ای میل

’شکر ہے جنسی غلام بننے سے بچ گئی‘

ناؤمی کامپبیل برطانیہ کی پہلی سیاہ فام سپر ماڈل ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی
ناؤمی کامپبیل برطانیہ کی پہلی سیاہ فام سپر ماڈل ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی

رواں ماہ 10 اگست کو سامنے آنے والے امریکی ارب پتی سرمایہ کار جیفری اپسٹن کے سیکس اسکینڈل میں برطانوی شہزادے اینڈریو کا نام آنے سے تہلکہ مچ گیا تھا۔

یہ کیس اس وقت عالمی سطح پر ایک سامنے آیا جب کیس کے مرکزی کردار 69 سالہ ارب پتی سرمایہ کار جیفری اپسٹن نے نیویارک کے جیل میں خود کشی کرلی تھی۔

ان پر الزام تھا کہ انہوں نے کئی سال تک کم عمر لڑکیوں سمیت درجنوں خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے سمیت انہیں نہ صرف جنسی غلام بنائے رکھا بلکہ انہیں اپنے دوستوں اور مہمانوں کی جنسی خواہشات کی تکمیل کے لیے بھی استعمال کیا۔

ان پر یہ الزامات بھی ہیں کہ انہوں نے جن کم عمر لڑکیوں کو کئی سال تک جنسی غلام بنائے رکھا بعد ازاں انہوں نے ان لڑکیوں کو عمر رسیدہ ہونے پر نئی لڑکیوں کو ان کی جنسی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے بھرتی کرنے کے لیے مجبور کیا۔

تہکہ مچانے والے سیکس اسکینڈل کے مرکزی ملزم ارب پتی جیفری اپسٹن نے 10 اگست کو جیل میں خود کشی کرلی تھی—فوٹو: اے ایف پی
تہکہ مچانے والے سیکس اسکینڈل کے مرکزی ملزم ارب پتی جیفری اپسٹن نے 10 اگست کو جیل میں خود کشی کرلی تھی—فوٹو: اے ایف پی

ان کے خلاف سب سے پہلے برطانیہ کی خاتون ورجینیا رابرٹ گفی سامنے آئی تھیں، جنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ جیفری اسپٹن نے انہیں 14 سال کی عمر میں جنسی غلام بنایا اور کئی سال تک انہیں جنسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہے۔

ورجینیا رابرٹ گفی کے مطابق انہیں ارب پتی شخص کے لیے ان کی محبوبا گیسلین میکسویل نے بھرتی کیا تھا۔

اسی برطانوی خاتون نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں برطانوی شہزادے اینڈریو کو جنسی لذت پہنچانے کا حکم بھی دیا گیا۔

اسی خاتون نے انکشاف کیا تھا کہ برطانوی سپر ماڈل ناؤمی کامپبیل بھی جیفری اسپٹن کے حلقے میں رہی ہیں اور انہوں نے ارب پتی سرمایہ کار سے کئی ملاقاتیں کیں۔

اگرچہ خاتون نے یہ الزامات نہیں لگائے تھے کہ برطانوی ماڈل کو بھی ارب پتی شخص نے جنسی زیادتی یا ریپ کا نشانہ بنایا تھا، تاہم انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ برطانوی سپر ماڈل ان کے کرتوتوں سے باخبر تھی۔

یہ الزامات سامنے آنے کے بعد برطانوی میڈیا میں چہ مگوئیاں تھیں کہ اگرچہ ناؤمی کامپبیل اور جیفری اسپٹن کے درمیان جسمانی تعلقات نہیں ہوئے ہوں گے، تاہم سپر ماڈل نے انہیں اور ان کے دوستوں کے لیے جنسی لذت فراہم کرنے والی نیم عریاں پرفارمنس ضرور کی ہوگی۔

اس اسکینڈل کو برطانوی خاتون ورجینیا رابرٹ گفی سامنے لے آئی تھیں—فوٹو: میامی ہیرالڈ
اس اسکینڈل کو برطانوی خاتون ورجینیا رابرٹ گفی سامنے لے آئی تھیں—فوٹو: میامی ہیرالڈ

