جنوبی وزیرستان: نہر پر پُل کی تعمیر نہ ہونے پر پولیو مہم کا بائیکاٹ

اپ ڈیٹ 24 اگست 2019

ای میل

نہر پر پل موجود نہ ہونے کے باعث بچے اسکول نہیں جاسکتے، قبیلے کے افراد — فائل فوٹو: اے ایف پی
نہر پر پل موجود نہ ہونے کے باعث بچے اسکول نہیں جاسکتے، قبیلے کے افراد — فائل فوٹو: اے ایف پی

لدہ: جنوبی وزیرستان کے گاؤں بنگی والا میں محسود قبائل کی شاخ شمن خیل نے حکومت کی جانب سے گاؤں کے قریب نہر پر پُل تعمیر نہ کرنے پر 26 اگست سے شروع ہونے والی انسداد پولیو مہم کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔

قبیلے کے افراد نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نہر پر پل نہ ہونے کی وجہ سے انہیں سخت اذیت کا سامنا ہے کیونکہ سڑک کے اس پار قائم مارکیٹ اور اسکولوں میں جانے کے لیے انہیں نہر پار کرنی پڑتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب بارش ہوتی ہے تو نہر میں پانی کا بہاؤ بڑھ جاتا ہے جس سے وہ باقی علاقے سے کٹ کر رہ جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لوڈ شیڈنگ کے خاتمے تک پولیو مہم کا بائیکاٹ

قبائلی افراد کا کہنا تھا کہ ان کی حالت زار پر حکومت کی جانب سے بے حسی کے مظاہرے پر وہ پولیو مہم کا بائیکاٹ کریں گے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر نہر پر پل تعمیر کرے۔

اس سلسلے میں ڈان سے بات کرتے ہوئے ایک 24 سالہ نوجوان میراج محسود نے بتایا کہ نہر پر پل موجود نہ ہونے کے باعث بچے اسکول نہیں جاسکتے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کچھ حاملہ خواتین جو علاج کے لیے جانا چاہتی تھیں ان کا انتقال ہی اس وجہ سے ہوا کہ وہ نہر پار نہیں کر سکیں کیونکہ یہ ایک مشکل کام ہے بالخصوص خواتین کے لیے سخت دشوار ہے۔

مزید پڑھیں: باجوڑ متاثرین کا معاوضہ نہ ملنے تک پولیو مہم کا بائیکاٹ

ایک اور شخص گل بادشاہ نے کہا کہ وہ کراچی میں نوکری کرتے تھے لیکن انہیں یہ خوف ہے کہ کہیں ان کے بچے نہر میں ڈوب نہ جائیں، اس لیے وہ نوکری چھوڑ کر گھر میں رہنے پر مجبور ہیں۔

اس حوالے سے علاؤالدین نامی شخص نے بتایا کہ نہر کے اس پار جاتے ہوئے انہیں کھانے پینے کی اشیا کندھوں پر رکھ کر لے جانی پڑتی ہیں جو بارش کی صورت میں مزید دشوار ہوجاتا ہے۔


یہ خبر 24 اگست 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