ہر رات 8 گھنٹے کی نیند لینا کیوں ضروری ہے؟

اپ ڈیٹ 21 اگست 2019

ای میل

فوٹو/ شٹراسٹاک
فوٹو/ شٹراسٹاک

اگر آپ کی گھڑی کا الارم صبح بج بج کر بند ہوجائے اور پھر آپ بیدار ہونے کے باوجود بھی کئی مرتبہ اونگھنے پر مجبور ہوجائیں یا خود کو سستی سے بچانے اور توجہ مرکوز رکھنے کے لیے کیفین کا سہارا لیں تو آپ ممکنہ طور پر نیند کی کمی کا شکار ہیں۔

ایک تحقیق میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ یہ چیز آپ کی صحت پر منفی اثرات مرتب کرسکتی ہے۔

امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ نیند دماغی طاقت کو بڑھانے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔

مزید پڑھیں: وہ عام عادتیں جو اچھی نیند سے محروم کردیں

تحقیقی ٹیم کے مطابق 'نیند نیورو جینیسز کی نشوونما کرتی ہے یا آسان الفاظ میں یہ طریقہ کار نئے عصبی خلیات کو بڑھاتا ہے خاص طور پر اس وقت جب آپ خواب دیکھ رہے ہو اور ایسا، اسی وقت ہوتا ہے جب آپ انتہائی گہری نیند میں ہوں'۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ آپ کو نیند کی ضرورت اس لیے بھی ہوتی ہے تاکہ آپ کا دماغ یادداشتوں کو تشکیل دینے کے لیے معلومات حاصل کرے اور ان کو ابھار سکے۔

دماغی ماہرین کا ماننا کہ جب ہم سو رہے ہوتے ہیں تو ہمارا ہپو کیمپس (دماغ کا یادداشت ذخیرہ کرنے والا حصہ) متحرک ہوجاتا ہے، جس سے دماغ کو یادداشتوں کو مختصر سے طویل عرصے تک یاد رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

اگرچہ نیورولوجسٹس (دماغی ماہرین) کا ماننا ہے کہ نیند کی کمی کو معمول بنا لینا ناصرف دماغ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کے ساتھ قوتِ مدافعت کو کم کردیتا ہے بلکہ اگر ہم روزانہ 4 گھنٹوں سے کم سونے کے عادی ہوں تو اس سے لوکس سیرولیوس (ایل سی) نامی وہ عصبی خلیات متاثر ہوتے ہیں جو انسان میں انہماک اور توجہ کا تعین کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایک رات کی خراب نیند بلڈپریشر بڑھانے کے لیے کافی

محققین نے ناکافی نیند کا تعلق کھانے پینے کی عادات میں بے ترتیبی، امراض کے خلاف مدافعتی نظام کے کمزور ہونے، ڈیمینشیا اور الزائمر وغیرہ سے جوڑا ہے۔

اس کے نتیجے میں ماہرین نفسیات نے اپنے مریضوں کو مشورہ دینا شروع کیا کہ وہ نیند کو دماغ کے جراثیم کش کے طور پر تصور کریں، جو دماغی امراض کے زہریلے اثرات کو جسم سے نکال باہر کرتی ہے۔

اس ساری تحقیقات کا خلاصہ یہ ہے کہ دیر تک جاگنے کو عادت نہ بنائیں اور ہر رات آٹھ گھنٹے کی نیند کو یقینی بنائیں۔