جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی روکنے کیلئے بار کونسل کی درخواست

اپ ڈیٹ 21 اگست 2019

ای میل

حکومتی حلقوں نے ریفرنس دائر ہونے سے پہلے ہی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف خبریں لیک کیں—فائل فوٹو: عدالت عظمیٰ ویب سائٹ
حکومتی حلقوں نے ریفرنس دائر ہونے سے پہلے ہی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف خبریں لیک کیں—فائل فوٹو: عدالت عظمیٰ ویب سائٹ

جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے خلاف صدارتی ریفرنس پر سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) کی کارروائی روکنے کے لیے سپریم کورٹ میں تیسری درخواست دائر کردی گئی۔

پاکستان بار کونسل (پی بی سی) کی جانب سے دائر درخواست میں صدر مملکت عارف علوی، وزیراعظم عمران خان، وفاقی حکومت، وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر اور دیگر کو فریق بنایا گیا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل جسٹس قاضی فائز عیسٰی بذات خود 7 اگست کو جبکہ سپریم کورٹ بار ایسوسی سیشن (پی بی ایس) 16 اگست کو صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں چیلنج کرچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے صدارتی ریفرنس چیلنج کردیا

پی بی سی کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے خلاف دائر ریفرنس پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کی بد نیتی پر مبنی ہے۔

درخواست میں کہا گیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں پہلے سے 26 دیگر ریفرنسز موجود ہونے کے باوجود مذکورہ ریفرنس جلد بازی میں سنا جا رہا ہے اور حکومتی حلقوں نے ریفرنس دائر ہونے سے پہلے ہی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف خبریں لیک کیں۔

درخواست میں کہا گیا کہ معزز جج کے خلاف شکایت کنندہ وحید ڈوگر خفیہ طاقتوں کا آلہ کار ہے لہذا عدالت سے استدعا کی جاتی ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی کاروائی کالعدم قرار دی جائے۔

اس کے علاوہ پیٹیشن میں سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کے طریقہ کار میں ترامیم کی بھی استدعا کی گئی۔

مزید پڑھیں: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خلاف صدارتی ریفرنس چیلنج کردیا

قبل ازیں 19 اگست کو سپریم جوڈیشل کونسل نے عدالت عظمیٰ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدر مملکت عارف علوی کو خطوط لکھنے پر دائر کیا گیا ریفرنس خارج کردیا تھا۔

اس حوالے سے جاری فیصلے میں سپریم جوڈیشل کونسل نے کہا تھا کہ کئی وجوہات کی بنا پر کونسل کو صدر مملکت کو خطوط لکھنے کا معاملہ اتنا سنگین نہیں لگا کہ وہ مس کنڈکٹ کا باعث بنے اور اس کی بنیاد پر انہیں (جسٹس قاضی فائز عیسیٰ) کو سپریم کورٹ کے جج کے عہدے سے ہٹایا جاسکے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنسز

واضح رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو 2 ریفرنسز میں شوکاز نوٹس جاری کیے گئے تھے۔

سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو جاری کیا گیا پہلا نوٹس برطانیہ میں اہلیہ اور بچوں کے نام پر موجود جائیداد ظاہر نہ کرنے کے صدارتی ریفرنس پر جاری کیا گیا تھا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو جاری کیا گیا دوسرا شو کاز نوٹس صدر مملکت عارف علوی کو لکھے گئے خطوط پر لاہور سے تعلق رکھنے والے ایڈووکیٹ وحید شہزاد بٹ جانب سے دائر ریفرنس پر جاری کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم جوڈیشل کونسل کے جسٹس قاضی فائر عیسیٰ کو اظہار وجوہ کے 2 نوٹسز

واضح رہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی ہدایت پر سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس کے آغا کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا گیا تھا۔

ریفرنس میں دونوں ججز پر اثاثوں کے حوالے سے مبینہ الزامات عائد کرتے ہوئے سپریم جوڈیشل کونسل سے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی استدعا کی گئی تھی۔

ریفرنس دائر کرنے کی خبر کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر ڈاکٹر عارف علوی کو خطوط لکھے تھے، پہلے خط میں انہوں نے کہا تھا کہ ذرائع ابلاغ میں آنے والی مختلف خبریں ان کی کردارکشی کا باعث بن رہی ہیں، جس سے منصفانہ ٹرائل میں ان کے قانونی حق کو خطرات کا سامنا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صدر مملکت سے یہ درخواست بھی کی تھی کہ اگر ان کے خلاف ریفرنس دائر کیا جاچکا ہے تو اس کی نقل فراہم کردی جائے کیونکہ مخصوص افواہوں کے باعث متوقع قانونی عمل اور منصفانہ ٹرائل میں ان کا قانونی حق متاثر اور عدلیہ کے ادارے کا تشخص مجروح ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیں: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر ایک ریفرنس خارج

صدر مملکت کو اپنے دوسرے خط میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا تھا کہ انہوں نے لندن میں موجود جائیدادوں سے متعلق کچھ نہیں چھپایا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 8 صفحات پر مشتمل خط میں اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدر مملکت اپنے اختیارات کے تحت اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ آئین کی پیروی کی جائے۔

لندن میں 3 جائیدادیں رکھنے کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے لکھا تھا کہ وہ خود پر اور اپنے خاندان کے خلاف تحقیقات کے طریقے پر صبر کرلیں لیکن کیا یہ معاملہ عدلیہ کی آزادی سلب کرنے کا مرتکب نہیں ہورہا۔

خط میں انہوں نے کہا تھا کہ جج ایسا کچھ ہونے کی اجازت نہیں دیتے اور اپنے آئینی حلف کے مطابق وہ آئین کی حفاظت اور اس کا دفاع کرتے۔