سپریم کورٹ نے جج ارشد ملک ویڈیو کیس سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا

اپ ڈیٹ 20 اگست 2019

ای میل

شہباز شریف اور لیگی قیادت نے ویڈیوز سے لاتعلقی کا اظہار کیا ، اٹارنی جنرل — فائل فوٹو/ ڈان نیوز
شہباز شریف اور لیگی قیادت نے ویڈیوز سے لاتعلقی کا اظہار کیا ، اٹارنی جنرل — فائل فوٹو/ ڈان نیوز

سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو کے معاملے کی انکوائری کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے سے متعلق 3 درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے جج ارشد ملک کے مبینہ ویڈیو اسکینڈل کیس کی سماعت کی۔

دورانِ سماعت اٹارنی جنرل انور منصور خان اور ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) ایف آئی اے بشیر میمن بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

خیال رہے کہ 23 جولائی کو ہونے والی سماعت میں عدالت عظمیٰ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کو 3 ہفتوں میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ تحقیقات مکمل کرنے کے لیے 3 ہفتے کا وقت دیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: جج ارشد ملک ویڈیو کیس: ایف آئی اے کو 3 ہفتوں میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

ڈی جی ایف آئی اے کی جانب سے جمع کروائی گئی ابتدائی رپورٹ کا جائزہ لیتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ اس رپورٹ میں 2 ویڈیوز کا معاملہ تھا، ایک ویڈیو وہ تھی جس کے ذریعے جج کو بلیک میل کیا گیا اور دوسری ویڈیو وہ تھی جو پاکستان مسلم لیگ(ن) نے پریس کانفرنس میں جاری کی تھی۔

اٹارنی جنرل انور منصور خان نے عدالت کو بتایا کہ 13 مارچ 2018 کو جج ارشد ملک کو احتساب عدالت میں تعینات کیا گیا تھا جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ وہ مبینہ شخص سامنے آیا جس نے ارشد ملک کو تعینات کروایا تھا اس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ وہ مبینہ شخص سامنے نہیں آیا۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق ناصر جنجوعہ نے ارشد ملک کو تعینات کروانے کا دعویٰ کیا تھا۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ اس وقت کی حکومت نے پاناما پیپرز کے فیصلے کے بعد جج ارشد ملک کو تعینات کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: جج ارشد ملک ویڈیو کیس: سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سے تجاویز طلب کرلیں

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ رپورٹ کے مطابق ناصر جنجوعہ نے ارشد ملک کو تعینات کروانے کا دعوی کیا۔

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ شہباز شریف اور لیگی قیادت نے ویڈیوز سے لاتعلقی کا اظہار کیا اور مریم نواز نے بھی ویڈیو نے لاتعلقی کا اظہار کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ انہوں نے کوئی قابل اعتراض ویڈیو نہیں دیکھی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ رپورٹ کے مطابق ملتان والی قابل اعتراض ویڈیو میں طارق محمود بھی نظر آتا ہے جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ جی بالکل اس ویڈیو میں طارق محمود بھی نظر آتا ہے۔

اس پرچیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ویڈیو کی فرانزک کروائی گئی ہے جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ فرانزک کروالی گئی لیکن ارشد ملک کی نئی ویڈیو کا فرانزک نہیں ہوسکا۔

جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا کہ جج کی ویڈیو کا فرانزک کیوں نہیں ہوسکا، ویڈیو سارے پاکستان کے پاس ہے صرف ایف آئی اے کے پاس نہیں، پورا ملک اور عدالت جس کا سوال کررہی ہے اس کا فرانزک کیوں نہیں ہوا۔

اس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ویڈیو یوٹیوب سے لی گئی ہے اس لیے فرانزک نہیں ہوسکا۔

مزید پڑھیں: جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو: تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر

جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا کہ اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ پہلی ویڈیو اصل ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ رپورٹ سے ابہام پیدا ہوتا ہے، غالباً 2 ویڈیوز تھیں ایک قابلِ اعتراض ویڈیو تھی جس سے جج کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی گئی اور دوسری ویڈیو پریس کانفرنس میں دکھائی گئی۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ دیکھنا ہو گا کہ ویڈیو کی کاپی کا فرانزک ہو سکتا ہے کہ نہیں اور یوٹیوب ویڈیو کا فرانزک ہوسکتا ہے یا نہیں۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ناصر جنجوعہ اور مہر غلام جیلانی نے جج سے ملاقات کرکے 10 کروڑ روپے کی پیشکش کی تھی جو نواز شریف کے خلاف ریفرنسز میں رہائی سے متعلق فیصلے سے مشروط تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ جج ارشد ملک فیصلے کے بعد 2 مرتبہ عمرے پر گئے، بعض معلومات کھلی عدالت میں نہیں دے سکتے۔

