ای میل

غیر پائیدار برج بنانے پر آرکیٹکٹ پر جرمانہ عائد

کانسٹی ٹیوشن برج کے آرکیٹکٹ سانتیاگو کلاتراوا پر جرمانہ عائد کردیا گیا—فوٹو: فاکس نیوز
کانسٹی ٹیوشن برج کے آرکیٹکٹ سانتیاگو کلاتراوا پر جرمانہ عائد کردیا گیا—فوٹو: فاکس نیوز

سیاحت کے حوالے سے دنیا بھر میں معروف یورپی ملک اٹلی کی ایک عدالت نے سیاحت دشمن، غیر پائیدار اور سیاحوں کے لیے کشش کا باعث نہ بننے والا برج بنانے پر معروف آرکیٹکٹ پر جرمانہ عائد کردیا۔

اٹلی کے شہر روم کی عدالت نے دنیا بھر کے کروڑوں افراد کے لیے کشش کا باعث بننے والے شہر ’وینس‘ میں گرانڈ کینال پر ناقص اور سیاحوں کا دل نہ لبھانے والا پل بنانے پر معروف آرکیٹکٹ 68 سالہ سانتیاگو کلاتراوا پر جرمانہ عائد کردیا۔

اٹالین ماہر فن تعمیرات سانتیاگو کلاتراوا اپنی منفرد اور دیدہ زیب تعمیراتی ڈیزائن کی وجہ سے دنیا بھر میں شہرت رکھتے ہیں اور انہوں نے اٹلی کے علاوہ امریکا، قطر اور دیگر ممالک میں کئی عمارتوں کے ڈیزائن ترتیب دیے ہیں۔

سانتیاگو کلاتراوا نے امریکی شہر ڈلاس کا معروف پل بھی ڈیزائن کیا ہے—فوٹو: مبری کامپبیل بلاگ
سانتیاگو کلاتراوا نے امریکی شہر ڈلاس کا معروف پل بھی ڈیزائن کیا ہے—فوٹو: مبری کامپبیل بلاگ

سانتیاگو کلاتراوا نے امریکی ریاست ٹیکسس کے شہر ڈلاس کے معروف برج ’مارگریٹ ہنٹ ہل برج‘ سمیت نیویارک کے ’ورلڈ ٹریڈ سینٹر ٹرانسپورٹیشن حب‘ اور وینس کے ’سٹی آف آرٹس اینڈ سائنسز‘ اوپرا ہاؤس سمیت کئی دیگر شاہکار عمارتوں اور برجز کے ڈیزائن بنائے۔

سانتیاگو کلاتراوا نے ان معروف تعمیرات کے علاوہ بھی دیگر یورپی و امریکی ممالک سمیت ایشیائی ممالک کے تعمیراتی منصوبوں کے ڈیزائن بنائے۔

معروف ماہر فن تعمیرات کو وینس شہر کی انتطامیہ نے بھی شہر کے معروف سیاحتی مقام ’گرانڈ کینال‘ پر برج بنانے کا ٹھیکہ دیا تھا۔

اٹالین ماہر فن تعمیرات نے نیویارک کا ٹرانسپورٹیشن حب بھی ڈیزائن کیا—فوٹو: ریلوے ٹیکنالوجی
اٹالین ماہر فن تعمیرات نے نیویارک کا ٹرانسپورٹیشن حب بھی ڈیزائن کیا—فوٹو: ریلوے ٹیکنالوجی

’وینس‘ میں اس برج کے علاوہ بھی درجنوں پل ہیں اور اس شہر کو ’پانیوں‘ اور ’پلوں‘ کا شہر کہا جاتا ہے، جہاں جگہ جگہ شاندار برجز دکھائی دیتی ہیں۔

سانتیاگو کلاتراوا کو جس برج بنانے کا منصوبہ سونپا گیا تھا، اس برج کے لیے انتظامیہ نے معاہدے میں لکھا تھا کہ شیشے اور اسٹیل سے ایسا شاندار پل تعمیر کیا جائے جس کو اگلے 20 سال تک مرمت کی ضرورت نہ پڑے۔

ساتھ ہی انتظامیہ نے معاہدے میں لکھا تھا کہ برج کا ڈیزائن سیاحوں کی دلچسپی کا باعث ہو اور اسے پرکشش بنایا جائے۔

سانتیاگو کلاتراوا نے وینس کے آرٹس اوپرا سینٹر بھی ڈیزائن کیا—فوٹو: لونلی پلانیٹ
سانتیاگو کلاتراوا نے وینس کے آرٹس اوپرا سینٹر بھی ڈیزائن کیا—فوٹو: لونلی پلانیٹ

اس پل کو 2008 میں سیاحوں کے لیے کھولا گیا، تاہم جلد ہی پل کا شیشہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا اور اس برج کو کئی سیاحوں نے اچھا پل قرار نہیں دیا اور نہ ہی یہ برج مسلسل آنے والے سیاحوں کے وزن اٹھانے کے لیے موزوں قرار دیا گیا۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کے مطابق برج کو غیر پائیدار اور 'سیاحت دشمن' بنانے پر روم کی عدالت نے رواں ماہ 9 اگست کو اپنے فیصلے میں ماہر فن تعمیرات پر جرمانہ عائد کیا۔

رپورٹ کے مطابق عدالت نے شہرت یافتہ آرکیٹکٹ پر 86 ہزار امریکی ڈالر کا جرمانہ عائد کیا جو پاکستانی ایک کروڑ روپے سے زائد بنتا ہے۔

300 فٹ لمبے برج کو 2008 میں عوام کے لیے کھولا گیا—فوٹو: اے ایف پی
300 فٹ لمبے برج کو 2008 میں عوام کے لیے کھولا گیا—فوٹو: اے ایف پی

رپورٹ کے مطابق حکومت نے 300 فٹ طویل اس پل کے لیے 77 لاکھ امریکی ڈالر کا بجٹ مختص کیا تھا لیکن اس پل کو ایک کروڑ 30 لاکھ امریکی ڈالر میں تعمیر کیا گیا۔

اس برج کا نام ’کانسٹی ٹیوشن برج‘ رکھا گیا، کیوں کہ اس کا افتتاح اٹلی کے آئین کی 60 ویں سالگرہ کے موقع پر کیا گیا تھا۔

یہ پل معروف سیاحتی کینال ’گرانڈ کینال‘ کے اوپر بنایا گیا تھا اور یہ پل ’سانتا لوشیا ٹرین اسٹیشن‘ اور ’پیازل روما‘ نامی سیاحتی مقامات کو ایک دوسرے سے ملاتا ہے۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق یہ پل 2012 میں ہی خستہ حال ہونا شروع ہوگیا تھا اور ابتدائی 4 سال میں اس کی مرمت کرنا پڑی اور اب تک 9 سال کے دوران اس برج کی متعدد مرتبہ مرمت کی گئی ہے اور سیاح بھی اس پل کے ڈیزائن کو اچھا نہیں سمجھتے۔

حکام کے مطابق برج میں ناقص شیشہ استعمال کیا گیا ہے جس پر سیاح اپنا توازن کھو بیٹھتے ہیں اور سیاحوں کے پھسلنے کے واقعات حد سے زیادہ ہوتے ہیں۔

حکام کے مطابق برج میں ناقص شیشہ استعمال کیا گیا جس پر سیاح پھسلتے ہیں — فوٹو: وینس ٹوئرزم
حکام کے مطابق برج میں ناقص شیشہ استعمال کیا گیا جس پر سیاح پھسلتے ہیں — فوٹو: وینس ٹوئرزم