کاروباری برادری کی شکایات پر نیب کے طریقہ کار میں تبدیلی کا فیصلہ

اپ ڈیٹ 21 اگست 2019

ای میل

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ کاروباری برادری نیب سے خوفزدہ ہے اور سرمایہ کاری نہیں کر رہی بلکہ نقدی کو میٹریس کے نیچے چھپایا جارہا ہے — فوٹو:اے پی پی
فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ کاروباری برادری نیب سے خوفزدہ ہے اور سرمایہ کاری نہیں کر رہی بلکہ نقدی کو میٹریس کے نیچے چھپایا جارہا ہے — فوٹو:اے پی پی

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے معیشت کی بحالی، کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کو سازگار ماحول فراہم کرنے کے لیے قومی احتساب بیورو (نیب) کے کام کے طریقہ کار میں تبدیلی کا فیصلہ کرلیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 'کاروباری برادری کی نیب کے خلاف شکایات کے پیش نظر وفاقی کابینہ میں نیب حکام کی جانب سے کاروباری برادری کے خلاف اقدامات زیر بحث آئے'۔

ان کا کہنا تھا کہ کابینہ کو بتایا گیا کہ کاروباری برادری نیب سے خوفزدہ ہے اور سرمایہ کاری نہیں کر رہی۔

انہوں نے کہا کہ 'کاروباری برادری نہ ہی سرمایہ کاری کر رہی ہے اور نہ ہی اپنا پیسہ بینک میں ڈپازٹ کروا رہی ہے بلکہ وہ نقد رقوم کو اپنے میٹریس (بستروں) کے نیچے چھپا رہے ہیں'۔

مزید پڑھیں: ’پاکستانی قوم جنرل اسمبلی میں مودی کے خطاب تک کشمیریوں کے حق میں آواز اٹھائے‘

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ کو بتایا گیا کہ کاروباری سرگرمیاں نیب کے خوف کی وجہ سے رک گئی ہیں اور جس کے اثرات معیشت پر پڑ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'وزیر اعظم کے زیر صدارت اجلاس میں بتایا گیا کہ مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاری رک گئی ہیں اور بیوروکریٹس نیب کے خوف کی وجہ سے فیصلے نہیں کر رہے اور فائلوں پر دستخط نہیں کر رہے ہیں'۔

انہوں نے بتایا کہ آئندہ اجلاس میں نیب حکام کی جانب سے خوفزدہ کرنے والی کارروائیوں کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی نیب کے متنازع قوانین میں ترمیم کے لیے کئی مرتبہ اقدامات کیے جاچکے ہیں تاہم اس حوالے سے کچھ بھی عمل نہیں ہوا۔

پاکستانی قوم سے کشمیر کے حق میں آواز اٹھانے کی اپیل

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، وزیراعظم پاکستان عمران خان سے ایک روز پہلے خطاب کریں گے اس لیے یہ اشد ضروری ہے کہ پوری قوم اور میڈیا آج سے لے کر مودی کے خطاب کے دن تک کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھائے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان 27 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کریں گے۔

معاون خصوصی نے کہا کہ اگر بھارت مقبوضہ کشمیر سے کرفیو نہیں ہٹاتا اور جنگی جرائم کا خاتمہ نہیں کرتا تو پاکستان قانونی لائحہ عمل کے تحت اس معاملے کو عالمی فورمز میں لے جانے پر غور کررہا ہے۔

مسیحی برادری کی شادی اور طلاق سے متعلق ترمیمی بل

فردوس عاشق اعوان نے مزید بتایا کہ کابینہ نے مسیحی برادری کی شادی اور طلاق سے متعلق ترمیمی بل کی منظوری دے دی۔

گھریلو تشدد کے خلاف قانون

انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے گھریلو تشدد کے خلاف قانون سے متعلق بل کی منظوری بھی دی۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا سماجی، ثقافتی اور مذہبی اقدار کی حفاظت کی جائے گی اور ایک طریقہ کار کے تحت ہم تشدد کا شکار افراد کو تحفظ فراہم کریں گے۔

پاک ترک اقتصادی فریم ورک

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ نے پاک ترک تزویراتی اقتصادی لائحہ عمل کی منظوری دے دی، جس میں 9 مشترکہ ورکنگ گروپس ہیں اور وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور ان کی سربراہی کریں گے۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ 9 مشترکہ ورکنگ گروپس 71 امور میں تعاون کریں گے جن میں سب سے اہم آزاد تجارتی معاہدہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس لائحہ عمل کے تحت ترکی سے پاکستان میں ٹیکنالوجی بھی منتقل ہوسکے گی، اس میں دفاعی تعاون بھی شامل ہے۔

معاون خصوصی نے کہا کہ پاکستان گوادر کے ذریعے نہ صرف مشرق سے جڑا ہے بلکہ اس لائحہ عمل کے تحت پاکستان ترکی کے ذریعے مغرب اور مشرقی یورپ سے بھی جڑجائے گا۔

