ملائیشیا میں ذاکر نائیک کے بیانات اور تقاریر پر پابندی عائد

اپ ڈیٹ 20 اگست 2019

ای میل

پولیس نے ڈاکٹر ذاکر نائیک سے 10گھنٹوں تک تفتیش کی— فوٹو: اے پی
پولیس نے ڈاکٹر ذاکر نائیک سے 10گھنٹوں تک تفتیش کی— فوٹو: اے پی

کوالالمپور: ملائیشیا نے متنازع بیان دینے پر معروف بھارتی مبلغ اور مذہبی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کے ملائیشیا بھر میں بیانات اور تقاریر پر پابندی عائد کردی۔

واضح رہے کہ حال ہی میں ڈاکٹر ذاکر نائیک نے ایک بیان کے دوران کہا تھا کہ ’ہندوؤں کو ملائیشیا میں اس سے 100 گنا حقوق حاصل ہیں، جتنے بھارت میں مسلمان اقلیت کو ملتے ہیں‘ اس کے ساتھ انہوں نے یہ تجویز بھی دی تھی کہ ’چینی ملائیشین کو ان سے پہلے ملک بدر کرنا چاہیے تھا‘۔

مزید پڑھیں: ذاکر نائیک نے متنازع بیان پر ملائیشیا سے معافی مانگ لی

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ بیان کے بعد ڈاکٹر ذاکر نائیک کو ملائیشیا سے بے دخل کرنے کا مطالبہ کیا جارہا تھا جبکہ پولیس نے بھی اس معاملے پر ان سے تفتیش کی تھی۔

بعد ازاں ذاکر نائیک نے اپنے مذکورہ بیان پر معافی مانگی اور کہا کہ ان کے بدخواہوں نے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا۔

انہوں نے اس عمل کو جعل سازی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’میرا ہرگز مقصد کسی فرد یا برادری کو پریشان کرنا نہیں تھا، یہ اسلام کی بنیادی تعلیمات کے خلاف ہے اور میں اس غلط فہمی کے لیے دل سے معذرت خواہ ہوں‘۔

ڈاکٹر ذاکر نائیک کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ٹیلی ویژن پر آنے والے بنیاد پرست مبلغ ہیں، جنہوں نے امریکا میں 11 ستمبر 2001 کو ہونے والے حملے کو اندرونی کارروائی قرار دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: معروف مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائیک پر منی لانڈرنگ کا الزام

2016 میں وہ بھارت چھوڑ کے مسلم اکثریتی ملک ملائیشیا منتقل ہوگئے تھے، جہاں انہیں مستقل رہائش فراہم کردی گئی تھی۔

تاہم مذکورہ بیان کے بعد اب پولیس نے ان کے بیانات کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے ملائیشیا کی ہر ریاست میں ان کے بیانات پر پابندی لگا دی ہے۔

54سالہ ذاکر نائیک سے ان کے اس بیان پر پولیس نے 10 گھنٹوں تک تفتیش کی، جس کے بعد وہ اپنی گاڑی میں وہاں سے روانہ ہو گئے۔

مزید پڑھیں: بھارتی عدالت کا ذاکر نائیک کی جائیدادیں ضبط کرنے کاحکم

دوسری جانب سی آئی ڈی ڈائریکٹر ہوزر محمد نے بتایا کہ ذاکر نائیک سے امن کو خراب کرنے کی غرض سے باضابطہ طور پر تضحیک کرنے پر سیکشن 504کے تحت جرح کی گئی۔

اس سے قبل بھی نسل پرستانہ بیان پر ذاکر نائیک پر ملائیشیا کی 7ریاستوں میں تقاریر کرنے پر پابندی عائد تھی۔

ملائیشیا کی پولیس کے سابق سربراہ رحیم نور نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ذاکر نائیک کو مستقل رہائش کے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے انہیں واپس بھارت بھیج دے۔

البتہ ذاکر نائیک کو ملک بدر کرنے کے مطالبے کے باوجود وزیر اعظم مہاتیر محمد ایسا قدم اٹھانے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ذاکر نائیک کو بھارت کے حوالے نہیں کریں گے، ملائیشیا

ملائیشین میڈیا کے مطابق مہاتیر محمد کو خدشہ ہے کہ اگر ذاکر نائیک کو واپس بھارت بھیجا گیا تو انہیں قتل کیا جا سکتا ہے لہٰذا وہ انہیں بھارت بھیجنے کے حق میں نہیں، تاہم اگر کسی اور ملک نے انہیں پناہ دینے کی پیشکش کی تو ملائیشین وزیر اعظم اپنے فیصلے پر غور کر سکتے ہیں۔

ملائیشین حکومت چاہتی ہے کہ موجودہ صورتحال میں معروف مذہبی اسکالر خود کوئی فیصلہ کرتے ہوئے ملک چھوڑ دیں تاکہ حکومت کو ان کے ملک بھر میں ہزاروں چاہنے والوں اور عقیدت مندوں کے غم و غصے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

خیال رہے کہ مبینہ طور پر انتہا پسندی پر اکسانے اور منی لانڈرنگ کے الزامات میں ڈاکٹر ذاکر نائیک بھارت کو مطلوب ہیں اور اس سلسلے میں نئی دہلی نے گزشتہ برس ملائیشیا سے انہیں بے دخل کرنے کی درخواست بھی کی تھی، جسے مسترد کردیا گیا تھا۔