‘لندن حکومت ایران میں قید برطانوی خاتون کی رہائی کیلئے سنجیدہ نہیں‘

اپ ڈیٹ 22 اگست 2019

ای میل

عصر امیری کے خلاف عدالتی کارروائی میں انہیں 10 برس کی سزا سنائی گئی تھی—فوٹو: بشکریہ دی گارجین
عصر امیری کے خلاف عدالتی کارروائی میں انہیں 10 برس کی سزا سنائی گئی تھی—فوٹو: بشکریہ دی گارجین

ایران میں جاسوسی کے الزام میں قید برطانوی خاتون کے منگیتر نے الزام لگایا ہے کہ برطانوی حکومت نے عصر امیری کے ’ایرانی‘ شہری ہونے پر ان کی باحفاظت رہائی کے لیے اپنی ذمہ داری نبھانے سے آنکھیں پھیر لیں۔

دی گارجین میں شائع رپورٹ کے مطابق عصر امیری کے منگیتر جیمز ٹائسن نے انکشاف کیا کہ برطانوی حکام نے مذکورہ مسئلے پر بات کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ عصر امیری ایرانی شہری تھیں، اس لیے وہ ان کی رہائی کے لیے مدد نہیں کرسکتے۔

مزیدپڑھیں: ایران میں قید برطانوی خاتون کی رہائی کیلئے اہلخانہ کا لندن سے کردار ادا کرنے کا مطالبہ

انہوں نے کہا کہ عصر امیری کی عدم رہائی ایران کے مایوس کن رویے کی عکاس ہے لیکن ساتھ ہی برطانیہ کی سفارتی ناکامی بھی ہے۔

ایران میں سزا کاٹنے والی خاتون کے منگیتر نے الزام لگایا کہ ایرانی حکومت نے سفارتی فوائد کے لیے انہیں گرفتار کیا اور ’دشمنوں کو گولی مارنے کے بجائے اپنے ہی پاؤں پر گولی چلا دی‘۔

جیمز ٹائسن نے کہا کہ عصر امیری دنیا کی دو بڑی طاقتوں کے درمیان پھنس گئی ہیں اور اب برطانیہ اور ایران اس مسئلے پر بات کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ جیمز ٹائسن بھی برٹش کونسل میں ملازمت کرتے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ ایرانی حکام جانتے ہیں کہ عصر امیری پر الزامات جھوٹ پر مبنی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایران: برطانیہ کیلئے 'جاسوسی' کے الزام میں خاتون کو 10 سال قید

انہوں نے بتایا کہ ایران نے برطانیہ میں ایرانی فن پاروں کی نمائش کے انعقاد میں عصر امیری کی مدد کی تھی اور اب یہی دونوں حکومتیں انہیں شطرنج کا ایک مہرا سمجھتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دفتر خارجہ عصر امیری کا مسئلہ اٹھانے سے قاصر ہے جبکہ وہ برطانوی شہری کے ساتھ ساتھ برٹش کونسل کی ملازمہ بھی ہیں۔

انہوں نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ ’عصر امیری کی حفاظت برطانوی حکومت کی ذمہ داری اور ڈیوٹی ہے، اس معاملے پر جب میں نے دفاتر خارجہ میں متعلقہ حکام سے ملاقات کی کوشش کی تو مجھے کہا گیا کہ یہ عصر امیری کے اہلخانہ کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ خود صورتحال سنبھالیں‘۔

جیمز ٹائسن نے سوال اٹھایا کہ اگر برطانوی سفارتکار کسی ملک میں گرفتار کرلیا جائے اور تو کیا اس زیر حراست سفارتکار کی والدہ کو کہا جائے گا کہ آپ خود ہی مسئلہ حل کریں‘۔

مزیدپڑھیں: ایران: جوہری مذاکراتی ٹیم کے رکن کو 5 سال قید کی سزا

واضح رہے کہ رواں برس مئی میں ایران کی عدالت نے برٹش کونسل کی ملازمہ کو برطانیہ کے لیے ‘جاسوسی’ کے الزام میں 10 برس کی قید کی سزا سنائی تھی۔

ایرانی عدلیہ کی ویب سائٹ میزان آن لائن میں جاری رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایرانی خاتون کو جاسوسی کے جرم میں سزا دی گئی۔

میزان آن لائن نے عدالت کے ترجمان غلام حسین اسماعیلی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ‘ایک ایرانی خاتون برٹش کونسل میں ایرانی ڈیسک کی انچارج کے طور پر کام کر رہی تھیں اور وہ برطانوی خفیہ ایجنسیوں سے تعاون کر رہی تھیں’۔

ادھر برطانوی دفتر خارجہ و دولت مشترکہ دفتر کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں ان رپورٹس پر شدید تشویش ہے کہ برٹش کونسل کی ایرانی ملازمہ کو جاسوسی کے الزام میں قید کی سزا دی گئی’۔

یہ بھی پڑھیں: ایران میں انسانی حقوق کی وکیل کو 38برس قید، 148کوڑوں کی سزا

خیال رہے کہ برٹش کونسل ایک ثقافتی اور تعلیمی ادارہ ہے، جس کی شاخیں دنیا بھر میں موجود ہیں، جہاں انگریزی زبان کے علاوہ دیگر تعلیمی اور ثقافتی کورسز بھی کروائے جاتے ہیں۔