ایسے الزامات کے بعد اب برطانوی سپر ماڈل اور انسانی حقوق سے متعلق کام کرنے والی سپر ماڈل 49 سالہ ناؤمی کامپیل نے وضاحت جاری کی ہے اور برطانوی میڈیا کی جانب سے سیکس اسکینڈل پر پوچھے جانے والے سوالات کے جوابات دیے ہیں۔

برطانوی اخبار ’دی انڈیپینڈنٹ‘ کے مطابق سپر ماڈل نے جاری کردہ یوٹیوب ویڈیو میں جیفری اسپٹن اسکینڈل سے متعلق سوالات کے جوابات دیے۔

ناؤمی کامپبیل نے یہ جوابات برطانوی اخبار ’دی میل آن لائن‘ کے صحافی کو دیے جو ویڈیو میں دکھائی نہیں دے رہے۔

ناؤمی کامپبیل نے اعتراف کیا کہ وہ ارب پتی جیفری اسپٹن کو جانتی تھیں، تاہم انہوں نے اس بات سے انکار کیا کہ وہ ان کے کرتوتوں سے بھی باخبر تھیں۔

سپر ماڈل کے مطابق وہ خواتین کو جنسی غلام بنا کر رکھنے والے ارب پتی سرمایہ کار سے 18 سال قبل اپنی 31 ویں سالگرہ پر ملی تھیں، تاہم انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ وہ غلط کام بھی کرتے ہیں۔

جیفری اسٹپن عام آدمی سے ارب پتی بنے—فوٹو: میامی ہیرالڈ
جیفری اسٹپن عام آدمی سے ارب پتی بنے—فوٹو: میامی ہیرالڈ

ماڈل کا کہنا تھا کہ انہیں ارب پتی سرمایہ کار سے ان کے سابق بوائے فرینڈ نے ملوایا تھا اور وہ اس بات پرشکر ادا کرتی ہیں کہ وہ جیفری اپسٹن کی بربریت سے محفوظ رہیں۔

ناؤمی کامپبیل کے مطابق خود کشی کرنے والے ارب پتی سرمایہ کار نے ان کے ساتھ کوئی بھی جسمانی فعل نہیں کیا اور نہ ہی انہیں کوئی فحش پرفارمنس کرنے پر مجبور کیا گیا۔

ماڈل کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے سنا کہ ارب پتی سرمایہ کار خواتین کے ریپ اور انہیں جنسی غلام بنانے سمیت انہیں جسم فروشی کے لیے استعمال کرنے جیسے جرائم میں ملوث ہے تو انہیں جھٹکا لگا اور انہیں ایک دم سے متاثرہ خواتین کی یاد آئی، ناؤمی کامپبیل نے جیفری اپسٹن کا نشانہ بننے والی خواتین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔

ناؤمی کامپبیل کون ہیں؟

ناؤمی کامپبیل نے 15 برس کی عمر میں ماڈلنگ شروع کی—فوٹو: فیس بک
ناؤمی کامپبیل نے 15 برس کی عمر میں ماڈلنگ شروع کی—فوٹو: فیس بک

49 سالہ برطانوی ماڈل ناؤمی کامپبیل برطانوی ماڈل، کاروباری خاتون اور سماجی کارکن ہیں، انہوں نے محض 15 برس کی عمر میں ماڈلنگ کی شروعات کی۔

ناؤمی کامپبیل کو برطانیہ کی پہلی سیاہ فام سپر ماڈل کا اعزاز بھی حاصل ہے، وہ 1980 سے 1990 کے بعد تک ماڈلنگ کی دنیا میں چھائی رہیں۔

ان کا شمار دنیا کی معروف ترین، بااثر ترین اورامیر ترین ماڈلز میں ہوتا ہے۔

ناؤمی کامپبیل کے اردن کی شہزادی رانیہ سمیت کئی طاقتور خواتین کے ساتھ بہتر تعلقات ہیں—فوٹو: اے ای ورلڈ
ناؤمی کامپبیل کے اردن کی شہزادی رانیہ سمیت کئی طاقتور خواتین کے ساتھ بہتر تعلقات ہیں—فوٹو: اے ای ورلڈ

ناؤمی کامپبیل کو سیاہ فام ہونے کی وجہ سے کئی سال تک میک اپ برانڈز کی تشہیر کے لیے بھرتی نہیں کیا جاتا تھا، انہیں 2000 کے بعد خوبصورتی کی مصنوعات بنانے والے برانڈز نے تشہیر کے لیے بھرتی کیا۔

