سنگین غداری کیس: وزارت قانون کو پرویز مشرف کے نئے وکیل کے اخراجات ادا کرنے کی ہدایت

اپ ڈیٹ 22 اگست 2019

ای میل

عدالت نے وزارت قانون کو پرویز مشرف کے وکیل کے اخراجات کی ادائیگی کی بھی ہدایت کی — فائل فوٹو: ٹوئٹر
عدالت نے وزارت قانون کو پرویز مشرف کے وکیل کے اخراجات کی ادائیگی کی بھی ہدایت کی — فائل فوٹو: ٹوئٹر

اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف جاری سنگین غداری کیس میں وکیل رضا بشیر کو ان کا نیا وکیلِ دفاع مقرر کیا جبکہ وزارت قانون کو سابق صدر کے نئے وکیل کے اخراجات کی ادائیگی کی بھی ہدایت کردی۔

جسٹس طاہرہ صفدر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے آغاز میں سیکریٹری قانون عدالت میں پیش ہوئے اور پرویز مشرف کا وکیل دفاع مقرر کرنے کے لیے 14 وکلا کے ناموں پر مشتمل فہرست عدالت میں جمع کروائی، جن میں اختر شاہ ایڈووکیٹ اور ارم شاہین کے نام بھی شامل تھے۔

سرکاری پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ فہرست میں شامل کسی نام پر اعتراض نہیں، ملزم کے لیے وکیل مقرر کرنا عدالت کی صوابدید ہے۔

مزید پڑھیں: پرویز مشرف 2 مئی کو پیش نہ ہوئے تو دفاع کا حق ختم ہوجائیگا، سپریم کورٹ

جسٹس طاہرہ صفدر نے ریمارکس دیے کہ وزارت قانون کی جانب سے 14 ناموں کی فہرست دی گئی ہے لیکن فہرست میں سے کسی ایک نام کا انتخاب عدالت کرے گی۔

جسٹس طاہرہ صفدر نے مزید ریمارکس دیے کہ آج ہی مشرف کے دفاع اور 342 کے بیان کے لیے وکیل مقرر کریں گے۔

پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کے مسلسل غیر حاضر رہنے پر سابق صدر کے دفاع کا حق ختم کرتے ہوئے اُن کے وکیل کو کیس کی مزید پیروی سے روک دیا تھا۔

جس کے بعد عدالت نے پرویز مشرف کا نیا وکیلِ دفاع مقرر کرنے کے لیے وزارت قانون سے وکلا کی فہرست مانگی تھی جسے سیکریٹری قانون نے جمع کروایا۔

یہ بھی پڑھیں: سنگین غداری کیس: پرویز مشرف کی بریت اور التوا کی درخواستیں مسترد

مذکورہ فہرست میں سے خصوصی عدالت نے وکیل رضا بشیر کو سنگین غداری کیس میں پرویز مشرف کا وکیلِ دفاع مقرر کرتے ہوئے کیس کی سماعت 28 اگست تک ملتوی کردی۔

سماعت کے بعد جاری ہونے والے حکم نامے کے مطابق رضا بشیر کے وکیل دفاع مقرر ہونے کا نوٹیفکیشن آئندہ 3 روز میں جاری کر دیا جائے گا جبکہ وزارت قانون نے رضا بشیر کے اخراجات ادا کرنے کی ہدایت بھی کردی۔

واضح رہے کہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف شدید علیل ہیں اور گزشتہ ڈھائی سال سے دبئی میں مقیم ہیں۔

یاد رہے کہ خصوصی عدالت نے 2 مئی کو سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس ملتوی کرنے کی درخواست منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی سے متعلق درخواست پر حکومت اور استغاثہ کو نوٹسز جاری کردیے تھے۔

تاہم 12 جون کو خصوصی عدالت نے مقدمے میں سابق صدر کی بریت اور التوا کی درخواستیں مسترد کردیں تھیں۔

سنگین غداری کیس کا پس منظر

خیال رہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف وفاقی حکومت کی جانب سے وزارتِ داخلہ کے ذریعے سنگین غداری کیس کی درخواست دائر کی گئی تھی جسے خصوصی عدالت نے 13 دسمبر 2013 کو قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے سابق صدر کو 24 دسمبر کو طلب کیا تھا۔

اس کیس میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے نومبر 2013 میں ایڈووکیٹ اکرم شیخ کو پروسیکیوشن کا سربراہ مقرر کیا تھا۔

ابتدائی طور پر جنرل (ر) پرویز مشرف کی قانونی ٹیم نے ایڈووکیٹ اکرم شیخ کی بطور چیف پراسیکیوٹر تعیناتی چیلنج کی تھی لیکن غداری کیس کے لیے مختص خصوصی عدالت کے ساتھ ساتھ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس چیلنج کو مسترد کردیا تھا۔

فروری 2014 میں جنرل (ر) پرویز مشرف عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے جس کے بعد عدالت نے 18 فروری 2014 کو ان کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے تھے۔

مزید پڑھیں: پرویز مشرف جہاں اتریں گے انہیں سیکیورٹی دیں گے، چیف جسٹس

مارچ 2014 میں خصوصی عدالت نے سنگین غداری کیس میں سابق صدر پر فرد جرم عائد کی تھی جبکہ اسی سال ستمبر میں پروسیکیوشن کی جانب سے ثبوت فراہم کیے گئے تھے۔

عدالت نے 8 مارچ 2016 کو جنرل (ر) پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں کرمنل پروسیجر کوڈ (سی آر پی سی) کی دفعہ 342 کے تحت بیان ریکارڈ کروانے کے لیے طلب کیا تھا۔

بعد ازاں عدالت نے 19 جولائی 2016 کو جنرل (ر) پرویز مشرف کو مفرور قرار دے کر ان کے خلاف دائمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کردیے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی جائیداد ضبط کرنے کا بھی حکم دے دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سنگین غداری کیس: پرویز مشرف کو سوال نامہ ارسال

تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم امتناع کے بعد خصوصی عدالت پرویز مشرف کے خلاف مزید سماعت نہیں کرسکی تھی جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کے حکم کے بعد وہ ملک سے باہر چلے گئے تھے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال 2018 کے آغاز میں خصوصی عدالت نے غداری کیس کی سماعتیں دوبارہ شروع کی تھی اور حکم دیا تھا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کا کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کیا جائے، جس کے بعد مسلم لیگ (ن) کی سابق حکومت نے مئی میں عدالتی احکامات پر عمل کرتے ہوئے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کردیا تھا۔

بعد ازاں 11 جون 2018 کو سپریم کورٹ نے جنرل (ر) پرویز مشرف کا قومی شناختی کارڈ (این آئی سی) اور پاسپورٹ بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