23 سال بعد سزائے موت کے ملزمان کی سزا عمر قید میں تبدیل

اپ ڈیٹ 19 اگست 2019

ای میل

ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ نے چاروں ملزمان کو پھانسی کی سزا سنائی تھی—فائل فوٹو: ڈان
ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ نے چاروں ملزمان کو پھانسی کی سزا سنائی تھی—فائل فوٹو: ڈان

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے 6 افراد کو قتل کرنے کے الزام میں قید 4 ملزمان کی سزائے موت کو 23 سال بعد عمر قید میں تبدیل کر دیا۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سزائے موت کے خلاف اپیل کی سماعت کی۔

سرکاری وکیل نے کیس کی تفصیلات میں بتایا کہ سال 1996 میں ضلع لاہور کے علاقے نارواں کوٹ میں ڈکیتی کے دوران شفیقہ بی بی اور اس کے 5 بچوں کو قتل کردیا گیا تھا جس میں ایک 2 سالہ بچہ بھی شامل تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے 5 برسوں میں 78 فیصد مقدمات میں سزائے موت ختم کی

سرکاری وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سرفراز، جاوید، ندیم اور محمد یوسف پر شفیقہ بی بی اور ان کے 5 بچوں کے قتل کا الزام ہے اور اس کیس میں ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ نے چاروں ملزمان کو پھانسی کی سزا سنائی تھی۔

جس پر عدالت سے اعتراض کیا کہ اس کیس میں یہ معلومات شامل نہیں ہیں کہ کس ملزم نے قتل میں کیا کردار ادا کیا جب یہ معلوم نہ ہو تو اس کا فائدہ ملزمان کو ہوتا ہے۔

سرکاری وکیل نے بتایا کہ جائے واردات سے ملزمان کی انگلیوں کے نشانات اور سر کے بال برآمد ہوئے تھے۔

جس پر ملزمان کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکلین کو جھوٹے فنگر پرنٹس بنا کر پھنسایا گیا تھا جبکہ ان کے خلاف کوئی گواہ بھی موجود نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: 52 مرتبہ سزائے موت پانے والا شخص بری

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم ہمیشہ کہتے ہیں کہ ایسے کیسز میں پولیس کو فنگر پرنٹس لینے چاہیے اور اس کیس میں بھی پولیس نے یہی کیا۔

عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ جب یہ واقعہ ہوا اس وقت ملزمان کی عمر 17 سے 18 سال کے درمیان تھی اور 23 سال کی قید میں وہ اپنی آدھی زندگی جیل میں گزار چکے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جھوٹ بول کر ملزمان کو پھانسی نہیں دلوائی جاسکتی بعدازاں انہوں نے چاروں ملزمان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کا حکم سنایا۔

یہ بھی پڑھیں: سزائے موت کے ملزم کی سزا 19 سال بعد عمر قید میں تبدیل

خیال رہے کہ اس سے قبل 28 فروری کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری نے سالی کو قتل کرنے کے الزام میں سزائے موت پانے والے شخص غلام علی کی سزا کو 19 سال بعد عمر قید میں بدل دیا تھا۔

اسی طرح 12 ستمبر 2018 کو سپریم کورٹ نے ہی قتل کے الزام میں 14 سال قید کی سزا کاٹنے والے ملزم سبط حسین کو رہا کردیا تھا ملزم کو 2004 میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

اس سے قبل 4 اپریل 2018 کو سپریم کورٹ نے کراچی کے مشہور تہرے قتل کی واردات میں قید عاصمہ نواب اور ان کے 2 ساتھیوں کو 20سال بعد باعزت بری کرنے کا حکم دیا تھا۔

قبل ازیں 6 اکتوبر 2016 کو مظہر حسین نامی شخص کو 19 سال بعد جب ناکافی شواہد کی بنیاد پر رہا کی گیا تو یہ انکشاف ہوا کہ مذکورہ قیدی 2 سال قبل ہی وفات پاچکے تھے۔