ناؤمی کامپبیل نے میک اپ و فیشن برانڈز سمیت کئی طرح کے کاروبار میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور ساتھ ہی وہ فیشن کی تعلیم و تربیت سمیت دیگر کچھ سماجی منصوبے بھی چلاتی رہی ہیں۔

سپر ماڈل کے تعلقات فیشن میگزین ووگ برطانیہ کے سابق ایڈیٹر ایڈورڈ انیفل سے بھی رہے—فوٹو: اے ایف پی
سپر ماڈل کے تعلقات فیشن میگزین ووگ برطانیہ کے سابق ایڈیٹر ایڈورڈ انیفل سے بھی رہے—فوٹو: اے ایف پی

ناؤمی کامپبیل کو کیریئر میں کئی طرح کے الزامات اور مقدمات کا سامنا بھی رہا، ان پر زیادہ تر اپنے ملازمین کے ساتھ نازیبا رویہ اختیار کرنے اور انہیں تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے مقدمات ہوتے رہے۔

سپر ماڈل نے کم سے کم 2 بار منگنی کی، تاہم دونوں منگنیوں کو شادیوں سے پہلے ہی ختم کردیا اور بعد ازاں ان کے نام کئی امیر ترین افراد کے ساتھ بھی جوڑے جاتے رہے۔

ناؤمی کامپبیل کا نام سعودی عرب کے ارب پتی شہزادے حسن جمیل کے ساتھ بھی جوڑا جاتا رہا، جو ان دونوں دوسری سیاہ فام گلوکارہ ریانا کے انتہائی قریب ہیں۔

ناؤمی کامپبیل کے تعلقات حسن جمیل سےبھی رہے—فوٹو: فیس بک/ انسٹاگرام
ناؤمی کامپبیل کے تعلقات حسن جمیل سےبھی رہے—فوٹو: فیس بک/ انسٹاگرام

اس کیس سے ملکہ برطانیہ کے بیٹے کا کیا تعلق

شہزادہ اینڈریو کے ترجمان نے جیفری اسپٹن کے اور شہزادے کے درمیان ملاقات کو تسلیم کیا—فوٹو: اے ایف پی
شہزادہ اینڈریو کے ترجمان نے جیفری اسپٹن کے اور شہزادے کے درمیان ملاقات کو تسلیم کیا—فوٹو: اے ایف پی

دنیا میں تہلکہ مچانے والے اس سیکس اسکینڈل کیس سے ملکہ برطانیہ کے بیٹے شہزادہ 59 سالہ اینڈریو (ڈیوک آف یارک) کا نام آنے سے دنیا میں تہلکہ مچ گیا تھا اور خاص طور پر برطانیہ میں اس کیس کو غیر معمولی میڈیا کوریج مل رہی ہے۔

اس کیس کو سامنے لانے والی برطانوی خاتون ورجینیا رابرٹ گفی نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں ارب پتی جیفری اپسٹن نے شہزادہ اینڈریو کو جنسی لذت فراہم کرنے پر مجبور کیا اور خاتون نے دعویٰ بھی کیا کہ ان کے اور شہزادے کے درمیان جنسی تعلقات استوار ہوئے۔

تاہم سی این این نے کیس سامنے آنے کے بعد اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ الزامات سامنے آنے کے بعد ملکہ برطانیہ کے بیٹے کے ترجمان نے الزامات کو جھوٹا قرار دیا۔

شہزادہ اینڈریو کے ترجمان کا کہنا تھا کہ شہزادے نے آخری اور پہلی بار اسکینڈل کے مرکزی ملزم اور خودکشی کرنے والے جیفری اسٹپن سے 2010 میں ملاقات کی تھی۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ 2010 کے بعد شہزادے نے جیفری اسٹپن سے کوئی ملاقات نہیں اور ان کی دوبارہ ملاقات یا شہزادے کو جنسی لذت فراہم کرنے والے الزامات بے بنیاد ہیں۔

الزام لگانے والی خاتون شہزادہ اینڈریو اور جیفری اسٹپن کی محبوبا کے ہمراہ—فوٹو: این بی سی نیوز
الزام لگانے والی خاتون شہزادہ اینڈریو اور جیفری اسٹپن کی محبوبا کے ہمراہ—فوٹو: این بی سی نیوز