جسم فروشوں سے روابط کا الزام: چین میں برطانوی قونصل خانے کا ملازم گرفتار

اپ ڈیٹ 22 اگست 2019

ای میل

چین کی جانب سے پہلی مرتبہ ان کی گرفتاری کی تصدیق کی گئی —فوٹو: شٹراسٹاک
چین کی جانب سے پہلی مرتبہ ان کی گرفتاری کی تصدیق کی گئی —فوٹو: شٹراسٹاک

چینی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ہانگ کانگ میں برطانوی قونصل خانے کے لیے کام کرنے والے شخص کو ’جسم فروشوں سے روابط‘ کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔

واضح رہے کہ سمن چینگ 8 اگست سے لاپتہ تھے اور چین کی جانب سے پہلی مرتبہ ان کی گرفتاری کی تصدیق کی گئی۔

مزیدپڑھیں: ہانگ کانگ:حکومت مخالف مظاہرین پر پولیس کا لاٹھی چارج

دی گارجین میں شائع رپورٹ کے مطابق بیجنگ میں وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ سمن چینگ نے چین کی پبلک سیکیورٹی کے خلاف ورزی کی اور انہیں 15 دن کے لیے انتظامی حراست میں لیا گیا۔

خیال رہے کہ 28 سالہ سمن چینگ اسکاٹش ڈیولپمنٹ انٹرنیشنل میں بطور تجارت اور سرمایہ کار افسر تعینات تھے اور وہ 8 اگست کو ہانگ کانگ کے سرحدی شہر شین زن کے سفر پر گئے تھے۔

انہوں نے اپنی گرل فرینڈ کو موبائل پر پیغام ارسال کیا تھا کہ وہ تقریباً رات 10 بجے تک سرحد پار کر لیں گے، تاہم بعدازاں سمن چینگ کی جانب سے کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی تھی۔

کمیونسٹ پارٹی کے اخبار دی گلوبل ٹائمز نے بتایا کہ سمن چینگ کو ’جسم فروشی میں ملوث‘ ہونے پر گرفتار کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ہانگ کانگ میں مظاہرین کا پارلیمنٹ پر قبضہ

اخبار میں پولیس کے حوالے سے بتایا گیا کہ مذکورہ قانون کے تحت جو کوئی عصمت فروشی کرتا ہے یا عصمت فروشی کرنے والی خواتین کے پاس جاتا ہے، یہ قابل سزا ہے اور اسے 15 دن سے زائد حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب سمن چینگ کے اہلخانہ نے مذکورہ معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا لیکن یہ ضرور کہا کہ ’سچائی لوگوں کے دلوں میں‘ ہے۔

اس ضمن میں کہا گیا کہ سمن چینگ کی رہائی جمعہ کو متوقع ہے۔

علاوہ ازیں خارجہ اور دولت مشترکہ آفس کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ ’سمن چینگ کے بارے میں فوری معلومات درکار ہیں لیکن ہمارا یا ان کے اہل خانہ کا گرفتاری کے بعد سے سمن چینگ سے رابطہ نہیں ہوا'۔

مزیدپڑھیں: ہانگ کانگ میں مظاہرے، چیف ایگزیکٹو نے عوام سے معافی مانگ لی

گلوبل ٹائمز نے رپورٹ میں کہا کہ سمن چینگ نے از خود پولیس سے درخواست کی تھی کہ ان کے اہلخانہ کو مطلع نہ کیا جائے۔

دریں اثنا سمن چینگ کی گرل فرینڈ لی نے بتایا کہ سمن چینگ نے گزشتہ دو ہفتوں میں جمہوریت پسند مظاہروں میں شرکت نہیں کی تھی۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ ہانگ کانگ میں مجرموں کی حوالگی سے متعلق متنازع بل کے خلاف لاکھوں افراد کا احتجاج جاری ہے۔

بعد ازاں 2 جولائی کو ہانگ کانگ کو چین کے حوالے کرنے کی 22ویں سالگرہ کے موقع پر مظاہرین نے پارلیمنٹ پر دھاوا بولتے ہوئے اس پر قبضہ کر لیا تھا تاہم پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مظاہرین کو منتشر کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ہانگ کانگ: کئی روز کے احتجاج کےبعد ملزمان کی حوالگی کا متنازع قانون معطل

یاد رہے کہ ہانگ کانگ میں 2014 میں جمہوریت پسندوں نے دو ماہ تک طویل احتجاج کیا تھا اور اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں بھی ہوئی تھیں، جس سے مونگ کوک سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اضلاع میں شامل تھا۔