اٹارنی جنرل نے کہا اس کیس میں 2 اہم کردار ناصر بٹ اور سلیم اس وقت ملک میں نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی کا سپریم کورٹ سے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو پر نوٹس کا مطالبہ

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا اس ویڈیو سے فائدہ حاصل کرنے سے متعلق کسی نے کوئی درخواست دی ہے جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ہمیں اس حوالے سے ابھی تک کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ ویڈیو تو اس وقت کسی کے لیے فائدہ مند ہوسکتی جب کوئی اسے کسی کیس میں پیش کرے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ جنہوں نے یہ کہانی بنائی وہ اس سے لاتعلق ہوگئے اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ سب نے ہی اس کہانی سے جان چھُڑالی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ابھی تک تو اس ویڈیو پر کام ہی نہیں ہوا، سب سے پہلے یہ ویڈیو اصل ثابت ہوگی تو کسی پر اثر انداز ہوگی۔

اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس ویڈیو کو اصل ثابت کرنا بہت مشکل کام ہوگا جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ قابل اعتراض ویڈیو پر تو جج نے بھی اعتراف کیا ہے لیکن جو پریس کانفرنس میں دکھائی وہ اصل ثابت کیسے ہوگی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ ویڈیو کے معاملے کو ماہرین سے کلیئر کرائیں کہ فرانزک ہو سکتا ہے یا نہیں، رپورٹ میں تسلیم کیا گیا کہ آڈیو ریکارڈنگ الگ کی گئی۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پریس کانفرنس کے دوران ویڈیو کا سب ٹائٹل بھی چل رہا تھا، لگتا ہے ویڈیو کے ساتھ کسی نے کھیلا ہے۔

مزید پڑھیں: حسین نواز نے 50 کروڑ روپے رشوت کی پیشکش کی، جج ارشد ملک

اس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اس کیس میں 2 اہم کردار ناصر بٹ اور سلیم اس وقت ملک میں نہیں جن سے تحقیقات ہونی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ناصر بٹ برطانیہ میں مقیم ہیں جبکہ دوسرے کردار سلیم کو بھی ڈھونڈنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ارشد ملک کی خدمات لاہور ہائیکورٹ کو واپس کیوں نہیں کرتے، ارشد ملک کو لاہور نہ بھجوا کر تحفظ دیا جا رہا ہے۔

اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ تحقیقات کی وجہ سے ارشد ملک کو روک رکھا ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وفاقی حکومت نے انہیں ابھی تک پاس کیوں رکھا ہوا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیا جج ایسا ہوتا ہے جو سزا دینے کے بعد مجرم کے پاس جائے، جج کے اس کردار سے ججز کے سر شرم سے جھُک گئے ہیں۔

انہوں نے مزید ریمارکس میں کہا کہ آپ اس معاملے کو ہلکا کیوں لے رہے ہیں، جج خود مان رہا ہے کہ اس کے اس خاندان کے ساتھ تعلقات تھے، جج کے کردار کی حد تک معاملہ ہم دیکھ سکتے ہیں لیکن وڈیو کے معاملے کی آپ تحقیقات کرائیں فرانزک ہوسکتی ہے یا نہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم نے اس میں مزید کیا کرنا ہے ہم نے آپ متحرک کر دیا ہے، ہمارا تعلق اپنے جج سے ہے جس کے کردار پر بہت سے سوالیہ نشان آگئے ہیں، انہوں نے بہت سی چیزیں حلف نامے اور پریس ریلیز میں بتائیں معلوم نہیں جج صاحب کو کس نے مشورہ دیا تھا۔

جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو ارشد ملک کے فوری تبادلے کی یقین دہانی کروائی اور کہا کہ جج ارشد ملک کی خدمات واپس لاہور ہائی کورٹ کو بهجوائیں گے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اٹارنی جنرل کی معروضات سن لیں،فیصلہ کریں گے اس کیس کو نمٹانا ہے یا تحقیقات کی نگرانی کرنی ہے۔

بعدازاں عدالت نے جج ارشد کیس کی مبینہ ویڈیو سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

جج ارشد ملک مبینہ ویڈیو کے معاملے کا پس منظر

یاد رہے کہ 6 جولائی کو سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز پریس کانفرنس کے دوران العزیزیہ اسٹیل ملز کیس کا فیصلہ سنانے والےجج ارشد ملک کی مبینہ خفیہ ویڈیو سامنے لائی تھیں۔

