جب ڈیڑھ کھرب روپے کی زمین صرف ڈیڑھ کروڑ روپے میں فروخت ہوئی

اپ ڈیٹ 23 اگست 2019

ای میل

— یوٹیوب ویڈیو اسکرین شاٹ
— یوٹیوب ویڈیو اسکرین شاٹ

کیا آپ تصور کرسکتے ہیں کہ ایسی زمین جس کی قیمت چند ماہ پہلے ڈیڑھ کھرب روپے سے زائد ہو، وہ آخر میں صرف ڈیڑھ کروڑ روپے میں فروخت ہو؟

ایسا حیرت انگیز واقعہ امریکا میں پیش آیا جہاں ریاست کیلیفورنیا کے مہنگے ترین علاقے بیورلے ہلز میں پر واقع جائیداد ایک لاکھ ڈالرز میں فروخت ہوئی جس کی قیمت ایک سال قبل ایک ارب ڈالرز مانگی جارہی تھی۔

157 ایکڑ رقبے پر پھیلا پلاٹ جسے دی ماﺅنٹین کا نام دیا گیا، کافی عرصے سے میڈیا کی نظروں میں تھا، جہاں سے پورے لاس اینجلس شہر کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔

اس جائیداد کے بارے میں ماہرین کا اندازہ تھا کہ اس کی مالیت ایک ارب ڈالرز نہیں ہوسکتی مگر ڈویلپر چارلس ڈکنز اور ایک کمپنی سیکیورڈ کیپیٹل پارٹنرز ایل ایل سی نے اس قیمت پر فروخت کرنے کی کوشش کی۔

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق منگل کو اس جائیداد کو اس جگہ کے قانونی مالک نے خریدلیا کیونکہ مقابلے پر کوئی بھی نہیں تھا۔

مارک ہیگز ٹرسٹ نے اس پلاٹ کو 2004 میں 85 لاکھ ڈالرز میں خریدا تھا مگر پھر قانونی پیچیدگیوں کے باعث اس کا کنٹرول چارلس ڈکنز کے پاس چلا گیا۔

ٹرسٹ کی جانب سے لاکھوں ڈالرز اس جگہ کو بنانے کے لیے چارلس ڈکنز کو دیئے گئے اور یہ معاہدہ ہوا جب اسے فروخت کیا جائے گا تو منافع دونوں میں تقسیم ہوگا۔

تاہم مالی مشکلات کے باعث چارلس ڈکنز کو سیکیورڈ کیپیٹل پارٹنرز سے شراکت داری کرنا پڑی اور جولائی 2018 میں اس پلاٹ کو ایک ارب ڈالرز میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا، جس کی ویب سائٹ اور ویڈیوز بھی تیار ہوئیں۔

فوٹو بشکریہ دی سوسائٹی گروپ
فوٹو بشکریہ دی سوسائٹی گروپ

مگر اسے کسی نے نہیں خریدا، فروری 2019 میں اس کی قیمت کم کرکے 65 کروڑ ڈالرز کردی گئی مگر یہ بھی بہت زیادہ ثابت ہوئی۔

آخر میں اس جائیداد کو نیلامی میں ایک لاکھ ڈالرز میں فروخت کیا گیا مگر یہ کم قیمت بھی مارک ہیگز ٹرسٹ پر بھاری قرضے کا باعث بنی ہے۔

ٹرسٹ کے وکلا نے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ اگر کوئی اور اس جگہ کو خریدتا تو اسے جائیداد کے سود اور دیگر واجبات کے عوض کم از کم 20 کروڑ ڈالرز ادا کرنا پڑتے۔

یہ پلاٹ ماضی میں ایران کے سابق بادشاہ کی بہن کی ملکیت بھی رہ چکا ہے۔

اس جائیداد کو 2000 کی دہائی میں اداکار ٹام کروز نے بھی خریدنے کے بارے میں سوچا مگر پھر ارادہ بدل دیا جبکہ دنیا کے امیر ترین شخص اور ایمازون کے بانی جیف بیزوز نے بھی حال ہی میں اس میں سرمایہ کاری کا سوچا تھا مگر اس کی قیمت بہت زیادہ ہونے پر انہوں نے اسے نہ خریدنے کا فیصلہ کیا۔