پلاسٹک کی تھیلیاں 100 سال قبل سمندر برد ہونے والے ٹائی ٹینک تک جا پہنچیں

اپ ڈیٹ 23 اگست 2019

ای میل

جہاز کے کمروں کے اندر پلاسٹک بھر چکا ہے، ماہرین—فوٹو: ٹائی ٹینک پروڈکشن
جہاز کے کمروں کے اندر پلاسٹک بھر چکا ہے، ماہرین—فوٹو: ٹائی ٹینک پروڈکشن

آج سے تقریبا 107 سال قبل سمندر میں ڈوب جانے والے دنیا کے پہلے بڑے بحری جہاز کے ملبے کو دیکھنے والی ٹیم کے مطابق ٹائی ٹینک کے ملبے تک پلاسٹک پہنچ گیا ہے اور اس کا ملبہ گل کر ٹکڑے ٹکڑے ہونا شروع ہو چکا ہے۔

خیال رہے کہ دنیا کے سب سے پہلے بڑے اور جدید بحری جہاز کا درجہ رکھنے والے ’آر ایم ایس ٹائی ٹینک‘ 1912 میں بحر اوقیانوس میں کینیڈا کے قریب برفانی تودے سے ٹکرانے کے بعد تباہ ہوا تھا۔

یہ جہاز 882 فٹ لمبا اور 90 فٹ سے زیادہ اونچا تھا اور اس کا وزن 53 ہزار ٹن تھا۔

یہ جہاز 2200 سے زائد مسافروں اور عملے کے ساتھ انگلینڈ کے شہر ساؤتمپن سے امریکی شہر نیویارک کی جانب روانہ ہوا تھا اور اس میں زندگی کو پرتعیش بنانے والے ہر سامان کا بندوبست تھا۔

ٹائی ٹینک کو دنیا کا پہلا پرتعیش جہاز بھی مانا جاتا ہے—فوٹو: بلیو اسٹار لائن
ٹائی ٹینک کو دنیا کا پہلا پرتعیش جہاز بھی مانا جاتا ہے—فوٹو: بلیو اسٹار لائن

یہ جہاز بحر اوقیانوس میں کینیڈا سے 370 میل کی دوری پر برفانی تودے سے ٹکرانے کے بعد سمندر برد ہوا تھا۔

رپورٹس کے مطابق حادثے میں 1500 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے تھے جب کہ جہاز کے مالک سمیت مجموعی طور 700 افراد زندہ بچ جانے میں کامیاب گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: 82 سال قبل لاپتہ ہونے والی پہلی ہوا باز خاتون کو تلاش کرنے کا مشن

جہاز کے مالک کی جانب سے جہاز کو ڈوبتے اور لوگوں کو مرتے ہوئے دیکھ کر بچ نکلنے پر شدید تنقید کا سامنا بنایا گیا اور اس کا سماجی بائیکاٹ بھی کیا گیا اور وہ 1937 میں گوشہ تنہائی میں چل بسے۔

اس جہاز کے کیپٹن کو ہیرو قرار دیا گیا کیوں کہ انہوں نے آخری دم جہاز میں پھنسے مسافروں کو بچایا اور بلاخر وہ بھی سمندر میں ڈوب کر چل بسے۔

جہاز کے ملبے کو پہلی بار 1985 میں ڈھونڈ نکالا گیا تھا—فوٹو: ٹائی ٹینک پروڈکشن
جہاز کے ملبے کو پہلی بار 1985 میں ڈھونڈ نکالا گیا تھا—فوٹو: ٹائی ٹینک پروڈکشن

اس جہاز کا ملبہ حادثے کے 70 سال بعد 1985 میں امریکی نیوی کے سابق افسر اور ماہر اوشنوگرافی رابرٹ بلارڈ نے اپنی ٹیم کے ہمراہ ڈھونڈ نکالا تھا، ان کے ساتھ فرانسیسی ماہر اوشنوگرافی بھی تھے۔

ٹائی ٹینک کے ملبے کو ڈھونڈ نکالنے کے بعد اس پر کئی تحقیقات ہوئیں اور اس پر 1998 میں شہرہ آفاق فلم ’ٹائی ٹینک‘ بھی بنائی گئی جو ایک دہائی تک دنیا کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم بھی رہی۔

ٹائی ٹینک کے ملبے کو دیکھنے اور اس پر تحقیق کرنے کے لیے ماہرین کی ٹیم آخری بار 2005 میں زیر سمندر گئی تھی اور اب 14 برس بعد ماہرین کی ایک اور ٹیم جہاز کے ملبے پر تحقیق کے لیے گئی۔

اب سامنے آنے والی تصاویر میں جہاز کا ملبہ انتہائی خراب میں حالت میں دیکھا جا سکتا ہے—فوٹو: ٹائی ٹینک پروڈکشن
اب سامنے آنے والی تصاویر میں جہاز کا ملبہ انتہائی خراب میں حالت میں دیکھا جا سکتا ہے—فوٹو: ٹائی ٹینک پروڈکشن

اٹلانٹک پروڈکشن نامی امریکی کمپنی کے چیئرمین کی سربراہی میں 5 ماہرین کی ٹیم بحر اوقیانوس کے 4 ہزار فٹ نیچے گئی اور ٹائی ٹینک کے ملبے کا جائزہ لیا۔

کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ نکمین اور ٹھنڈے پانی میں ہونے کی وجہ سے جہاز کا ملبہ آہستہ آہستہ ٹوٹ کر بکھرنے لگا ہے جب کہ ملبے کے اوپر بیکٹیریا، پلاسٹک، سمندری پانی، برف اور نمک کے ملاپ کی تہہ جم چکی ہے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ پر تعیش ٹائی ٹینک کے کئی حصے انتہائی خستہ حال ہو چکے ہیں جب کہ پلاسٹک کی تھیلیوں سمیت مختلف اقسام کا پلاسٹک بھی جہاز کے ملبے میں پھنس چکا ہے۔

جہاز حادثے پر ٹائی ٹینک کے نام سے فلم بھی بنائی جا چکی ہے—اسکرین شاٹ
جہاز حادثے پر ٹائی ٹینک کے نام سے فلم بھی بنائی جا چکی ہے—اسکرین شاٹ