کابینہ میں پیش کی گئیں تجاویز

فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں 13 نکاتی ایجنڈا بھی زیرِ غور آیا، جس میں کابینہ ارکان کی جانب سے عوام کی فلاح و بہبود سے متعلق تجاویز پر سیر حاصل بحث ہوئی جبکہ مختلف وزرا نے عوامی ضروریات سے متعلق کابینہ میں تجاویز پیش کیں۔

معاون خصوصی نے کہا کہ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور نے بتایا کہ وزارت کے تحت اپنے طور پر فعال ہو کر ملکی سطح پر عوامی شکایت سیل عوام کے مسائل دور کرنے کی کوشش کررہا ہے، جس پر وزیراعظم نے سیکریٹریٹ میں قائم وزیراعظم سٹیزن پورٹل اور پارلیمانی امور میں وزیراعظم شکایت سیل کے درمیان معلومات کے تبادلے کا حکم دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر مملکت زرتاج گل نے گیس کی فراہمی سے محروم پہاڑی علاقوں میں لکڑیاں جلانے کے باعث آلودگی میں کمی کے لیے شمسی توانائی سے چلنے والے چولہے فراہم کرنے کی تجویز دی، جس پر وزیراعظم نے اس سولر اسٹوو کی تجویز کو منصوبے کی شکل دینے کے لیے متعلقہ وزارت کو ہدایت کردی۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے معاون خصوصی نے وزیر برائے ماحولیات ملک امین اسلم وزیراعظم کی جانب سے پلانٹ فار پاکستان کے معاشی اثرات سے متعلق بتایا اور شجرکاری مہم کے دوران پھل دار درختوں کی کاشت بڑھانے سے متعلق جائزہ لیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پھلدار درختوں کی کاشت بڑھانے کے لیے نوجوانوں کو اس مہم میں شامل کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی کابینہ نے بھارت سے تجارت معطل کرنے کی منظوری دے دی

معاون خصوصی نے کہا کہ وزیراعظم نے وزارت انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو منصوبے کی شکل میں ڈھال کر کابینہ میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیر توانائی نے عوام دوست اقدامات اور 120 ارب روپے کی بچت سے آگاہ کیا اور بتایا کہ پبلک فنڈز کے بجائے اب ٹرانسفارمرز کی تبدیلی اور اپ گریڈیشن سرکاری فنڈز سے کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر برائے امور کشمیر نے سیاحت کے حوالے سے تجاویز پیش کیں کہ سیاحتی مقامات میں ہوٹلوں کی کمی کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے، اس لیے حکومت نے مقامی افراد کے گھروں کے ساتھ ریسٹ ہاؤس کے طور پر استعمال کرنے کے لیے کمرہ بنانے کے لیے قرضے فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے مقامی افراد کی اضافی آمدن ممکن اور سیاحوں کو رہائش مل سکے گی۔

معاون خصوصی نے کہا کہ گیس اور بجلی چوری سے بچانے اور ریونیو کو محفوظ بنانے کے لیے ای میٹر کے نفاذ کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ تعلیم کے شعبے میں وزارت امور کشمیر نے صحت اور تعلیم کو ترجیح دیتے ہوئے بتایا کہ بیرون ملک موجود کشمیری 6 اضلاع میں اپنی مدد آپ کے تحت اسکول، ہسپتال اور یونیورسٹیاں قائم کرنے لیے تیار ہے بشرطیکہ آلات ڈیوٹی فری کیے جائیں اور ٹیکس کی مد میں چھوٹ دی جائے۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ بین الصوبائی وزارت کی سربراہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کابینہ کو کھیلوں کے فروغ سے متعلق اقدامات سے آگاہ کیا۔

معاون خصوصی نے کہا کہ وزیراعظم نے کابینہ کو حکومت سنبھالنے کے بعد سے درپیش چیلنجز سے آگاہ کیا اور بتایا کہ کس طرح ایک دیوالیہ معیشت کو واپس اپنے پاؤں پر کھڑا کیا اور اب وہ ایک مستحکم معیشت بننے جارہی ہے۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کی بہتر پالیسی کی وجہ سے خصوصی طور پر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 30 فیصد کمی کے بعد 19 ارب 80 کروڑ ڈالر سے 13 ارب 50 کروڑ ڈالر ہوگیا۔

انہوں نے کہا کہ کابینہ نے کم آمدنی والے افراد کو گھروں کی تعمیر کے لیے 5 ارب روپے کی منظوری دی جبکہ وزیراعظم نے تمام صوبوں میں اس قرضے کی منصفانہ تقسیم کے لیے حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔

فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے تحت بین الاقوامی سطح پر قابل قبول ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا کے لائسنسنگ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