لیگی نائب صدر نے جو ویڈیو چلائی تھی اس میں مبینہ طور پر جج ارشد ملک، مسلم لیگ (ن) کے کارکن ناصر بٹ سے ملاقات کے دوران نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنس سے متعلق گفتگو کر رہے تھے۔

مریم نواز نے بتایا تھا کہ ویڈیو میں نظر آنے والے جج نے فیصلے سے متعلق ناصر بٹ کو بتایا کہ 'نواز شریف کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، فیصلے کے بعد سے میرا ضمیر ملامت کرتا رہا اور رات کو ڈراؤنے خواب آتے۔ لہٰذا نواز شریف تک یہ بات پہنچائی جائے کہ ان کے کیس میں جھول ہوا ہے‘۔

انہوں نے ویڈیو سے متعلق دعویٰ کیا تھا کہ جج ارشد ملک ناصر بٹ کے سامنے اعتراف کر رہے ہیں کہ نواز شریف کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے، ویڈیو میں جج خود کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف کے خلاف ایک دھیلے کی منی لانڈرنگ کا ثبوت نہیں ہے۔

تاہم ویڈیو سامنے آنے کے بعد احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے خود پر لگنے والے الزامات کا جواب دیا تھا اور ایک پریس ریلیز جاری کی تھی۔

جج ارشد ملک نے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی جانب سے پریس کانفرنس کے دوران دکھائی جانے والی ویڈیو کو مفروضوں پر مبنی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس ویڈیو سے میری اور میرے خاندان کی ساکھ کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا تھا کہ ان کی مسلم لیگ (ن) کے ناصر بٹ اور ان کے بھائی عبداللہ بٹ کے ساتھ پرانی شناسائی ہے اور دونوں بھائی مختلف اوقات میں مجھ سے مل بھی چکے ہیں۔

اس تمام معاملے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نے 2 مرتبہ جج ارشد ملک سے ملاقات کی تھی جبکہ اس تمام معاملے سے متعلق چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ کو بھی آگاہ کیا تھا۔

بعد ازاں 12 جولائی کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے جج ارشد ملک کو عہدے سے ہٹانےکا فیصلہ کیا تھا اور خط لکھا تھا، جس پر وزارت قانون نے احتساب عدالت نمبر 2 کے ان جج کو مزید کام کرنے سے روک دیا تھا اور لا ڈویژن کو رپورٹ کرنے کا کہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: مریم نواز احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو سامنے لے آئیں

اسی روز جج ارشد ملک کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک خط اور بیان حلفی جمع کروایا گیا تھا، جس میں ویڈیو میں لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا گیا تھا۔

بیان حلفی میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے بیٹے حسین نواز نے العزیزیہ ریفرنس کے فیصلے کے بعد عہدے سے استعفیٰ دینے کے لیے انہیں 50 کروڑ روپے رشوت دینے کی پیشکش کی تھی۔

جج ارشد ملک نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے نمائندوں کی جانب سے انہیں العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز میں نواز شریف کے حق میں فیصلہ دینے پر مجبور کرنے کے لیے رشوت کی پیشکش اور سنگین نتائج کی دھمکی دی گئی اور بعد ازاں عہدے سے استعفیٰ دینے پر بھی مجبور کیا گیا۔

بیان حلفی میں جج ارشد ملک نے کہا تھا کہ فروری 2018 میں اسلام آباد کی احتساب عدالت نمبر 2 میں بطور جج تعینات ہونے کے بعد مہر جیلانی اور ناصر جنجوعہ نے رابطہ کیا اور ملاقات کی۔

ساتھ ہی اپنے بیان حلفی میں جج ارشد ملک نے کہا تھا کہ اس ملاقات میں ناصر جنجوعہ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس وقت پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں موجود بااثر شخصیت کو خصوصی اور ذاتی طور پر میرا نام تجویز کرنے کی وجہ سے مجھے احتساب عدالت نمبر 2 میں جج تعینات کیا گیا، اس حوالے سے ناصر جنجوعہ نے وہاں موجود ایک اور شخص سے کہا تھا کہ میں نے آپ کو چند ہفتے پہلے کہا تھا نا کہ محمد ارشد ملک احتساب عدالت میں جج تعینات ہوگا۔

یاد رہے کہ ارشد ملک وہی جج ہیں جنہوں نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید بامشقت اور بھاری جرمانے کی سزا سنائی تھی جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں انہیں بری کردیا تھا۔

احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے قومی احتساب بیورو کی جانب سے دائر ریفرنسز پر 19 دسمبر کو محفوظ کیا گیا فیصلہ 24 دسمبر 2018 کو سنایا تھا۔