’پاکستان یا بھارت کے مؤقف کی نہیں کشمیر کی خود مختاری کی حامی ہوں‘

اپ ڈیٹ 19 اگست 2019

ای میل

اداکارہ کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کو آزادی اور خودمختاری کا حق حاصل ہے —فوٹو: انسٹاگرام
اداکارہ کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کو آزادی اور خودمختاری کا حق حاصل ہے —فوٹو: انسٹاگرام

اداکارہ ارمینہ خان نے کہا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان یا بھارت کے مؤقف کی نہیں بلکہ کشمریوں کے مؤقف کی حامی ہیں اور وہ چاہتی ہیں کہ انہیں خود مختیاری اور تمام حقوق حاصل ہوں۔

اداکارہ نے ’انڈیپینڈنٹ اردو‘ سے بات کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں واضح کیا کہ وہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان یا بھارت میں سے کسی کی جانب نہیں ہیں اور وہ جمہوریت، آزادی، انسانی حقوق، انسانیت اور خودمختاری کی جانب ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں مقبوضہ کشمیری کے عوام کو ذاتی آزادی و خودمختاری کا حق حاصل ہے اور ہمیں بطور انسان ان کے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔

ایک اور سوال کے جواب میں ارمینہ خان کا کہنا تھا کہ وہ یہ نہیں کہتیں کہ آرٹسٹ محب وطن نہیں ہوتا لیکن بعض مرتبہ محب وطن آرٹسٹ کو حالات کو دیکھ کر بیانات دینے چاہئیں اور کچھ ایسی باتیں ہوتی ہیں جن کا اظہار نہ کرنا ہی بہتر ہوتا ہے۔

اداکارہ کے مطابق ارٹسٹ محب وطن ہوتے ہیں، مگر بعض مواقع پر انہیں خاموش رہنا چاہیے — اسکرین شاٹ
اداکارہ کے مطابق ارٹسٹ محب وطن ہوتے ہیں، مگر بعض مواقع پر انہیں خاموش رہنا چاہیے — اسکرین شاٹ

ارمینہ خان نے بولی وڈ اداکارہ پریانکا چوپڑا کی جانب سے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کی خواہش کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ انہوں نے اقوام متحدہ کو اسی لیے ہی ایک کھلا خط لکھا تھا کہ وہ بطور عالمی امن کا ادارہ ہونے کے ناطے پریانکا چوپڑا کے بیان پر وضاحت کرے۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ پریانکا چوپڑا کی جانب سے رواں برس فروری میں کیے جانے والے ٹوئیٹس نامناسب تھے جن میں انہوں نے بھارت کو پاکستان کے ساتھ جنگ کے لیے اکسایا۔

ارمینہ خان کے مطابق یونیسیف کا مقصد کچھ اور ہے، وہ بچوں کی حفاظت اور انسانیت سے متعلق کام کرنے والا ادارہ ہے اور ان کی سفیر نے جنگ کے لیے اکسانے سے متعلق ٹوئٹ کیا تھا۔

ارمینہ خان نے چند دن قبل ہی سوشل میڈیا کے ذریعے اقوام متحدہ کے نام ایک کھلا خط لکھا تھا، جس میں انہوں نے عالمی ادارے سے پوچھا تھا کہ وہ پریانکا چوپڑا کے جنگ کے بیان پر کیا مؤقف رکھتے ہیں؟

پاکستانی اداکارہ نے اقوام متحدہ سے پوچھا تھا کہ وہ پریانکا چوپڑا کے جنگ سے متعلق بیان پر اپنی پالیسی واضح کرے۔

خیال رہے کہ رواں برس فروری میں جب بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی خلاف ورزی پر پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی جاری تھی تو اداکارہ نے بھارتی فوج کی حمایت میں ٹوئٹ کرتے ہوئے ’جے ہند‘ اور ’بھارتی فوج‘ کے ہیش ٹیگ استعمال کیے تھے۔

اداکارہ کے اس ٹوئٹ کو ان کی جانب سے دونوں ممالک میں جنگ کی خواہش کے طور پر لیا گیا تھا اور انہیں عالمی سطح پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا کہ وہ یونیسیف کی سفیر ہونے کے باوجود جنگ کی باتیں کر رہی ہیں۔

پریانکا چوپڑا کے اسی ٹوئٹ پر رواں ماہ کے آغاز میں ایک پاکستانی خاتون نے بھی بولی وڈ اداکارہ کو امریکا میں ہونے والی ایک تقریب میں آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے سوالات کی بوچھاڑ کردی تھی۔

پاکستانی خاتون کی جانب سے سوالات پوچھے جانے پر پریانکا چوپڑا خفا ہوگئی تھیں اور انہوں نے پاکستانی خاتون کو جھاڑ پلادی تھی جس کے بعد بولی وڈ اداکارہ کو مزید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