نیب کا کاروباری برادری کے خلاف انکم، سیلز ٹیکس مقدمات شروع نہ کرنے کا اعلان

اپ ڈیٹ 23 اگست 2019

ای میل

چیئرمین نیب سے کاروباری برادری کے وفد نے ملاقات کی—فائل فوٹو: اے پی پی
چیئرمین نیب سے کاروباری برادری کے وفد نے ملاقات کی—فائل فوٹو: اے پی پی

قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے اعلان کیا ہے کہ نیب اب کاروباری برادری کے افراد کے خلاف انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس سے متعلق مقدمات شروع نہیں کرے گا۔

احتساب کے ادارے سے جاری ایک اعلامیے کے مطابق چیئرمین نیب نے وفاق ایوان صنعت و تجارت کے صدر انجینئر دارد خان اچکزئی کی سربراہی میں کاروباری برادری کے ایک اعلیٰ سطح وفد سے نیب ہیڈکوارٹرز می ملاقات کی۔

اس موقع پر نیب چیئرمین نے کہا کہ تاجروں کے خلاف جو مقدمات پہلے سے موجود ہیں انہیں وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو بھیج دیا جائے گا جبکہ حال ہی میں نیب ملتان کی جانب سے فلور ملز مالکان کو جاری ہونے والے نوٹسز کو فوری طور پر معطل کیا جاتا ہے اور وہ خود اس معاملے کو دیکھیں گے۔

مزید پڑھیں: ’حکومت کا نیب قوانین میں ترمیم کا فیصلہ، کابینہ سے منظوری بھی مل گئی‘

جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ نیب انسان اور کاروبار دوست ادارہ ہے اور اس کی اولین ترجیح تاجر برادری کو درپیش مسائل کو حل کرنا ہے۔

دوران خطاب چیئرمین نیب نے ان 'افواہوں' کو مسترد کیا کہ نیب کی کارروائیاں کاروباری برادری کے لیے مسائل پیدا کر رہی ہیں، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ 'بزنس کمیونٹی ملک کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، تاجروں کی خوشحالی سے ہی ملک کی خوشحالی ہے اور نیب اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے ہی اپنا کردار ادا کر رہا ہے'۔

اعلامیے کے مطابق احتساب کے ادارے کے چیئرمین نے تاجروں سے وعدہ کیا کہ 'ہزاروں افراد کو روزگار فراہم کرنے والوں کو ہراساں نہیں کیا جائے گا'، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ نیب 'دوران تفتیش کبھی بھی کسی کی عزت نفس مجروح نہیں کرتا'۔

یہ بھی پڑھیں: نیب قانون میں ترمیم کی جانی چاہیے، سپریم کورٹ

علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ 'تاجر برادری کے مفادات کے تحفظ' کے لیے نیب ہیڈ کوارٹرز میں ایک خصوصی ڈیسک قائم کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ جسٹس (ر) جاوید اقبال کا یہ بیان وفاقی کابینہ کے اس فیصلے کے بعد سامنے آیا، جس میں نیب کے کام کے طریقہ کار میں کچھ تبدیلی کا فیصلہ کیا گیا تھا تاکہ کاروباری سرگرمیوں اور ملک کی گرتی معیشت کی بحالی کے لیے سرمایہ کاری کے لیے 'بے خوف' ماحول فراہم کیا جاسکے۔

اعلامیے میں بتایا گیا کہ ملاقات میں چیئرمین نیب نے مزید کہا کہ احتساب کا ادارہ ان نجی ہاؤسنگ اسکیموں کے مالکان کے خلاف بھی کارروائی کر رہا ہے جو لوگوں کو دھوکا دے کر اربوں روپے لوٹ کر ملک سے فرار ہوگئے ہیں۔