔

مزید پڑھیں: ’کیا مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ 50 سال بعد کردار ادا کرے گا؟‘

واضح رہے کہ کشمیر کی خصوصی اہمیت ختم کرنے کے بعد وادی میں ہونے والے انسانی حقوق کے استحصال پر امریکی میڈیا بھی بول پڑا اور اقوام متحدہ کے کردار پر سوالات اٹھادیے۔

سی این این نے اپنی رپورٹ میں سوال اٹھایا کہ ’کیا کشمیر جیسے اس اہم ترین مسئلے پر سلامتی کونسل مزید 50 سال گزرنے کے بعد اپنا کردار ادا کرے گا؟‘

خیال رہے کہ بھارتی کی جانب سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سفارتی سطح پر پاکستان بھی بہت زیادہ متحرک دکھائی دیتا ہے۔

اس ضمن میں نہ صرف پاکستانی وزیر خارجہ دیگر ممالک سے روابط میں ہیں بلکہ اسلام آباد کے مطالبے پر مسئلہ کشمیر پر بات چیت کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا بند کمرے میں اجلاس بھی منعقد ہوا۔